"koi rasta kahin jaa.e to janen badalne ke liye raste bahut hain"

Mahboob Khizan
Mahboob Khizan
Mahboob Khizan
Sherشعر
See all 25 →koi rasta kahin jaa.e to janen
کوئی رستہ کہیں جائے تو جانیں بدلنے کے لیے رستے بہت ہیں
haa.e phir fasl-e-bahar aa.i 'khizan'
ہائے پھر فصل بہار آئی خزاںؔ کبھی مرنا کبھی جینا ہے محال
tumhen khayal nahin kis tarah bata.en tumhen
تمہیں خیال نہیں کس طرح بتائیں تمہیں کہ سانس چلتی ہے لیکن اداس چلتی ہے
miri nigah men kuchh aur DhunDne vaale
مری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈنے والے تری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈتا ہوں میں
dekho duniya hai dil hai
دیکھو دنیا ہے دل ہے اپنی اپنی منزل ہے
tumhare vaste sab kuchh hai mere banda-navaz
تمہارے واسطے سب کچھ ہے میرے بندہ نواز مگر یہ شرط کہ پہلے پسند آؤ مجھے
Popular Sher & Shayari
50 total"haa.e phir fasl-e-bahar aa.i 'khizan' kabhi marna kabhi jiina hai muhal"
"tumhen khayal nahin kis tarah bata.en tumhen ki saans chalti hai lekin udaas chalti hai"
"miri nigah men kuchh aur DhunDne vaale tiri nigah men kuchh aur DhunDta huun main"
"dekho duniya hai dil hai apni apni manzil hai"
"tumhare vaste sab kuchh hai mere banda-navaz magar ye shart ki pahle pasand aao mujhe"
koi rasta kahin jaae to jaanein
badalne ke liye raste bahut hain
ek mohabbat kaafi hai
baaqi umr izaafi hai
tumhein khayaal nahin kis tarah bataaein tumhein
ki saans chalti hai lekin udaas chalti hai
miri nigaah mein kuchh aur DhunDne vaale
tiri nigaah mein kuchh aur DhunDtaa huun main
dekho duniyaa hai dil hai
apni apni manzil hai
haae phir fasl-e-bahaar aai 'khizaan'
kabhi marnaa kabhi jiinaa hai muhaal
Ghazalغزل
mohabbat ko gale kaa haar bhi karte nahin bantaa
محبت کو گلے کا ہار بھی کرتے نہیں بنتا کچھ ایسی بات ہے انکار بھی کرتے نہیں بنتا خلوص ناز کی توہین بھی دیکھی نہیں جاتی شعور حسن کو بیدار بھی کرتے نہیں بنتا تجھے اب کیا کہیں اے مہرباں اپنا ہی رونا ہے کہ ساری زندگی ایثار بھی کرتے نہیں بنتا ستم دیکھو کہ اس بے درد سے اپنی لڑائی ہے جسے شرمندۂ پیکار بھی کرتے نہیں بنتا ادا رنجیدگی پروانگی آنسو بھری آنکھیں اب اتنی سادگی کیا پیار بھی کرتے نہیں بنتا جوانی مہربانی حسن بھی اچھی مصیبت ہے اسے اچھا اسے بیمار بھی کرتے نہیں بنتا بھنور سے جی بھی گھبراتا ہے لیکن کیا کیا جائے طواف موج کم رفتار بھی کرتے نہیں بنتا اسی دل کو بھری دنیا کے جھگڑے جھیلنے ٹھہرے یہی دل جس کو دنیا دار بھی کرتے نہیں بنتا جلاتی ہے دلوں کو سرد مہری بھی زمانے کی سوال گرمیٔ بازار بھی کرتے نہیں بنتا خزاںؔ ان کی توجہ ایسی نا ممکن نہیں لیکن ذرا سی بات پر اصرار بھی کرتے نہیں بنتا
sambhaalne se tabiat kahaan sambhalti hai
سنبھالنے سے طبیعت کہاں سنبھلتی ہے وہ بے کسی ہے کہ دنیا رگوں میں چلتی ہے یہ سرد مہر اجالا یہ جیتی جاگتی رات ترے خیال سے تصویر ماہ جلتی ہے وہ چال ہو کہ بدن ہو کمان جیسی کشش قدم سے گھات ادا سے ادا نکلتی ہے تمہیں خیال نہیں کس طرح بتائیں تمہیں کہ سانس چلتی ہے لیکن اداس چلتی ہے تمہارے شہر کا انصاف ہے عجب انصاف ادھر نگاہ ادھر زندگی بدلتی ہے بکھر گئے مجھے سانچے میں ڈھالنے والے یہاں تو ذات بھی سانچے سمیت ڈھلتی ہے خزاں ہے حاصل ہنگامۂ بہار خزاںؔ بہار پھولتی ہے کائنات پھلتی ہے
