SHAWORDS
Jamal Owaisi

Jamal Owaisi

Jamal Owaisi

Jamal Owaisi

poet
5Shayari
15Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

میں نے اپنی موت پہ اک نوحہ لکھا ہے تم کو سناتا ہوں دیکھو کیسا لگتا ہے جسم کو کر ڈالا ہے خواہش کا ہرکارہ چہرے پر مصنوعی وقار سجا رکھا ہے سونی کر ڈالی ہے بستی خواب نگر کی کل تک جو دریا بہتا تھا خشک ہوا ہے ہونٹوں سے زنجیر خموشی باندھ رکھی ہے طاق امید پہ دل کا چراغ بجھا رکھا ہے نیند سے بوجھل پلکوں پر اندیشۂ مٹی کشتیٔ جاں کے ڈوبنے کا لمحہ آیا ہے

main ne apni maut pe ik nauha likkhaa hai

غزل · Ghazal

ہر لمحہ دل دوز خموشی چیخ رہی ہے میں ہوں جہاں تنہائی میری چیخ رہی ہے گھر کے سب دروازے کیوں دیوار ہوئے ہیں گھر سے باہر دنیا ساری چیخ رہی ہے خالی آنکھیں سلگ رہی ہیں خشک ہیں آنسو اندر اندر دل کی اداسی چیخ رہی ہے طوفانوں نے سارے خیمے توڑ دئیے ہیں یوں لگتا ہے ساری خدائی چیخ رہی ہے رات کی چیخوں سے آباد ہوا ہر خطہ کب سے نوید صبح بچاری چیخ رہی ہے کاروبار نہ کرنا لوگو دیکھو دل ہے اک مدت سے روح ہماری چیخ رہی ہے

har lamha dil-doz khamoshi chikh rahi hai

غزل · Ghazal

جانے کیسے لوگ تھے یاد آئے کم جانے کے بعد عیب سارے کھل گئے مرحوم کہلانے کے بعد چاند کا ہالہ مری آنکھوں کا جالا بن گیا کچھ نظر آیا نہ پھر تیرے نظر آنے کے بعد آدمیت کے سبھی پیمانے ہو جاتے ہیں پاش بھوک ایسی جاگتی ہے پیٹ بھر جانے کے بعد اس نے اک اک لفظ کا پیسہ کیا مجھ سے وصول کل کی شب میلاد میں تقریر فرمانے کے بعد میں نے تا حد نظر دیکھا کوئی مونس نہ تھا دوپہر کے وقت برقی موج لہرانے کے بعد

jaane kaise log the yaad aae kam jaane ke baa'd

غزل · Ghazal

جب کبھی شور جہاں ہوتا ہے میرے ہونے کا گماں ہوتا ہے جبر ہے مجھ پہ نظام فطرت مجھ پہ ہر لمحہ گراں ہوتا ہے صبح ہوتی نہیں پہلے جیسی شب گرفتار سماں ہوتا ہے دھند میں کھوتے ہیں منظر سارے پیچ در پیچ دھواں ہوتا ہے شام تا صبح چراغاں کر کے دشت میں نوحۂ جاں ہوتا ہے وقت پھیلاتا ہے دامن اپنا آگ کا دریا رواں ہوتا ہے مجھ کو آزاد کر اے دانش نو دل گرفتار بتاں ہوتا ہے

jab kabhi shor-e-jahaan hotaa hai

غزل · Ghazal

قریب آتے ہوئے اور دور جاتے ہوئے یہ کون لوگ ہیں بے وجہ مسکراتے ہوئے یہ لمحے ساز ازل سے چھلک کے گر گئے تھے تبھی سے یوں ہی مسلسل ہیں گنگناتے ہوئے اک ایسی سمت جدھر کب سے ہو کا عالم ہے میں جا رہا ہوں اکیلا قدم بڑھاتے ہوئے میں کب سے دیکھ رہا ہوں عجیب سی حرکت مرا لکھا ہوا کچھ لوگ ہیں مٹاتے ہوئے جو دل کے پاس تھے ان سے ہے معرکہ درپیش چلا ہوں جذبوں کی دیوار آج ڈھاتے ہوئے

qarib aate hue aur duur jaate hue

غزل · Ghazal

مسجود میرا راہنما کیوں نہیں ہوا تیرا خدا بھی میرا خدا کیوں نہیں ہوا مجھ کو ضمیر ٹوکتا رہتا ہے ہر گھڑی لوگوں کا دل بھی شیشہ نما کیوں نہیں ہوا میں بے دماغ دوست بناتا رہا سدا مجھ پر اثر خشونتوں کا کیوں نہیں ہوا ظاہر پرست لوگ مرے آس پاس ہیں میں بھی انہیں کے جیسا بھلا کیوں نہیں ہوا مرتے ہیں سب تلاش حیات دوام میں تیرا صحیفہ آب بقا کیوں نہیں ہوا بستی کے سارے لوگ جسے پوجتے رہے میرے لئے وہ فرد خدا کیوں نہیں ہوا پھرتا رہا گلی گلی تیری تلاش میں معلوم تیرے گھر کا پتا کیوں نہیں ہوا

masjud meraa raah-numaa kyuun nahin huaa

Similar Poets