us ko pataa nahin hai khizaan ke mizaaj kaa
vo vaaqif-e-bahaar huaa hai abhi abhi

Jan Kashmiri
Jan Kashmiri
Jan Kashmiri
Popular Shayari
3 totaldoston aur dushmanon mein kis tarah tafriq ho
doston aur dushmanon ki be-rukhi hai ek si
tire firaaq ke sadme qubul hain lekin
jafaa ke baa'd chale to vafaa kaa daur chale
Ghazalغزل
محبتوں کے پلے کیسے نفرتوں میں ڈھلے یہ سوچ سوچ کے ہم شہر تیرا چھوڑ چلے اسی خیال سے کرتا نہیں پر افشانی مرے پروں کی رگڑ سے کہیں فلک نہ جلے یہ کہہ رہی تھی حسینہ تماش بینوں سے جو آپ لوگ ہیں اچھے تو ہم برے ہی بھلے حیات و موت کہانی ہے سائبانوں کی کبھی فلک کے تلے ہم کبھی زمیں کے تلے ترے فراق کے صدمے قبول ہیں لیکن جفا کے بعد چلے تو وفا کا دور چلے یہ جانشین قمر میری دسترس میں نہیں دیے کی موج ہے بجھ کر جلے جلے نہ جلے عجب طریق سے اترا وصال کا لمحہ پڑے ہیں جان کے لالے لگا کے اس کو گلے
mohabbaton ke pale kaise nafraton mein Dhale
عکس گھٹتے بڑھتے ہیں شیشہ گری ہے ایک سی سوچ کے عدسے جدا ہیں روشنی ہے ایک سی زندگی کرتے ہیں انساں مختلف انداز میں گو کہ سب کی دسترس میں زندگی ہے ایک سی دوستوں اور دشمنوں میں کس طرح تفریق ہو دوستوں اور دشمنوں کی بے رخی ہے ایک سی سوچ کا مفلوج ہونا سانحے سے کم نہیں ان گنت شاعر ہیں لیکن شاعری ہے ایک سی سب دلوں میں جا گزیں ہیں غم کے قصے ایک سے سب جبینوں پر رقم بے رونقی ہے ایک سی جانؔ یہ ثابت ہوا ہے تجربے کی آنچ پر دشمنی ہے سو طرح کی دوستی ہے ایک سی
aks ghaTte baDhte hain shishagari hai ek si
طوفان سے ٹکرانا اس کا تو وطیرہ ہے دل اشکوں کے قلزم میں چھوٹا سا جزیرہ ہے احساس نزاکت کی کیوں موت نہ واقع ہو ہر پھول کے آنگن میں کانٹوں کا ذخیرہ ہے درزوں کی لطافت میں خوشبو نے اماں پائی گل چیرنے والے نے کس شان سے چیرہ ہے منہ زور اجالے سے بہتر تھی شب تیرہ اب دل بھی پریشاں ہے اور آنکھ بھی خیرہ ہے ہر پھول کی صورت میں شاخوں پہ جما خوں ہے یہ صحن چمن کیا ہے زخموں کا ذخیرہ ہے مہتاب سے چہروں کے بے سود نظارے ہیں جب قلب کی دنیا میں چھائی شب تیرہ ہے الفاظ کے تیشے سے اے جانؔ تراش اس کو پتھر کے لبادے میں پوشیدہ جو ہیرا ہے
tufaan se Takraanaa us kaa to vatira hai
بچہ بنا ہوا ہے بغاوت کے بعد بھی نادم نہیں ہے کوئی شرارت کے بعد بھی تانا برستی آگ میں کاغذ کا سائباں جل بجھ گئے ہیں لوگ حفاظت کے بعد بھی منزل پہ جا کے پاؤں کے چھالے ابل پڑے ہم کو سکوں ملا نہ مسافت کے بعد بھی سورج کی روشنی بھی نہ دل میں اتر سکی ٹھنڈک رہی بدن میں تمازت کے بعد بھی ہوتے ہی شام یورش خلوت نے آ لیا مصروف ہو گیا میں فراغت کے بعد بھی جو کچھ کہا گیا اسے مانے نہیں ہیں ہم باغی رہا ہے ذہن حراست کے بعد بھی اب پھر اسی کے نام پہ بیکل ہوا ہے جانؔ دل میں وہی تڑپ ہے عداوت کے بعد بھی
bachcha banaa huaa hai baghaavat ke baad bhi
دبا جو راکھ کی تہہ میں شرر نہ ختم ہوا بھڑک اٹھے گا دباؤ اگر نہ ختم ہوا لرز رہے ہیں مسافر کے رونگٹے اب تک پناہ گہہ میں بھی لٹنے کا ڈر نہ ختم ہوا ملیں جو راہ میں دیکھیں نہ آنکھ بھر کر ہم گھٹا ہے ربط مگر اس قدر نہ ختم ہوا رچا ہوا ہے تجسس کا سم فضاؤں میں عجب فسانہ تھا انجام پر نہ ختم ہوا ہر ایک سمت سے پھوٹ آئی ہیں نئی شاخیں تنے کے کٹنے سے نام شجر نہ ختم ہوا اٹھا کے دوست مجھے چل دئے ہیں کاندھوں پر حیات ختم ہوئی پر سفر نہ ختم ہوا فصیل جبر میں دیکھے اسی کے سپنے جانؔ کسی بھی حال میں ذوق نظر نہ ختم ہوا
dabaa jo raakh ki tah mein sharar na khatm huaa
کیا غرض اس سے کسی کو کتنا ہے دلگیر کون دیکھنا ہے یہ پہن کر مر گیا زنجیر کون لوگ شرماتے ہیں کیوں سر پر اسے رکھتے ہوئے لے گیا ہے چھین کر دستار کی توقیر کون پیٹ کی مجبوریاں فن کار تک بھی آ گئیں ورنہ دلبر کی بنا کر بیچتا تصویر کون میری آنکھوں کے دریچے خون میں تر ہو گئے خون میں تر خواب کی بتلائے گا تعبیر کون اس فرشتوں کے جہاں میں صرف میں انسان ہوں ہوتا پھر میرے علاوہ قائل تقصیر کون ہر کسی کو دسترس ہے گردش ایام تک موت کے اندھے سفر کی کھینچتا تصویر کون کس کو فرصت ہے یہاں خود احتسابی کے لئے دیکھتا ہے جانؔ اپنی آنکھ کا شہتیر کون
kyaa gharaz is se kisi ko kitnaa hai dil-gir kaun