'khizaan' mein khubiyaan aaise bahut hain
خزاںؔ میں خوبیاں ایسے بہت ہیں خرابی ایک ہے بنتے بہت ہیں کوئی رستہ کہیں جائے تو جانیں بدلنے کے لیے رستے بہت ہیں نئی دنیا کے سندر بن کے اندر پرانے وقت کے پودے بہت ہیں ہوئے جب سے زمانے بھر کے ہمراہ ہم اپنے ساتھ بھی تھوڑے بہت ہیں لگاوٹ ہے ستاروں سے پرانی رقابت ہے مگر ملتے بہت ہیں بہت ہوگا تو یہ سوچو گے شاید کہ ہم بھی تھے یہاں جیسے بہت ہیں ہے سب صورت کا چکر، خواب معنی دکھائے ہیں بہت دیکھے بہت ہیں جسارت دل میں کیا ہو فن میں کیا ہو ملازم پیشہ ہیں ڈرتے بہت ہیں کسی سے کیوں الجھتے کیا الجھتے یہ دھاگے خود بہ خود الجھے بہت ہیں تھکن چاروں طرف ہے چلتے جاؤ پہنچتا کون ہے چلتے بہت ہیں خفا ہم سے نہ ہو اے چشم جاناں ہم اس انداز پر مرتے بہت ہیں کہو یہ بھی خزاںؔ کہنے سے پہلے جو کہتے کچھ نہیں کہتے بہت ہیں
ye jo ham kabhi kabhi sochte hain raat ko
یہ جو ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں رات کو رات کیا سمجھ سکے ان معاملات کو حسن اور نجات میں فصل مشرقین ہے کون چاہتا نہیں حسن کو نجات کو یہ سکون بے جہت یہ کشش عجیب ہے تجھ میں بند کر دیا کس نے شش جہات کو ساحل خیال پر کہکشاں کی چھوٹ تھی ایک موج لے گئی ان تجلیات کو آنکھ جب اٹھے بھر آئے شعر اب کہا نہ جائے کیسے بھول جائے وہ بھولنے کی بات کو دیکھ اے میری نگاہ تو بھی ہے جہاں بھی ہے کس نے با خبر کیا دوسرے کی ذات کو کیا اے میری نگاہ تو بھی ہے جہاں بھی ہے کس نے با خبر کہا دوسرے کی ذات کو کیا ہوئیں روایتیں اب ہیں کیوں شکایتیں عشق نامراد سے حسن بے ثبات کو اے بہار سر گراں تو خزاں نصیب ہے اور ہم ترس گئے تیرے التفات کو
husn se haT ke mohabbat ki nazar jaae kahaan
حسن سے ہٹ کے محبت کی نظر جائے کہاں کوئی منزل نہ ملے راہ گزر جائے کہاں تم بہت دور ہو ہم بھی کوئی نزدیک نہیں دل کا کیا ٹھیک ہے کم بخت ٹھہر جائے کہاں دیکھیے خواب سحر چاٹیے دیوار ازل رات جاتی نظر آتی ہے مگر جائے کہاں رخ صحرا ہے خزاںؔ گھر کی طرف مدت سے ہم جو صحرا کی طرف جائیں تو گھر جائے کہاں
khvaab se parda karo dekho mat
خواب سے پردہ کرو دیکھو مت اب اگر دیکھ سکو دیکھو مت گرتے شہتیروں کے جنگل ہیں یہ شہر چپ رہو چلتے رہو دیکھو مت جھوٹ سچ دونوں ہی آئینے ہیں اس طرف کوئی نہ ہو دیکھو مت حسن کیا ایک چمن اک کہرام تیز و آہستہ چلو دیکھو مت پنکھڑی ایک پرت اور پرت کیوں بکھیڑے میں پڑھو دیکھو مت ہر کلی ایک بھنور اک بادل کھیل میں کھیل نہ ہو دیکھو مت یہ پرانی یہ انوکھی خوشبو کچھ دن آوارہ پھرو دیکھو مت ہر طرف دیکھنے والی آنکھیں ان کے سائے سے بچو دیکھو مت کم لباسی ہو گلہ یا اصرار بے خبر جیسے رہو دیکھو مت عافیت اس میں ہے غافل گزرو مت نگاہوں سے گرو دیکھو مت کینچلی ہٹ گئی زندہ ریشم پھر یہ کہتا ہے ہٹو دیکھو مت دیکھتے دیکھتے منظر ہے کچھ اور دھول آنکھوں میں بھرو دیکھو مت سطح کے نیچے ہے کیا جانے کون لہر کی لے پہ بڑھو دیکھو مت ایک ہی جل ہے یہاں مایا جل پیاس کے جال بنو دیکھو مت





