SHAWORDS
Mahesh Chandra Naqsh

Mahesh Chandra Naqsh

Mahesh Chandra Naqsh

Mahesh Chandra Naqsh

poet
25Sher
25Shayari
24Ghazal

Sherشعر

See all 25

Popular Sher & Shayari

50 total

Ghazalغزل

See all 24
غزل · Ghazal

zindagi kaa banaa sahaaraa bhi

زندگی کا بنا سہارا بھی اور ان کے کرم نے مارا بھی عشق ہی پھر پلٹ کے آ نہ سکا حسن مغرور نے پکارا بھی کون ڈوبا جو یوں پشیماں ہے موج طوفاں بھی تیز دھارا بھی ہم نہ دنیا کی راہ پر چلتے دل کو ہوتا اگر گوارا بھی عمر بھر تیرگی سے کھیلے ہے کوئی ہنستا ہوا ستارا بھی پھول روتے ہیں خار ہنستے ہیں دیکھ! گلشن کا یہ نظارا بھی دل کی دنیا تو جگمگا اٹھے نقشؔ بھڑکے کوئی شرارا بھی

غزل · Ghazal

aaj to us ne yuun dekhaa hai

آج تو اس نے یوں دیکھا ہے جیسے مجھ کو بھول گیا ہے کلیاں کھل کر پھول بنی ہیں کس کا آنچل لہرایا ہے ان کو اب میرے غم کا شاید کچھ احساس ہوا ہے سامنے ان کے کھویا کھویا سوچ رہا ہوں کیا کہنا ہے رخ پہ بہاریں جھوم رہی ہیں آنکھ میں نشہ ڈول رہا ہے ارمانوں کے خون سے میں نے مانگ میں تیری رنگ بھرا ہے نقشؔ غزل یہ کس نے چھیڑی ذرہ ذرہ جھوم رہا ہے

غزل · Ghazal

fareb-e-raah se ghaafil nahin hai

فریب راہ سے غافل نہیں ہے جنوں گم کردۂ منزل نہیں ہے مری ناکامیوں پر ہنسنے والے ترے پہلو میں شاید دل نہیں ہے خدا کو نا خدا کہنے لگا ہوں سفینہ طالب ساحل نہیں ہے تری بزم طرب میں آ گیا ہوں مگر دل کو سکوں حاصل نہیں ہے ارے اس کی نگاہ بے خبر بھی مرے انجام سے غافل نہیں ہے مرے ذوق سفر کا پوچھنا کیا نگاہوں میں مری منزل نہیں ہے بہ فیض عشق کرب مرگ سے نقشؔ گزر جانا کوئی مشکل نہیں ہے

غزل · Ghazal

ab kyaa kahein kisi se ye apni zabaan se ham

اب کیا کہیں کسی سے یہ اپنی زباں سے ہم بے زار ہو چکے ہیں فریب جہاں سے ہم نظارۂ جمال کا عالم عجیب تھا مدہوش و بے خبر تھے وہاں بے زباں سے ہم اب حال اضطراب طبیعت نہ پوچھیے تڑپے ہیں عمر بھر ترے درد نہاں سے ہم یہ زور برق و باد یہ طوفان الاماں محروم ہو نہ جائیں کہیں آشیاں سے ہم جن کی مہک سے روح پہ طاری ہے بے خودی وہ پھول چن رہے ہیں ترے گلستاں سے ہم تعمیر نو ہے پردۂ تخریب میں نہاں سمجھے ہیں راز دہر یہ دور جہاں سے ہم منزل پہ ہو رہی ہیں قیامت کی شورشیں غافل پڑے ہوئے ہیں مگر کارواں سے ہم ناصح! خیال ترک محبت سے فائدہ واقف نہیں ہیں کیا الم جاوداں سے ہم اے نقشؔ مختصر یہ حقیقت ہے موت کی پھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم

غزل · Ghazal

hai aafat-e-jaan husn ki shokhi bhi adaa bhi

ہے آفت جاں حسن کی شوخی بھی ادا بھی ہونٹوں پہ تبسم بھی ہے نظروں میں حیا بھی شامل تری آواز میں تاروں کی نوا بھی شرمندہ ترے نور سے کرنوں کی ضیا بھی محفل ہے کہ مطرب کے اشاروں پہ مٹی ہے سنتا ہے کوئی ساز شکستہ کی صدا بھی رکھتا ہے بغاوت کے شرارے بھی نظر میں یہ عشق جو ہے پیکر تسلیم و رضا بھی رخ پھیر دیا تند ہواؤں کا کسی نے حالات سے اپنے کوئی مجبور رہا بھی بچ کر ہی چلے ہم تو زمانے کی روش سے آزاد روی کا ہمیں احساس ہوا بھی اکثر لب لعلیں کے تبسم کی کرن نے امید کے خاکوں میں نیا رنگ بھرا بھی اے نقشؔ کریں سوز تمنا کا بیاں کیا سو بار دیا دل کا جلا بھی ہے بجھا بھی

غزل · Ghazal

sach to ye hai ki tamannaaon ki jaan hoti hai

سچ تو یہ ہے کہ تمناؤں کی جاں ہوتی ہے وہی اک بات جو حیرت میں نہاں ہوتی ہے حال کہہ دیتے ہیں نازک سے اشارے اکثر کتنی خاموش نگاہوں کی زباں ہوتی ہے میرے احساس و تفکر میں سلگتی ہے جو آگ وہی مظلوم کے اشکوں میں نہاں ہوتی ہے ہائے وہ وقت کہ جب ان کی حسیں آنکھوں سے ایک پر کیف تجلی سی عیاں ہوتی ہے لوگ کہتے ہیں جسے حسن ادا کی شوخی یہی رنگین اشاروں کا بیاں ہوتی ہے کتنی پیاری ہے وہ معصوم تمنا اے دوست جو تذبذب کی فضاؤں میں جواں ہوتی ہے

Similar Poets