SHAWORDS
Makhmoor Saeedi

Makhmoor Saeedi

Makhmoor Saeedi

Makhmoor Saeedi

poet
21Sher
21Shayari
36Ghazal

Sherشعر

See all 21

Popular Sher & Shayari

42 total

Ghazalغزل

See all 36
غزل · Ghazal

kasak puraane zamaane ki saath laayaa hai

کسک پرانے زمانے کی ساتھ لایا ہے ترا خیال کہ برسوں کے بعد آیا ہے کسی نے کیوں مرے قدموں تلے بچھایا ہے وہ راستہ کہ کہیں دھوپ ہے نہ سایا ہے ڈگر ڈگر وہی گلیاں چلی ہیں ساتھ مرے قدم قدم پہ ترا شہر یاد آیا ہے بتا رہی ہے یہ شدت اجاڑ موسم کی شگفت گل کا زمانہ قریب آیا ہے ہوائے شب سے کہو آئے پھر بجھانے کو چراغ ہم نے سر شام پھر جلایا ہے کہو یہ ڈوبتے تاروں سے دو گھڑی رک جائیں نشان گم شدگاں مدتوں میں پایا ہے بس اب یہ پیاس کا صحرا عبور کر جاؤ ندی نے پھر تمہیں اپنی طرف بلایا ہے فسون خواب تماشا کہ ٹوٹتا جائے میں سو رہا تھا یہ کس نے مجھے جگایا ہے سلگ اٹھے ہیں شرارے بدن میں کیوں مخمورؔ خنک ہوا نے جو بڑھ کر گلے لگایا ہے

غزل · Ghazal

vo daur-e-nashaat-o-dida-o-dil jaise bas abhi guzraa hi to hai

وہ دور نشاط دیدہ و دل جیسے بس ابھی گزرا ہی تو ہے سینے کی کسک کس طرح مٹے ہر داغ کہن تازہ ہی تو ہے تو ساتھ کہاں لیکن اب تک ہر رہ گزر تنہائی پر جو آگے آگے چلتا ہے اے دوست کوئی تجھ سا ہی تو ہے اس طائر آوارہ کے لیے یوں جال نہ بن امیدوں کے اڑتا ہوا لمحہ جیسے ابھی روکے سے ترے رکتا ہی تو ہے معلوم نہیں کس وقت یہ کیا برتاؤ کسی سے کرتی ہے دنیا سے کوئی امید نہ رکھ مایوس نہ ہو دنیا ہی تو ہے کرنیں نئے دن کے سورج کی پھیلیں گی تو گم ہو جائے گا تاریک ہے جس سے دل کا افق گزری شب کا سایا ہی تو ہے لمحوں کے ہجوم گریزاں میں اک لمحہ جسے اپنا کہئے جاں دے کے بھی ہاتھ آ جائے اگر مہنگا کب ہے سستا ہی تو ہے مخمورؔ تعاقب کر دیکھو کچھ دور نہیں ہاتھ آ جائے اک گم شدہ خوشبو کا جھونکا آنگن سے ابھی گزرا ہی تو ہے

غزل · Ghazal

jaada-e-marg-e-musalsal se guzartaa jaaun

جادۂ مرگ مسلسل سے گزرتا جاؤں زندگی یہ ہے کہ ہر سانس میں مرتا جاؤں خون ہر لمحۂ موجود کا کرتا جاؤں رنگ تصویر‌ شب و روز میں بھرتا جاؤں منتشر سلسلۂ غم کو تو کرتا جاؤں ساتھ ہی ساتھ مگر خود بھی بکھرتا جاؤں بس یوں ہی ہمسریٔ اہل جہاں ممکن ہے دم بہ دم اپنی بلندی سے اترتا جاؤں میں کسی منزل ہستی پہ کہاں رکتا تھا راہ میں تم جو نہ مل جاؤ گزرتا جاؤں عمر بھر جادۂ‌ پر خار پہ چلنا ہوگا دو گھڑی سایۂ گل میں بھی ٹھہرتا جاؤں اپنی قسمت ہوں الجھتا ہی چلا جاتا ہوں تیری تقدیر نہیں ہوں کہ سنورتا جاؤں مد و جزر یم احساس کا پروردہ ہوں ڈوبتا جاؤں مگر خود ہی ابھرتا جاؤں آ ہی نکلا ہوں جو یادوں کے کھنڈر تک مخمورؔ بھولے بسروں سے ملاقات بھی کرتا جاؤں

