"maslahat ke hazar parde hain mere chehre pe kitne chehre hain"

Makhmoor Saeedi
Makhmoor Saeedi
Makhmoor Saeedi
Sherشعر
See all 21 →maslahat ke hazar parde hain
مصلحت کے ہزار پردے ہیں میرے چہرے پہ کتنے چہرے ہیں
ghar men raha tha kaun ki rukhsat kare hamen
گھر میں رہا تھا کون کہ رخصت کرے ہمیں چوکھٹ کو الوداع کہا اور چل پڑے
main us ke va.ade ka ab bhi yaqin karta huun
میں اس کے وعدے کا اب بھی یقین کرتا ہوں ہزار بار جسے آزما لیا میں نے
buton ko pujne valon ko kyuun ilzam dete ho
بتوں کو پوجنے والوں کو کیوں الزام دیتے ہو ڈرو اس سے کہ جس نے ان کو اس قابل بنایا ہے
surkhiyan khuun men Duubi hain sab akhbaron ki
سرخیاں خون میں ڈوبی ہیں سب اخباروں کی آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے
ho jaa.e jahan shaam vahin un ka basera
ہو جائے جہاں شام وہیں ان کا بسیرا آوارہ پرندوں کے ٹھکانے نہیں ہوتے
Popular Sher & Shayari
42 total"ghar men raha tha kaun ki rukhsat kare hamen chaukhaT ko alvida.a kaha aur chal paDe"
"main us ke va.ade ka ab bhi yaqin karta huun hazar baar jise aazma liya main ne"
"buton ko pujne valon ko kyuun ilzam dete ho Daro us se ki jis ne un ko is qabil banaya hai"
"surkhiyan khuun men Duubi hain sab akhbaron ki aaj ke din koi akhbar na dekha jaa.e"
"ho jaa.e jahan shaam vahin un ka basera avara parindon ke Thikane nahin hote"
ghar mein rahaa thaa kaun ki rukhsat kare hamein
chaukhaT ko alvidaaa kahaa aur chal paDe
buton ko pujne vaalon ko kyuun ilzaam dete ho
Daro us se ki jis ne un ko is qaabil banaayaa hai
surkhiyaan khuun mein Duubi hain sab akhbaaron ki
aaj ke din koi akhbaar na dekhaa jaae
muddaton baad ham kisi se mile
yuun lagaa jaise zindagi se mile
rakht-e-safar jo paas hamaare na thaa to kyaa
shauq-e-safar ko saath liyaa aur chal paDe
ho jaae jahaan shaam vahin un kaa baseraa
aavaara parindon ke Thikaane nahin hote
Ghazalغزل
kasak puraane zamaane ki saath laayaa hai
کسک پرانے زمانے کی ساتھ لایا ہے ترا خیال کہ برسوں کے بعد آیا ہے کسی نے کیوں مرے قدموں تلے بچھایا ہے وہ راستہ کہ کہیں دھوپ ہے نہ سایا ہے ڈگر ڈگر وہی گلیاں چلی ہیں ساتھ مرے قدم قدم پہ ترا شہر یاد آیا ہے بتا رہی ہے یہ شدت اجاڑ موسم کی شگفت گل کا زمانہ قریب آیا ہے ہوائے شب سے کہو آئے پھر بجھانے کو چراغ ہم نے سر شام پھر جلایا ہے کہو یہ ڈوبتے تاروں سے دو گھڑی رک جائیں نشان گم شدگاں مدتوں میں پایا ہے بس اب یہ پیاس کا صحرا عبور کر جاؤ ندی نے پھر تمہیں اپنی طرف بلایا ہے فسون خواب تماشا کہ ٹوٹتا جائے میں سو رہا تھا یہ کس نے مجھے جگایا ہے سلگ اٹھے ہیں شرارے بدن میں کیوں مخمورؔ خنک ہوا نے جو بڑھ کر گلے لگایا ہے
vo daur-e-nashaat-o-dida-o-dil jaise bas abhi guzraa hi to hai
وہ دور نشاط دیدہ و دل جیسے بس ابھی گزرا ہی تو ہے سینے کی کسک کس طرح مٹے ہر داغ کہن تازہ ہی تو ہے تو ساتھ کہاں لیکن اب تک ہر رہ گزر تنہائی پر جو آگے آگے چلتا ہے اے دوست کوئی تجھ سا ہی تو ہے اس طائر آوارہ کے لیے یوں جال نہ بن امیدوں کے اڑتا ہوا لمحہ جیسے ابھی روکے سے ترے رکتا ہی تو ہے معلوم نہیں کس وقت یہ کیا برتاؤ کسی سے کرتی ہے دنیا سے کوئی امید نہ رکھ مایوس نہ ہو دنیا ہی تو ہے کرنیں نئے دن کے سورج کی پھیلیں گی تو گم ہو جائے گا تاریک ہے جس سے دل کا افق گزری شب کا سایا ہی تو ہے لمحوں کے ہجوم گریزاں میں اک لمحہ جسے اپنا کہئے جاں دے کے بھی ہاتھ آ جائے اگر مہنگا کب ہے سستا ہی تو ہے مخمورؔ تعاقب کر دیکھو کچھ دور نہیں ہاتھ آ جائے اک گم شدہ خوشبو کا جھونکا آنگن سے ابھی گزرا ہی تو ہے
