tanur-e-vaqt ki hiddat se Dar gae ham bhi
magar tapish mein tape to nikhar gae ham bhi
Kausar Siwani
Kausar Siwani
Kausar Siwani
Popular Shayari
8 totalsamundar ki tarah vusat ho jis mein
vo qatra bahr hai qatra nahin hai
zindagi kuchh to bharam rakh le vafaadaari kaa
tujh ko mar mar ke shab-o-roz sanvaaraa hai bahut
main to qaabil na thaa un ke didaar ke
un ki chaukhaT pe meri khataa le gai
harifon ki taraf-daari se apnaa-pan kaa dam TuuTaa
baDhi kuchh aur jab duuri to qurbat kaa bharam TuuTaa
jo toD doge mujhe tum bhi TuuT jaaoge
ki irtibaat-e-salaasil ki ik kaDi huun main
hamein jo fikr ki daavat na de sake 'kausar'
vo sher sher to hai ruh-e-shaaeri to nahin
kyaa dil ki pyaas thi ki bujhaai na jaa saki
baadal nichoD ke na samundar taraash ke
Ghazalغزل
چھائی ہے قیامت کی گھٹا دیکھیے کیا ہو برسے تو برسنے کی ادا دیکھیے کیا ہو کھل کھل کے سبھی پھول تو مسرور ہیں لیکن مسموم ہے گلشن کی فضا دیکھیے کیا ہو پھر جوش میں ہیں آج مرے مد مقابل ہے میری وفا ان کی جفا دیکھیے کیا ہو سر جوڑ کے بیٹھے ہیں سبھی صلح کی خاطر ہیں ان کے خیالات جدا دیکھیے کیا ہو طوفان حوادث میں جلانے تو چلا ہوں اک مہر و اخوت کا دیا دیکھیے کیا ہو حق بات بھی ارباب عدالت کو کھلی ہے اظہار حقیقت کی سزا دیکھیے کیا ہو صحرائے تجسس میں تلاش اپنی ہے کوثرؔ کچھ یاد نہیں اپنا پتا دیکھیے کیا ہو
chhaai hai qayaamat ki ghaTaa dekhiye kyaa ho
کھل گیا عقدۂ ہستی تو کفن مانگ لیا زیست نے موت سے جینے کا چلن مانگ لیا پھوٹ کر سینۂ کہسار سے بہنے کے لیے چشمۂ آب نے دامان دمن مانگ لیا کیا تعجب ہے اگر مانگ لی چہرے سے نقاب دور حاضر نے تو پیراہن تن مانگ لیا بن گیا حلقۂ ظلمت جو پڑا عکس زمیں چاند نے خود تو نہیں بڑھ کے گہن مانگ لیا جس کی آغوش میں ماضی کی امانت تھی نہاں اس نے مانگا تو وہی قصر کہن مانگ لیا جلنے والوں نے بھی شہناز غزل سے کوثرؔ حسن فن مانگ لیا رنگ سخن مانگ لیا
khul gayaa uqda-e-hasti to kafan maang liyaa
موت کو زیست کی منزل کا پتا کہتے ہیں رہرو عشق فنا کو بھی بقا کہتے ہیں اہل وحشت کا نہ کچھ پوچھیے کیا کہتے ہیں وہ تو اپنا بھی کہا ان کا کہا کہتے ہیں ان کے کردار کی عظمت کو بھلا کیا کہیے اتنے اچھے ہیں کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں قید گفتار بھی ہے بندش رفتار بھی ہے ایسے ماحول کو زندان بلا کہتے ہیں بے صدا بربط خاموش کو کہنے والو سننے والے تو خموشی کو صدا کہتے ہیں جو گھٹا چھا کے نہ برسے وہ گھٹا کیا ہے گھٹا ہاں اگر ٹوٹ کے برسے تو گھٹا کہتے ہیں اہل حق دیکھ کے آئینۂ ہستی کوثرؔ عکس کا حال جو کہتے ہیں بجا کہتے ہیں
maut ko ziist ki manzil kaa pataa kahte hain
دب گئی کیوں مری آواز کہو تو کہہ دوں اس بھری بزم میں وہ راز کہو تو کہہ دوں میرے نغموں کو سر بزم ترسنے والو بے صدا کیوں ہے مرا ساز کہو تو کہہ دوں اپنے محسن کا بھی احسان بھلانے والے کس نے بخشا تمہیں اعزاز کہو تو کہہ دوں کیسے غیروں کو ملا گوشۂ پنہاں کا سراغ کون نگراں تھا دغاباز کہو تو کہہ دوں جب تمہیں اپنی غرض تھی تو ملا دی تم نے کس کی آواز میں آواز کہو تو کہہ دوں جسم انکار پہ اقرار کا رہتا ہے لباس ان کی گفتار کا انداز کہو تو کہہ دوں مجھ میں کوثرؔ تھی نہاں طاقت پرواز مگر کس نے کاٹے پر پرواز کہو تو کہہ دوں
dab gai kyuun miri aavaaz kaho to kah duun
وہ تجھ کو توڑ کے مثل حباب کر دے گا ترا غرور تجھے آب آب کر دے گا ٹھہر سکے گی کہاں شبنمی گہر کی چمک بس اک نظر میں فنا آفتاب کر دے گا کبھی تو پھیلے گی باغ حیات میں خوشبو گلاب کھل کے فضا کو گلاب کر دے گا رخ فریب پہ ٹھہرے گی کیا نقاب فریب ترا فریب تجھے بے نقاب کر دے گا نہ راس آئے گی تعبیر خواب مستقبل یہ وقت خواب کے منظر کو خواب کر دے گا دکھا کے چہرۂ ماضی کے خد و خال تجھے سوال دور رواں لا جواب کر دے گا جہاں کو دے گی جو کوثرؔ پیام امن و اماں ادیب وقت رقم وہ کتاب کر دے گا
vo tujh ko toD ke misl-e-habaab kar degaa
ساحل پہ کیا ہے بحر کے اندر تلاش کر گہرائیوں میں ڈوب کے گوہر تلاش کر جس میں حیات بخش نظارا دکھائی دے گلزار زندگی میں وہ منظر تلاش کر دیتے ہیں اب صدا تجھے مریخ و ماہتاب کیا کیا ہیں ان کی گود میں جا کر تلاش کر مٹ جائے جس کے نور سے ظلمت حیات کی ایسا کوئی چراغ منور تلاش کر طوفان بحر زیست میں کشتی نہ غرق ہو اے ناخدا پناہ کا لنگر تلاش کر جس دائرے میں دوڑ لگاتا رہا ہے تو اس دائرے کے دور کا محور تلاش کر کوثرؔ ہو تجھ کو خود سے جو ملنے کی آرزو اپنے کو اپنے آپ میں کھو کر تلاش کر
saahil pe kyaa hai bahar ke andar talaash kar





