vo kyaa zindagi jis mein joshish nahin
vo kyaa aarzu jis mein kaavish nahin

Krishna Mohan
Krishna Mohan
Krishna Mohan
Popular Shayari
9 totalzindagi ke aakhiri lamhe khushi se bhar gayaa
ek din itnaa hansaa vo hanste hanste mar gayaa
kirshn 'mohan' ye bhi hai kaisaa akelaa-pan ki log
maut se Darte hain main to zindagi se Dar gayaa
jab bhi ki tahrir apni daastaan
teri hi tasvir ho kar rah gai
jab bhi mile vo naa-gahaan jhuum uThe hain qalb o jaan
milne mein lutf hai agar milnaa ho kaam ke baghair
bhaTak ke raah se ham sab ko aazmaa aae
fareb de gae jitne bhi rahnumaa aae
makaan andar se khasta ho gayaa hai
aur is mein ek rasta ho gayaa hai
dil ek sadiyon puraanaa udaas mandir hai
umiid tarsaa huaa pyaar dev-daasi kaa
karein to kis se karein zikr-e-khaanaa-viraani
ki ham to aag nasheman ko khud lagaa aae
Ghazalغزل
دل کی رکھنا دیکھ بھال اے دلبر رنگیں جمال ہے بہت نازک یہ شیشہ اس میں آ جائے نہ بال آرزو مندی میں بھی مشکل پسندی کا جنوں دل اسی کو چاہتا ہے جس کا ملنا ہے محال اک فقیر بے نوا نے مجھ کو سمجھایا یہ راز درد کی دولت کے آگے ہیچ ہیں مال و منال اپنی کم ظرفی کا غم ہے اور کوئی غم نہیں دل سے تیرا غم نہ سنبھلا مجھ کو ہے بس یہ ملال اتنی خالی بھی نہیں دنیا خلوص قلب سے آ ہی جاتے ہیں نظر ہم ایسے مخلص خال خال کرشن موہنؔ طبع پر طاری ہے ایسی بے حسی عشق ہے جی کا زیاں اور حسن ہے جاں کا وبال
dil ki rakhnaa dekh bhaal ai dil-bar-e-rangin-jamaal
ملا ایک گونہ سکوں ہمیں جو تمہارے ہجر میں رو لیے ذرا بار قلب سبک ہوا کئی داغ درد کے دھو لیے ہو نشاط دل کہ ملال دل ہمیں پیش کرنا جمال دل کبھی ہنس کے پھول کھلا لیے کبھی روکے موتی پرو لیے ہے رہین غم مری جستجو یہ ہے کیسا گلشن رنگ و بو یہاں کچھ گلو کی تلاش میں کئی خار میں نے چبھو لیے کئی عمر دوڑتے بھاگتے رہے یوں تو شب کو بھی جاگتے کبھی تھک گئے تو ٹھہر گئے کبھی نیند آئی تو سو لئے سبھی لوگ مست شعور ہیں کہ خودی کے نشے میں چور ہیں کوئی غم شناس نہیں یہاں غم دل کسی پہ نہ کھولیے یہ انہیں کا نور ہے جس میں ہم چلے حوصلے سے قدم قدم جو سرشک غم کے بہا لیے جو دیے وفا کے سنجو لیے
milaa ek guuna sukun hamein jo tumhaare hijr mein ro liye
مدھم ہو گئے اپنے سپنے بے دم ہو گئیں اپنی تلاشیں ویراں دل میں دفن ہیں کتنی رنگیں امیدوں کی لاشیں پیہم اپنے اشک بہے ہیں دل نے کیا کیا جور سہے ہیں آفات ناگاہ کے چرکے لوگوں کے طعنوں کی خراشیں ہر جا ذکر مری نکہت کا ہر جا محرومی کا چرچا دنیا میں بدنام ہوئی ہیں قسمت سے میری پرخاشیں حسن کا جوش نہ عشق کی گرمی محو ہوئے سارے ہنگامے بے جاں مردہ سرد فسردہ زیست کے لمحے برف کی قاشیں کس نے میری بپتا رد کی کس نے میرا ہاتھ ہٹایا اب کیوں سب اپنے بیگانے طعنے دیں الزام تراشیں
maddham ho gae apne sapne be-dam ho gaiin apni talaashein
یاس و غم میں اے ملن کی آس کے آنسو چمک عقل کی ظلمت میں اے احساس کے جگنو چمک دل رہین یاس ہے محسوس ہوتی ہیں اداس چاندنی شوخی حیا شبنم ادا خوشبو چمک پھیکی پھیکی بے مزہ بے نور سی ہے زندگی عقل کی شوخی دمک اے حسن کے جادو چمک اپنی چنچلتا سے میرے پیار کو چمکا گئی تیرے البیلے نشیلے روپ کی دلجو چمک ہار کر تدبیر نے تقدیر سے کہہ ہی دیا مان بھی جا مَیں تو چمکی ہوں بہت اب تو چمک زندگی میں ہو کبھی تو کوئی ہنگامہ بپا جذبۂ آوارہ و شوخ دل یکسو چمک ایسے چمکاتا ہے قلب زار کو تیرا خیال جیسے دشت تیرہ کو دے دیدۂ آہو چمک چیرنا ہے بے حسی کی گہری ظلمت کو تجھے اور ابھی اس طور سے اے دشنۂ ابرو چمک تیرے تیور زیور احساس ہیں الماس ہیں یاد کے کہرے میں سوز و کاوش پہلو چمک اے فسون راز جلوت ساز اے خلوت نواز پیار کی آواز پائے ناز کے گھنگھرو چمک کرشن موہنؔ کے دکھی من پر اندھیرا چھا گیا روپ کی دھوپ اے برہ کے درد کی دارو چمک
yaas-o-gham mein ai milan ki aas ke aansu chamak
اے اسیر یاس کثرت کی ہے تجھ کو احتیاج خوب صورت عورتوں کا قرب ہے تیرا علاج کیسی مشکل میں ہے دنیا دار انساں کیا کرے اک طرف خواہش کی شدت اک طرف ہے لوک لاج دوستو اس حال میں جینا پڑے گا کب تلک ذہن و دل پر ایک مدت سے ہے مایوسی کا راج ہم تو اس کو مانتے ہیں جانتے ہیں اس کو مرد جو کہ دشمن سے بھی لے توصیف و تحسیں کا خراج کرشن موہنؔ حدت غم سے پھنکا ہے تن بدن اور میرے حال پر ہنستا ہے یہ ظالم سماج
ai asir-e-yaas kasrat ki hai tujh ko ehtiyaaj
سرد عورت سے ملن کا سادھن اپنا اپمان ہے کرشنا موہنؔ روپ مطلع کو دیا مقطع کا کتنی معکوس ہے یہ طرز سخن اس کا سب زہر پیا ہے میں نے میرا چنتن کہ ہے امرت منتھن پھول چننے کے لیے نکلے تھے خار ہی پائے ہیں گلشن گلشن دوستی اپنی ہے رنج و غم سے اور خوشیوں سے رہی ہے ان بن دل کو سلگاتا رہا ہے برسوں میرے اشکوں کا سلگتا ساون گو نظر آتا ہے چہرہ بے داغ سچ نہیں بولتا دھندلا درپن میرے افکار میں کچھ سنبھلا ہے آرزؤں کا مچلتا جوبن سوچتا من ہے چتا چنتا کی ہو گیا ایک مرن اب جیون من کی شکتی ہے سپیرن جس سے کھیلتی رہتی ہے چنتا سانپن
sard aurat se milan kaa saadhan