jaada-e-marg-e-musalsal se guzartaa jaaun
جادۂ مرگ مسلسل سے گزرتا جاؤں زندگی یہ ہے کہ ہر سانس میں مرتا جاؤں خون ہر لمحۂ موجود کا کرتا جاؤں رنگ تصویر شب و روز میں بھرتا جاؤں منتشر سلسلۂ غم کو تو کرتا جاؤں ساتھ ہی ساتھ مگر خود بھی بکھرتا جاؤں بس یوں ہی ہمسریٔ اہل جہاں ممکن ہے دم بہ دم اپنی بلندی سے اترتا جاؤں میں کسی منزل ہستی پہ کہاں رکتا تھا راہ میں تم جو نہ مل جاؤ گزرتا جاؤں عمر بھر جادۂ پر خار پہ چلنا ہوگا دو گھڑی سایۂ گل میں بھی ٹھہرتا جاؤں اپنی قسمت ہوں الجھتا ہی چلا جاتا ہوں تیری تقدیر نہیں ہوں کہ سنورتا جاؤں مد و جزر یم احساس کا پروردہ ہوں ڈوبتا جاؤں مگر خود ہی ابھرتا جاؤں آ ہی نکلا ہوں جو یادوں کے کھنڈر تک مخمورؔ بھولے بسروں سے ملاقات بھی کرتا جاؤں
labon pe hai jo tabassum to aankh pur-nam hai
لبوں پہ ہے جو تبسم تو آنکھ پر نم ہے شعور غم کا یہ عالم عجیب عالم ہے گزر نہ جادۂ امکاں سے بے خیالی میں یہیں کہیں تری جنت یہیں جہنم ہے بھٹک رہا ہے دل امروز کے اندھیروں میں نشان منزل فردا بہت ہی مبہم ہے بڑھا دیا ہے اسیروں کی خستہ حالی نے قفس سے تا بہ چمن ورنہ فاصلہ کم ہے ابھی نہیں کسی عالم میں دل ٹھہرنے کا ابھی نظر میں تری انجمن کا عالم ہے کہاں یہ زندگی ہرزہ گرد لے آئی نہ رہ گزار طرب ہے نہ جادۂ غم ہے کچھ ایسے ہم نے ترے غم کی پرورش کی ہے کہ جیسے مقصد ہستی فقط ترا غم ہے
laala-o-gul kaa jahaan raas kab aayaa hai mujhe
لالہ و گل کا جہاں راس کب آیا ہے مجھے ان نظاروں نے بہت خون رلایا ہے مجھے وقت نے جب کوئی آئینہ دکھایا ہے مجھے کیا بھیانک مرا چہرہ نظر آیا ہے مجھے تلخیٔ مرگ رگ و پے میں اترتی جائے زندگی تو نے یہ کیا زہر پلایا ہے مجھے چلتے چلتے یوںہی تھک کر کہیں سو جاؤں گا دشت غربت کی کڑی دھوپ ہی سایا ہے مجھے زندگی نے مری دم سادھ لیا ہے جیسے جب تری یاد میں کھویا ہوا پایا ہے مجھے افق دل پہ نظر آتی ہے کھو جاتی ہے ایک پرچھائیں نے دیوانہ بنایا ہے مجھے گھر سے نکلا ہوں تو اب پوچھ رہا ہوں خود سے جا رہا ہوں میں کہاں کس نے بلایا ہے مجھے کوئی ہوگا جو مری راہ تکے گا شاید اک یہی وہم یہاں کھینچ کے لایا ہے مجھے صرف اک خواب تھا میں اپنے زمانے کے لیے جس نے پایا ہے مجھے اس نے گنوایا ہے مجھے دو ستاروں کی ملاقات کا وحشی نغمہ بے صدا رات نے پھر آج سنایا ہے مجھے خواب اس کے کبھی ہو جائیں نہ ویراں مخمورؔ اس نے کیوں اپنے خیالوں میں بسایا ہے مجھے
jab koi shaam-e-hasin nazr-e-kharaabaat hui
جب کوئی شام حسیں نذر خرابات ہوئی اکثر ایسے میں ترے غم سے ملاقات ہوئی آپ اپنے کو نہ پہچان سکے ہم تا دیر ان سے بچھڑے تو عجب صورت حالات ہوئی حسن سے نبھ نہ نہ سکی وضع کرم آخر تک اول اول تو محبت کی مدارات ہوئی روز مے پی ہے تمہیں یاد کیا ہے لیکن آج تم یاد نہ آئے یہ نئی بات ہوئی اس نے آواز میں آواز ملا دی تھی کبھی آج تک ختم نہ موسیقئ جذبات ہوئی دل پہ اک غم کی گھٹا چھائی ہوئی تھی کب سے آج ان سے جو ملے ٹوٹ کے برسات ہوئی کس کی پرچھائیں پڑی کون ادھر سے گزرا اتنی رنگیں جو گزر گاہ خیالات ہوئی ان سے امید ملاقات کے بعد اے مخمورؔ مدتوں تک نہ خود اپنے سے ملاقات ہوئی