غزل · Ghazal

labon pe hai jo tabassum to aankh pur-nam hai

لبوں پہ ہے جو تبسم تو آنکھ پر نم ہے شعور غم کا یہ عالم عجیب عالم ہے گزر نہ جادۂ امکاں سے بے خیالی میں یہیں کہیں تری جنت یہیں جہنم ہے بھٹک رہا ہے دل امروز کے اندھیروں میں نشان منزل فردا بہت ہی مبہم ہے بڑھا دیا ہے اسیروں کی خستہ حالی نے قفس سے تا بہ چمن ورنہ فاصلہ کم ہے ابھی نہیں کسی عالم میں دل ٹھہرنے کا ابھی نظر میں تری انجمن کا عالم ہے کہاں یہ زندگی ہرزہ گرد لے آئی نہ رہ گزار طرب ہے نہ جادۂ غم ہے کچھ ایسے ہم نے ترے غم کی پرورش کی ہے کہ جیسے مقصد ہستی فقط ترا غم ہے

غزل · Ghazal

laala-o-gul kaa jahaan raas kab aayaa hai mujhe

لالہ و گل کا جہاں راس کب آیا ہے مجھے ان نظاروں نے بہت خون رلایا ہے مجھے وقت نے جب کوئی آئینہ دکھایا ہے مجھے کیا بھیانک مرا چہرہ نظر آیا ہے مجھے تلخیٔ مرگ رگ و پے میں اترتی جائے زندگی تو نے یہ کیا زہر پلایا ہے مجھے چلتے چلتے یوںہی تھک کر کہیں سو جاؤں گا دشت غربت کی کڑی دھوپ ہی سایا ہے مجھے زندگی نے مری دم سادھ لیا ہے جیسے جب تری یاد میں کھویا ہوا پایا ہے مجھے افق دل پہ نظر آتی ہے کھو جاتی ہے ایک پرچھائیں نے دیوانہ بنایا ہے مجھے گھر سے نکلا ہوں تو اب پوچھ رہا ہوں خود سے جا رہا ہوں میں کہاں کس نے بلایا ہے مجھے کوئی ہوگا جو مری راہ تکے گا شاید اک یہی وہم یہاں کھینچ کے لایا ہے مجھے صرف اک خواب تھا میں اپنے زمانے کے لیے جس نے پایا ہے مجھے اس نے گنوایا ہے مجھے دو ستاروں کی ملاقات کا وحشی نغمہ بے صدا رات نے پھر آج سنایا ہے مجھے خواب اس کے کبھی ہو جائیں نہ ویراں مخمورؔ اس نے کیوں اپنے خیالوں میں بسایا ہے مجھے

غزل · Ghazal

jab koi shaam-e-hasin nazr-e-kharaabaat hui

جب کوئی شام حسیں نذر خرابات ہوئی اکثر ایسے میں ترے غم سے ملاقات ہوئی آپ اپنے کو نہ پہچان سکے ہم تا دیر ان سے بچھڑے تو عجب صورت حالات ہوئی حسن سے نبھ نہ نہ سکی وضع کرم آخر تک اول اول تو محبت کی مدارات ہوئی روز مے پی ہے تمہیں یاد کیا ہے لیکن آج تم یاد نہ آئے یہ نئی بات ہوئی اس نے آواز میں آواز ملا دی تھی کبھی آج تک ختم نہ موسیقئ جذبات ہوئی دل پہ اک غم کی گھٹا چھائی ہوئی تھی کب سے آج ان سے جو ملے ٹوٹ کے برسات ہوئی کس کی پرچھائیں پڑی کون ادھر سے گزرا اتنی رنگیں جو گزر گاہ خیالات ہوئی ان سے امید ملاقات کے بعد اے مخمورؔ مدتوں تک نہ خود اپنے سے ملاقات ہوئی

Similar Poets