"bahut dushvar thi rah-e-mohabbat hamara saath dete ham-safar kya"

Mahesh Chandra Naqsh
Mahesh Chandra Naqsh
Mahesh Chandra Naqsh
Sherشعر
See all 25 →bahut dushvar thi rah-e-mohabbat
بہت دشوار تھی راہ محبت ہمارا ساتھ دیتے ہم سفر کیا
tiri bazm-e-tarab men aa gaya huun
تری بزم طرب میں آ گیا ہوں مگر دل کو سکوں حاصل نہیں ہے
zindagi ka bana sahara bhi
زندگی کا بنا سہارا بھی اور ان کے کرم نے مارا بھی
un mast nigahon ne khud apna bharam khola
ان مست نگاہوں نے خود اپنا بھرم کھولا انکار کے پردے میں اقرار نظر آئے
is Dubte suraj se to ummid hi kya thi
اس ڈوبتے سورج سے تو امید ہی کیا تھی ہنس ہنس کے ستاروں نے بھی دل توڑ دیا ہے
kaun samjhe ham pe kya guzri hai 'naqsh'
کون سمجھے ہم پہ کیا گزری ہے نقشؔ دل لرز اٹھتا ہے ذکر شام سے
Popular Sher & Shayari
50 total"tiri bazm-e-tarab men aa gaya huun magar dil ko sukun hasil nahin hai"
"zindagi ka bana sahara bhi aur un ke karam ne maara bhi"
"un mast nigahon ne khud apna bharam khola inkar ke parde men iqrar nazar aa.e"
"is Dubte suraj se to ummid hi kya thi hans hans ke sitaron ne bhi dil toD diya hai"
"kaun samjhe ham pe kya guzri hai 'naqsh' dil laraz uThta hai zikr-e-sham se"
bahut dushvaar thi raah-e-mohabbat
hamaaraa saath dete ham-safar kyaa
haal kah dete hain naazuk se ishaare akasr
kitni khaamosh nigaahon ki zabaan hoti hai
khud-shanaasi thi justuju teri
tujh ko DhunDaa to aap ko paayaa
un ke gesu sanvarte jaate hain
haadse hain guzarte jaate hain
shaam-e-hijraan bhi ik qayaamat thi
aap aae to mujh ko yaad aayaa
kaun samjhe ham pe kyaa guzri hai 'naqsh'
dil laraz uThtaa hai zikr-e-shaam se
Ghazalغزل
zindagi kaa banaa sahaaraa bhi
زندگی کا بنا سہارا بھی اور ان کے کرم نے مارا بھی عشق ہی پھر پلٹ کے آ نہ سکا حسن مغرور نے پکارا بھی کون ڈوبا جو یوں پشیماں ہے موج طوفاں بھی تیز دھارا بھی ہم نہ دنیا کی راہ پر چلتے دل کو ہوتا اگر گوارا بھی عمر بھر تیرگی سے کھیلے ہے کوئی ہنستا ہوا ستارا بھی پھول روتے ہیں خار ہنستے ہیں دیکھ! گلشن کا یہ نظارا بھی دل کی دنیا تو جگمگا اٹھے نقشؔ بھڑکے کوئی شرارا بھی
aaj to us ne yuun dekhaa hai
آج تو اس نے یوں دیکھا ہے جیسے مجھ کو بھول گیا ہے کلیاں کھل کر پھول بنی ہیں کس کا آنچل لہرایا ہے ان کو اب میرے غم کا شاید کچھ احساس ہوا ہے سامنے ان کے کھویا کھویا سوچ رہا ہوں کیا کہنا ہے رخ پہ بہاریں جھوم رہی ہیں آنکھ میں نشہ ڈول رہا ہے ارمانوں کے خون سے میں نے مانگ میں تیری رنگ بھرا ہے نقشؔ غزل یہ کس نے چھیڑی ذرہ ذرہ جھوم رہا ہے
