SHAWORDS
Masood Akhtar Jamal

Masood Akhtar Jamal

Masood Akhtar Jamal

Masood Akhtar Jamal

poet
3Sher
3Shayari
10Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

zindagi ki bahaar le ke chale

زندگی کی بہار لے کے چلے دامن تار تار لے کے چلے گل رخان چمن کی محفل سے سینۂ صد فگار لے کے چلے آہ یہ خواب عشق کی تعبیر عالم انتظار لے کے چلے بے قراری میں عمر گزری تھی آج دل کا قرار لے کے چلے پا گئے راز خندۂ گل ہم دیدۂ اشک بار لے کے چلے مل گئی داد آبلہ پائی پرسش نوک خار لے کے چلے ضبط غم کا جمالؔ ہے یہ صلہ طعنۂ غم گسار لے کے چلے

غزل · Ghazal

jangal jangal sahraa sahraa sirf gham-e-uftaad hue

جنگل جنگل صحرا صحرا صرف غم افتاد ہوئے اہل جنوں پر عشق کی رحمت ویرانے آباد ہوئے کل تک جو معصوم صفت تھے آج وہی جلاد ہوئے رفتہ رفتہ شیخ و برہمن کتنے ستم ایجاد ہوئے موسم گل کے آتے آتے گلچینوں کی سازش سے کتنے گریباں چاک ہوئے ہیں کتنے گھر برباد ہوئے دام ہوس ہر ایک نفس ہے برق حسد ہر ایک نظر نظم گلستاں کیوں کر بدلے صید بھی اب صیاد ہوئے صدیوں کے اس اجڑے چمن کی خون سے گل کاری ہوگی سنتے ہیں ارباب محبت زنداں سے آزاد ہوئے پوچھے کوئی ارباب جفا سے اب یہ پشیمانی کب تک مدت گزری اہل وفا پر تازہ ستم ایجاد ہوئے بے ادبی میں جو یکتا ہیں ٹھہرے امام بزم ادب جن کو شعر نہ کہنا آیا فن کے وہی استاد ہوئے داغ جدائی کے صدموں سے کیا گزری ہے کس سے کہوں کیسے کیسے پھول چمن کے نذر غم بیداد ہوئے تیری خوشی سے ہم کو غرض ہے تیری رضا سے کام ہمیں شاد ہوئے ہم تیری خاطر تیرے لیے ناشاد ہوئے قامت موزوں کے افسانے صحن چمن تک جا پہنچے خوش اندام فصل بہاراں سرد ہوئے شمشاد ہوئے عہد تغافل کا افسانہ ان سے جمالؔ اب کیا کہئے لطف و کرم سب بھول گئے ہم جور و ستم سب یاد ہوئے

غزل · Ghazal

phir taqaazaa hai ki tajdid-e-vafaa ho jaae

پھر تقاضا ہے کہ تجدید وفا ہو جائے خون دل نذر کرو فرض ادا ہو جائے ہم ہیں سرشار محبت نہ شکایت نہ گلہ آپ کو عذر ہے تو عذر جفا ہو جائے تشنہ لب کوئی نہ رہ جائے تری محفل میں جشن ہے آج تو رندوں کا بھلا ہو جائے تیرا مے خانہ سلامت رہے آباد رہے ساقیا ہم کو بھی اک جام عطا ہو جائے سست گامی سے نہیں طبع رواں کو نسبت جادۂ شوق پہ آئے تو ہوا ہو جائے یوں تڑپ اے دل بیتاب کہ دھڑکن سے تری برق رفتار زمانے کی فضا ہو جائے ظالمو سوچ لو انجام ستم کیا ہوگا آج کا دن ہی اگر روز جزا ہو جائے اہل دل کیف محبت ہے اسی کے دم سے درد دل اور سوا اور سوا ہو جائے مے کشو آؤ چلو شیخ و برہمن سے ملیں رات کا پچھلا پہر صرف دعا ہو جائے صبح ہو جائے تو منزل کی طرف تیز قدم اس قدر تیز کہ شل بانگ درا ہو جائے راہ میں دیر و حرم آئیں تو سجدہ کر لو شاید اس طرح غریبوں کا خدا ہو جائے

غزل · Ghazal

yunhi chupke chupke ronaa yunhi dil hi dil mein baatein

یوں ہی چپکے چپکے رونا یوں ہی دل ہی دل میں باتیں بڑی کشمکش کے دن ہیں بڑی الجھنوں کی راتیں ہے نفس نفس فروزاں ہے مژہ مژہ چراغاں بڑی دھوم سے اٹھی ہیں غم و درد کی براتیں مرے ذہن کی خلا میں مرے دل کی وسعتوں میں کہیں رنگ و بو کے خیمے کہیں نور کی قناتیں انہیں اے غم زمانہ کبھی رائیگاں نہ کرنا ہیں بہت لطیف‌ و نازک غم دل کی وارداتیں یہ جمالؔ مے کدہ ہے نہیں یاں کوئی تکلف او عرب عجم کے جھگڑے نہ حسب نسب نہ ذاتیں

غزل · Ghazal

talaash-e-kaun-o-makaan hai na laa-makaan ki talaash

تلاش کون و مکاں ہے نہ لا مکاں کی تلاش یہ زندگی ہے غم عشق جاوداں کی تلاش اسی زمیں کو ہمیں آسماں بنانا ہے ہمیں نہیں ہے کسی اور آسماں کی تلاش کسی کو منزل عشرت کا غم ہے اور مجھے ہوئی ہے منزل عشرت پہ کارواں کی تلاش یہ خواب ہے کہ ہے تعبیر خواب اے غم دل ہر اک قدم ہے یہاں عمر رائیگاں کی تلاش بہار لالہ و گل برق بے اماں نکلی کہاں کہاں نہ رہی میرے آشیاں کی تلاش جو ہو سکے تو مرا غم ہی جاوداں ہو جائے جمالؔ مجھ کو نہیں عیش جاوداں کی تلاش

غزل · Ghazal

jo muddaaa hai dilon kaa yahaan nahin miltaa

جو مدعا ہے دلوں کا یہاں نہیں ملتا جہان راز ہے راز جہاں نہیں ملتا جو کیفیت ہے خموشی میں وہ بیاں میں نہیں بیاں کروں بھی تو لطف بیاں نہیں ملتا جنوں کی راہ میں یہ کون سا مقام آیا کہ اب سراغ زمان و مکاں نہیں ملتا نہ اب زمیں کی خبر ہے نہ آسماں کی خبر مرے ہی نقش قدم کا نشاں نہیں ملتا خزاں میں اہل نشیمن کو تھا بہار کا غم بہار آئی تو اب آشیاں نہیں ملتا ہر ایک یوں تو ہے آداب عشق سے واقف مرے جنوں کا مگر راز داں نہیں ملتا محبتوں میں کمی کیا ہوئی کہ سینے میں وہ بے قرار دل بد گماں نہیں ملتا ہنوز ختم نہیں جستجوئے ماہ وشاں ابھی تو زیر قدم آسماں نہیں ملتا فضائے لالۂ و گل سرد ہوتی جاتی ہے جمالؔ سا کوئی شعلہ بیاں نہیں ملتا

Similar Poets