gurez-paa hai nayaa raasta kidhar jaaein
chalo ki lauT ke ham apne apne ghar jaaein

Jamal Owaisi
Jamal Owaisi
Jamal Owaisi
Popular Shayari
5 totalmaut bar-haq hai ek din lekin
niind raaton ko khuub aati hai
tanhaai mili mujh ko zarurat se ziyaada
paDhti hain kitaabein mujhe vahshat se ziyaada
jo maang rahe ho vo mire bas mein nahin hai
darkhvaast tumhaari hai zarurat se ziyaada
ghar ke sab darvaaze kyuun divaar hue hain
ghar se baahar duniyaa saari chikh rahi hai
Ghazalغزل
میں نے اپنی موت پہ اک نوحہ لکھا ہے تم کو سناتا ہوں دیکھو کیسا لگتا ہے جسم کو کر ڈالا ہے خواہش کا ہرکارہ چہرے پر مصنوعی وقار سجا رکھا ہے سونی کر ڈالی ہے بستی خواب نگر کی کل تک جو دریا بہتا تھا خشک ہوا ہے ہونٹوں سے زنجیر خموشی باندھ رکھی ہے طاق امید پہ دل کا چراغ بجھا رکھا ہے نیند سے بوجھل پلکوں پر اندیشۂ مٹی کشتیٔ جاں کے ڈوبنے کا لمحہ آیا ہے
main ne apni maut pe ik nauha likkhaa hai
ہر لمحہ دل دوز خموشی چیخ رہی ہے میں ہوں جہاں تنہائی میری چیخ رہی ہے گھر کے سب دروازے کیوں دیوار ہوئے ہیں گھر سے باہر دنیا ساری چیخ رہی ہے خالی آنکھیں سلگ رہی ہیں خشک ہیں آنسو اندر اندر دل کی اداسی چیخ رہی ہے طوفانوں نے سارے خیمے توڑ دئیے ہیں یوں لگتا ہے ساری خدائی چیخ رہی ہے رات کی چیخوں سے آباد ہوا ہر خطہ کب سے نوید صبح بچاری چیخ رہی ہے کاروبار نہ کرنا لوگو دیکھو دل ہے اک مدت سے روح ہماری چیخ رہی ہے
har lamha dil-doz khamoshi chikh rahi hai
جانے کیسے لوگ تھے یاد آئے کم جانے کے بعد عیب سارے کھل گئے مرحوم کہلانے کے بعد چاند کا ہالہ مری آنکھوں کا جالا بن گیا کچھ نظر آیا نہ پھر تیرے نظر آنے کے بعد آدمیت کے سبھی پیمانے ہو جاتے ہیں پاش بھوک ایسی جاگتی ہے پیٹ بھر جانے کے بعد اس نے اک اک لفظ کا پیسہ کیا مجھ سے وصول کل کی شب میلاد میں تقریر فرمانے کے بعد میں نے تا حد نظر دیکھا کوئی مونس نہ تھا دوپہر کے وقت برقی موج لہرانے کے بعد
jaane kaise log the yaad aae kam jaane ke baa'd
جب کبھی شور جہاں ہوتا ہے میرے ہونے کا گماں ہوتا ہے جبر ہے مجھ پہ نظام فطرت مجھ پہ ہر لمحہ گراں ہوتا ہے صبح ہوتی نہیں پہلے جیسی شب گرفتار سماں ہوتا ہے دھند میں کھوتے ہیں منظر سارے پیچ در پیچ دھواں ہوتا ہے شام تا صبح چراغاں کر کے دشت میں نوحۂ جاں ہوتا ہے وقت پھیلاتا ہے دامن اپنا آگ کا دریا رواں ہوتا ہے مجھ کو آزاد کر اے دانش نو دل گرفتار بتاں ہوتا ہے
jab kabhi shor-e-jahaan hotaa hai
قریب آتے ہوئے اور دور جاتے ہوئے یہ کون لوگ ہیں بے وجہ مسکراتے ہوئے یہ لمحے ساز ازل سے چھلک کے گر گئے تھے تبھی سے یوں ہی مسلسل ہیں گنگناتے ہوئے اک ایسی سمت جدھر کب سے ہو کا عالم ہے میں جا رہا ہوں اکیلا قدم بڑھاتے ہوئے میں کب سے دیکھ رہا ہوں عجیب سی حرکت مرا لکھا ہوا کچھ لوگ ہیں مٹاتے ہوئے جو دل کے پاس تھے ان سے ہے معرکہ درپیش چلا ہوں جذبوں کی دیوار آج ڈھاتے ہوئے
qarib aate hue aur duur jaate hue
مسجود میرا راہنما کیوں نہیں ہوا تیرا خدا بھی میرا خدا کیوں نہیں ہوا مجھ کو ضمیر ٹوکتا رہتا ہے ہر گھڑی لوگوں کا دل بھی شیشہ نما کیوں نہیں ہوا میں بے دماغ دوست بناتا رہا سدا مجھ پر اثر خشونتوں کا کیوں نہیں ہوا ظاہر پرست لوگ مرے آس پاس ہیں میں بھی انہیں کے جیسا بھلا کیوں نہیں ہوا مرتے ہیں سب تلاش حیات دوام میں تیرا صحیفہ آب بقا کیوں نہیں ہوا بستی کے سارے لوگ جسے پوجتے رہے میرے لئے وہ فرد خدا کیوں نہیں ہوا پھرتا رہا گلی گلی تیری تلاش میں معلوم تیرے گھر کا پتا کیوں نہیں ہوا
masjud meraa raah-numaa kyuun nahin huaa