fareb-e-raah se ghaafil nahin hai
فریب راہ سے غافل نہیں ہے جنوں گم کردۂ منزل نہیں ہے مری ناکامیوں پر ہنسنے والے ترے پہلو میں شاید دل نہیں ہے خدا کو نا خدا کہنے لگا ہوں سفینہ طالب ساحل نہیں ہے تری بزم طرب میں آ گیا ہوں مگر دل کو سکوں حاصل نہیں ہے ارے اس کی نگاہ بے خبر بھی مرے انجام سے غافل نہیں ہے مرے ذوق سفر کا پوچھنا کیا نگاہوں میں مری منزل نہیں ہے بہ فیض عشق کرب مرگ سے نقشؔ گزر جانا کوئی مشکل نہیں ہے
ab kyaa kahein kisi se ye apni zabaan se ham
اب کیا کہیں کسی سے یہ اپنی زباں سے ہم بے زار ہو چکے ہیں فریب جہاں سے ہم نظارۂ جمال کا عالم عجیب تھا مدہوش و بے خبر تھے وہاں بے زباں سے ہم اب حال اضطراب طبیعت نہ پوچھیے تڑپے ہیں عمر بھر ترے درد نہاں سے ہم یہ زور برق و باد یہ طوفان الاماں محروم ہو نہ جائیں کہیں آشیاں سے ہم جن کی مہک سے روح پہ طاری ہے بے خودی وہ پھول چن رہے ہیں ترے گلستاں سے ہم تعمیر نو ہے پردۂ تخریب میں نہاں سمجھے ہیں راز دہر یہ دور جہاں سے ہم منزل پہ ہو رہی ہیں قیامت کی شورشیں غافل پڑے ہوئے ہیں مگر کارواں سے ہم ناصح! خیال ترک محبت سے فائدہ واقف نہیں ہیں کیا الم جاوداں سے ہم اے نقشؔ مختصر یہ حقیقت ہے موت کی پھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم
hai aafat-e-jaan husn ki shokhi bhi adaa bhi
ہے آفت جاں حسن کی شوخی بھی ادا بھی ہونٹوں پہ تبسم بھی ہے نظروں میں حیا بھی شامل تری آواز میں تاروں کی نوا بھی شرمندہ ترے نور سے کرنوں کی ضیا بھی محفل ہے کہ مطرب کے اشاروں پہ مٹی ہے سنتا ہے کوئی ساز شکستہ کی صدا بھی رکھتا ہے بغاوت کے شرارے بھی نظر میں یہ عشق جو ہے پیکر تسلیم و رضا بھی رخ پھیر دیا تند ہواؤں کا کسی نے حالات سے اپنے کوئی مجبور رہا بھی بچ کر ہی چلے ہم تو زمانے کی روش سے آزاد روی کا ہمیں احساس ہوا بھی اکثر لب لعلیں کے تبسم کی کرن نے امید کے خاکوں میں نیا رنگ بھرا بھی اے نقشؔ کریں سوز تمنا کا بیاں کیا سو بار دیا دل کا جلا بھی ہے بجھا بھی
sach to ye hai ki tamannaaon ki jaan hoti hai
سچ تو یہ ہے کہ تمناؤں کی جاں ہوتی ہے وہی اک بات جو حیرت میں نہاں ہوتی ہے حال کہہ دیتے ہیں نازک سے اشارے اکثر کتنی خاموش نگاہوں کی زباں ہوتی ہے میرے احساس و تفکر میں سلگتی ہے جو آگ وہی مظلوم کے اشکوں میں نہاں ہوتی ہے ہائے وہ وقت کہ جب ان کی حسیں آنکھوں سے ایک پر کیف تجلی سی عیاں ہوتی ہے لوگ کہتے ہیں جسے حسن ادا کی شوخی یہی رنگین اشاروں کا بیاں ہوتی ہے کتنی پیاری ہے وہ معصوم تمنا اے دوست جو تذبذب کی فضاؤں میں جواں ہوتی ہے





