"lamha lamha roz sanvarne vaala tu lamha lamha lamha roz bikharne vaala main"

Javed Akram Farooqi
Javed Akram Farooqi
Javed Akram Farooqi
Sherشعر
lamha lamha roz sanvarne vaala tu
لمحہ لمحہ روز سنورنے والا تو لمحہ لمحہ لمحہ روز بکھرنے والا میں
ai khak-e-vatan ab to vafaon ka sila de
اے خاک وطن اب تو وفاؤں کا صلا دے میں ٹوٹتی سانسوں کی فصیلوں پہ کھڑا ہوں
muskurane ki saza milti rahi
مسکرانے کی سزا ملتی رہی مسکرانے کی خطا کرتے رہے
kitna mushkil hua javab mujhe
کتنا مشکل ہوا جواب مجھے کتنا آسان تھا سوال اس کا
safar men tum hamare saath rahna
سفر میں تم ہمارے ساتھ رہنا کہیں ہم راستوں میں کھو نہ جائیں
main hathon men khanjar le kar soch raha huun
میں ہاتھوں میں خنجر لے کر سوچ رہا ہوں لوٹوں گا تو میرا بھی گھر زخمی ہوگا
Popular Sher & Shayari
12 total"ai khak-e-vatan ab to vafaon ka sila de main TuTti sanson ki fasilon pe khaDa huun"
"muskurane ki saza milti rahi muskurane ki khata karte rahe"
"kitna mushkil hua javab mujhe kitna asan tha saval us ka"
"safar men tum hamare saath rahna kahin ham raston men kho na jaa.en"
"main hathon men khanjar le kar soch raha huun lauTunga to mera bhi ghar zakhmi hoga"
safar mein tum hamaare saath rahnaa
kahin ham raaston mein kho na jaaein
muskuraane ki sazaa milti rahi
muskuraane ki khataa karte rahe
kitnaa mushkil huaa javaab mujhe
kitnaa aasaan thaa savaal us kaa
lamha lamha roz sanvarne vaalaa tu
lamha lamha lamha roz bikharne vaalaa main
main haathon mein khanjar le kar soch rahaa huun
lauTungaa to meraa bhi ghar zakhmi hogaa
ai khaak-e-vatan ab to vafaaon kaa silaa de
main TuTti saanson ki fasilon pe khaDaa huun
Ghazalغزل
qatl hone khud hi qaatil ke makaan tak aa gae
قتل ہونے خود ہی قاتل کے مکاں تک آ گئے زندگی کی جستجو میں ہم کہاں تک آ گئے میں نے کچھ مانگا نہیں تیرے سوا اللہ سے اک دعا کے بدلے ساتوں آسماں تک آ گئے ہم زباں رکھتے ہوئے بھی بے زباں ہیں شہر میں کپکپاتے لفظ گونگی داستاں تک آ گئے مسکراتی چاندنی کا جسم نیلا ہو گیا دھوپ کے زہریلے پاؤں سائباں تک آ گئے کم سے کم دستار تو رہنے دے سر پر مفلسی گھر کے سارے راز بچوں کی زباں تک آ گئے اب بزرگوں کی نصیحت یاد آتی ہے ہمیں پھول چنتے چنتے شہر سخت جاں تک آ گئے مسکراتی بھوک اور آنسو بھری آنکھیں لئے لوٹ کر مزدور مغرب کی اذاں تک آ گئے میرے ہاتھوں میں ابھی تک دوستی کا لمس ہے دوستوں کے ہاتھ میں تیر و کماں تک آ گئے
phulon ko chhune se nashtar zakhmi hogaa
پھولوں کو چھونے سے نشتر زخمی ہوگا اب کے سر میں لگ کر پتھر زخمی ہوگا کافی دن کے بعد سفر سے لوٹا ہوں میں جسم تھکن سے چور ہے بستر زخمی ہوگا موسم کے چہرے کی شکنیں کہتی ہیں آنکھیں ہوں گی یا پھر منظر زخمی ہوگا موجیں دریا کے سینے پر کیا لکھتی ہیں سوچا تو میں اندر اندر زخمی ہوگا برگ گل پر سورج کے نیزے مت رکھو بھولی بھالی تتلی کا پر زخمی ہوگا آنکھوں کی بستی میں جب بازار سجے گا کچے سپنوں کا سوداگر زخمی ہوگا میں ہاتھوں میں خنجر لے کر سوچ رہا ہوں لوٹوں گا تو میرا بھی گھر زخمی ہوگا
