SHAWORDS
Lutf

Lutf

Lutf

Lutf

poet
10Shayari
21Ghazal

Popular Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

سنگ طفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلا ہم تو جس شہر گئے شہر تمہارا نکلا کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا جانے مدت پہ تری یاد کدھر سے آئی راکھ کے ڈھیر میں پوشیدہ شرارا نکلا دل پہ کیا جانے گزر جاتی ہے کیا پچھلے پہر اوس ٹپکی تو کہیں صبح کا تارہ نکلا جاتے جاتے دیا اس طرح دلاسا اس نے بیچ دریا میں کوئی جیسے کنارہ نکلا کوئی صحرا کا حوالہ نہ سمندر کی مثال جو بھی ڈوبا ہے جہاں دوست ہمارا نکلا بوالہوس ضد میں سہی دار و رسن سے گزرا اب پشیماں ہے کہ سودا یہ خسارہ نکلا

sang-e-tiflaan kaa hadaf jism hamaaraa niklaa

1 views

غزل · Ghazal

آئی تو کہیں کوئی قیامت نہیں اب کے اس شہر میں اک سر بھی سلامت نہیں اب کے یوں خیمۂ گل خاک ہوا فصل جنوں میں پھولوں پہ کوئی رنگ ملاحت نہیں اب کے کیا جانیے کس دشت کا پیوند ہوا ہے اک شخص سر کوئے ملامت نہیں اب کے اب ٹوٹ کے صحرا میں بکھرنے کی ہوس ہے اک گوشۂ دامن پہ قناعت نہیں اب کے ہاں اب نہ رہی دار و رسن سے کوئی نسبت ہاں پیش نظر وہ قد و قامت نہیں اب کے وہ زخم ملے دل کو سر منزل قربت اک دشمن جاں سے بھی شکایت نہیں اب کے خود اس نے کیا فیصلۂ ترک تعلق خود مجھ سے مرے دل کو ندامت نہیں اب کے

aai to kahin koi qayaamat nahin ab ke

غزل · Ghazal

عبارت سے ورق عاری رہے گا مگر لکھنا مرا جاری رہے گا ازل کی صبح سے شام ابد تک نشہ مجھ پہ تو یہ طاری رہے گا خدائی ہے تو ہے کوئی خدا بھی نہ ہو شاعر تو کب قاری رہے گا جو ناز کج کلاہی سے ہے غافل وہی فن کار درباری رہے گا محبت کرنے والوں کا جہاں سے عجب اک رشتۂ خواری رہے گا بندھی ہے جس کے سر دستار شاہی وہ صوفی جنس بازاری رہے گا

ibaarat se varaq aari rahegaa

غزل · Ghazal

عجیب دشت ہے نقش پس سفر بھی نہیں یہاں سے آگے کہیں کوئی رہگزر بھی نہیں بجاؤ طبل کہ پرچم لہو کا لہراؤں خود اپنی زد پہ ہوں اور صورت مفر بھی نہیں یہی کہ کرتا رہوں خود کو میں مسلسل رد مرے بچاؤ کی اب صورت دگر بھی نہیں میں اس ہجوم سے کٹ کر چلا تو آؤں مگر قریب و دور کوئی راہ مختصر بھی نہیں دیار سنگ کو دے دو پتہ مرے گھر کا تمام شہر میں اب کوئی شیشہ گر بھی نہیں

'ajib dasht hai naqsh-e-pas-e-safar bhi nahin

غزل · Ghazal

ردائے ابر نہیں خیمۂ غبار نہیں مرا سفر کسی پہلو سے سازگار نہیں تنی ہوئی ہے دھنک کی طرح لہو کی کماں لگا وہ تیر جو منظر کے آر پار نہیں ہماری راہ سے لشکر غموں کے گزرے ہیں ہمارے جسم پہ زخموں کا کچھ شمار نہیں کھلی ہوئی ہے زمستاں کی دھوپ آنگن میں چلے بھی آؤ کہ موسم کا اعتبار نہیں کچھ اور دیر جلائے رکھو لہو کے چراغ خلیج شب ہے یہ صحرائے بے کنار نہیں ہماری خاک کو رکھ کر ہوا کے رستے میں دیا ہے غم بھی اک ایسا جو پائیدار نہیں

ridaa-e-abr nahin khema-e-ghubaar nahin

غزل · Ghazal

میں دور ہو کے بھی اس سے کبھی جدا نہ ہوا کہ اس کے بعد کسی کا بھی آشنا نہ ہوا تمام عمر مرا مجھ سے اختلاف رہا گلہ نہ کر جو کبھی تیرا ہم نوا نہ ہوا وہ جاتے جاتے دلاسے بھی دے گیا کیا کیا یہ اور بات کہ پھر اس سے رابطہ نہ ہوا ہزار شکر سلامت ہے میرا سر اب بھی ہزار دشمن جاں سے بھی دوستانہ ہوا ذرا سی چوٹ پہ جھنکار گونج اٹھتی ہے کہ ساز ٹوٹ گیا پھر بھی بے صدا نہ ہوا کچھ اتنا سہل نہیں تھا ضمیر کا سودا بلا سے میں کبھی اہل قبا ہوا نہ ہوا عجب ہے یادوں کی بہتی ہوئی یہ خشک ندی لہو کو آنکھ سے ٹپکے ہوئے زمانہ ہوا

main duur ho ke bhi us se kabhi judaa na huaa

Similar Poets