rusvaa huaa kharaab huaa mubtalaa huaa
vo kaun si ghaDi thi ki tujh se judaa huaa
Meer Soz
Meer Soz
Meer Soz
Popular Shayari
8 totaljis kaa tujh saa habib hovegaa
kaun us kaa raqib hovegaa
sar zaanu pe ho us ke aur jaan nikal jaae
marnaa to musallam hai armaan nikal jaae
ahl-e-imaan 'soz' ko kahte hain kaafir ho gayaa
aah yaa rab raaz-e-dil in par bhi zaahir ho gayaa
jis din se yaar mujh se vo shokh aashnaa huaa
rusvaa huaa kharaab huaa mubtalaa huaa
parkaar ki ravish phire ham jitne chal sake
is gardish-e-falak se na baahar nikal sake
un se aur mujh se yahi shart-e-vafaa Thahri hai
vo sitam Dhaaein magar un ko sitam-gar na kahun
go nahin tanbur Dholak hi uThaa laa mutribaa
ghunchon ke chaTke pe har bulbul ne gaai hai basant
Ghazalغزل
ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میں نہ تو کوئی آدمی جانے ہے نہ حساب میں نہ کتاب میں نہ تو علم اپنے میں ہے یہاں کہ خدا نے بھیجا ہے کس لیے اسی کو جو کہتے ہیں زندگی سو تو جسم کے ہے عذاب میں یہی شکل ہے جسے دیکھو ہو یہی وضع ہے جسے گھورو ہو جسے جان کہتے ہیں آدمی اسے دیکھا عالم خواب میں میں خلاف تم سے نہیں کہا اسے مانو یا کہ نہ مانو تم میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا میں کہ ملا ہوں اس کی جناب میں نہ سنوگے سوزؔ کی گفتگو جو پھروگے ڈھونڈنے کوبکو یہ نشہ ہے اس کے بیان میں کہ نہیں نشہ ہے شراب میں
hamein kaun puchhe hai saahibo na savaal mein na javaab mein
جس کا تجھ سا حبیب ہووے گا کون اس کا رقیب ہووے گا بے وطن بے رفیق بے اسباب کون ایسا غریب ہووے گا درد دل کی دوا ہو جس کے پاس کوئی ایسا طبیب ہووے گا مل رہے گا کبھی تو دنیا میں گر ہمارا نصیب ہووے گا سوزؔ کو وہ ملائے گا تجھ سے جو خدا کا حبیب ہووے گا
jis kaa tujh saa habib hovegaa
غمزۂ چشم شرمسار کہاں سر تو حاضر ہے تیغ یار کہاں گل بھی کرتا ہے چاک اپنا جیب پر گریباں سا تار تار کہاں ہو غزالوں کو اس سے ہم چشمی تیکھی چتون کہاں خمار کہاں عندلیبوں نے گل کو گھیر لیا ایک جیوڑا کہاں ہزار کہاں ایک دن ایک شخص نے پوچھا میر صاحب تمہارا یار کہاں میں نے اس سے کہا کہ سن بھائی اب مجھے اس تلک ہے بار کہاں گاہ گاہے سلام کرتا ہے پر وہ باتیں کہاں وہ پیار کہاں زندگی تک ستم تو سہہ لے سوزؔ پھر تو یہ ظلم بار بار کہاں
ghamza-e-chashm sharmsaar kahaan
عشاق تیرے سب تھے پر زار تھا سو میں تھا جگ کے خرابہ اندر اک خوار تھا سو میں تھا داخل شہیدوں میں تو لوہو لگا کے سب تھے شمشیر ناز سے پر افگار تھا سو میں تھا سنبل کے پیچ میں دل تیرے نہ تھا کسی کا نرگس کا ایک تیری بیمار تھا سو میں تھا تجھ گھر میں عرض مطلب کس کی نہ تھا زباں پر در پر جو تیرے نقش دیوار تھا سو میں تھا داغ محبت اے گل جب تھا ترا نہ جگ میں داغوں سے جس کا سینہ گلزار تھا سو میں تھا گو عشق کے تمہارے عشاق اب مقر ہیں اول زباں پہ جس کی اقرار تھا سو میں تھا تجھ عشق میں نصیحت سب یار مانتے تھے ناصح کے پر سخن سے بے زار تھا سو میں تھا اس مے کدے میں گاہے اے سوزؔ ہم نہ بہکے سب مست و بے خبر تھے ہشیار تھا سو میں تھا
ushshaaq tere sab the par zaar thaa so main thaa
کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گا جو تم سے بتاں ہوگا سو اللہ کرے گا زلفوں سے پڑا طول میں اب عشق کا جھگڑا خط آن کے یہ مجہلہ کوتاہ کرے گا بوسے کی طلب سے تو رہے گا تبھی اے دل جب گالیاں دو چار وہ تنخواہ کرے گا آئینے کو ٹک بھر کے نظر دیکھ تو پیارے وہ تجھ کو مرے حال سے آگاہ کرے گا احوال دل زار تجھے ہووے گا معلوم جب تو کسی مہ وش کی میاں چاہ کرے گا واہی نہ سمجھ سوزؔ کے پیماں کو تو اے یار جو تجھ سے کیا عہد سو نرباہ کرے گا
kaabe hi kaa ab qasd ye gumraah karegaa
اپنے نالے میں گر اثر ہوتا قطرۂ اشک بھی گہر ہوتا جن کے نامے کی ہے پہنچ تجھ تک کاش میں ان کا نامہ بر ہوتا دل نہ دیتا جو میں تجھے ظالم کیوں مری جان کا ضرر ہوتا پھر نہ کرتا ستم کسی پہ اگر حال سے میرے باخبر ہوتا خون عشاق کرتے کیوں ناحق گر بتوں کو خدا کا ڈر ہوتا کام آتا میں ایک دن پیارے ربط مجھ سے تجھے اگر ہوتا کھینچتی فوج خط جو حسن پہ تیغ سینہ میرا ہی واں سپر ہوتا سوزؔ کو شوق کعبے جانے کا ہے بہت پر زیادہ تر ہوتا شیخ مانند تیرے اس کے پاس بار برداری کو جو خر ہوتا
apne naale mein gar asar hotaa