sahar hi aai na vo shaahid-e-sahar aayaa
سحر ہی آئی نہ وہ شاہد سحر آیا غبار شب کا مسافر ہی میرے گھر آیا تھکن کی دھوپ ڈھلی بھی نہیں تھی سر سے ابھی عذاب حکم سفر مجھ پہ پھر اتر آیا دیا جلاتے ہوئے ہاتھ کانپتے کیوں ہیں کہاں سے خوف بدن میں ہوا کا در آیا یہ لمحہ لمحہ بکھرتی ہوئی انا کا وجود نہ یہ زمین نہ وہ آسماں نظر آیا ردا رہی نہ بدن پر کوئی قبا شاداب یہ کون دھوپ میں دیکھو برہنہ سر آیا بدن تمام ہوا ہے لہو لہان مرا نئی رتوں کا مسافر بہ چشم تر آیا بہت عزیز ہے اپنے وطن کی خاک ہمیں جو خواب آنکھوں میں آیا وہ معتبر آیا
lahraa rahe hain shaakhon pe parcham bahaar ke
لہرا رہے ہیں شاخوں پہ پرچم بہار کے رکھے ہیں تتلیوں نے ابھی غم اتار کے خوابوں کے پھول پلکوں کی دہلیز پر نہ رکھ مرجھا نہ جائیں دھوپ میں موسم وقار کے ہر پل ہیں زندگی کے تقاضے نئے نئے لگنے لگے ہیں خود کو بھی اب ہم ادھار کے بستی میں آج بھی مری چولھے نہیں جلے زندہ ہے پھر بھی صبح شب غم گزار کے گم ہو گیا ہے اجنبی چہروں میں اپنا پن خاموش ہو گئے مجھے محرم پکار کے زخموں کی خشک کیاریاں شاداب ہو گئیں کتنے کرم ہیں مجھ پہ مرے غم گسار کے بے چینی بے قراری ہمیں راس آ گئی لمحے تھے زندگی میں بہت کم قرار کے
phuul se lahje mein talvaar kahaan se aai
پھول سے لہجے میں تلوار کہاں سے آئی تجھ میں یہ جرأت انکار کہاں سے آئی میں تو سمجھا تھا کہ تھک جاؤں گا چلتے چلتے میرے قدموں میں یہ رفتار کہاں سے آئی یہ تو سب ماں کی دعاؤں کا اثر ہے ورنہ گردش وقت طرفدار کہاں سے آئی کھولیاں زخمی پرندوں کی طرح سے تڑپیں ٹوٹتی رات میں یہ کار کہاں سے آئی میں تو پردیس میں رہتا ہوں مرے بھائی بتا میرے آنگن میں یہ دیوار کہاں آئی گر گئی ہے تو یہ احساس ہے ننگے سر ہوں سوچتا ہوں کہ یہ دستار کہاں سے آئی بنت افلاس نے ٹھکرا دیا شہزادۂ زر اس قبیلے میں یہ خود دار کہاں سے آئی
yaqin se bhi gae ehtimaal se bhi gae
یقین سے بھی گئے احتمال سے بھی گئے ہم اپنے عہد میں خواب و خیال سے بھی گئے دعا کے ہاتھ کٹے خواہشوں کے دل ٹوٹے جواب سے بھی گئے ہم سوال سے بھی گئے تمام لوگ خدا ترس ہوتے جاتے ہیں امیر شہر عروج و زوال سے بھی گئے کسے یقین دلائیں کہ ہم بھی زندہ ہیں انا کے زخمی خدا اندمال سے بھی گئے بہت ہی مہنگا پڑا ان کو شوق ہم سفری پلٹ کے آئے تو خود اپنی چال سے بھی گئے جنوں ہے زینت تہذیب محفل یاراں امین ہوش و خرد عرض حال سے بھی گئے ہمارا ذکر ہے دیمک زدہ کتابوں میں ہم اہل علم و ہنر تھے مثال سے بھی گئے بدن کو توڑ رہی ہے نئی رتوں کی تھکن یہ کرب ہجر کے لمحے وصال سے بھی گئے پلٹ کے جانے کی ہمت مہاجروں میں نہ تھی وطن سے بھی گئے اہل و عیال سے بھی گئے ہمارے دوست صف دشمناں میں شامل ہیں ہم ایسے سادہ مزاج اپنی ڈھال سے بھی گئے





