itni tauhin na kar meri balaa-noshi ki
saaqiyaa mujh ko na de maap ke paimaane se

Mela Ram Wafa
Mela Ram Wafa
Mela Ram Wafa
Popular Shayari
8 totalik baar us ne mujh ko dekhaa thaa muskuraa kar
itni to hai haqiqat baaqi kahaaniyaan hain
go qayaamat se peshtar na hui
tum na aae to kyaa sahar na hui
tum bhi karoge jabr shab o roz is qadar
ham bhi kareinge sabr magar ikhtiyaar tak
raatein aish-o-ishrat ki din dukh dard musibat ke
aati aati aati hain jaate jaate jaate hain
kahnaa hi miraa kyaa hai ki main kuchh nahin kahtaa
ye bhi tumhein dhokaa hai ki main kuchh nahin kahtaa
aalam hai tire partav-e-rukh se ye hamaaraa
hairat se hamein shams-o-qamar dekh rahe hain
din judaai kaa diyaa vasl ki shab ke badle
lene the ai falak-e-pir ye kab ke badle
Ghazalغزل
جب بہار آئی ہے زنجیر بہ پا رکھا ہے اقربا نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے ہم سخن غیر سے رہنا ہے قرینہ اخلاق مجھ سے کم بولنے کا نام حیا رکھا ہے روز ہوتی ہے ہزاروں ہی گھروں میں شب غم شمع رویوں نے بھی اندھیر مچا رکھا ہے مایۂ زیست ہے باقی دل یک قطرۂ خوں سو وہ آنکھوں سے ٹپکنے کو بچا رکھا ہے داغ حسرت کہ ہے ویرانۂ دل میں روشن مردہ امیدوں کی تربت پہ دیا رکھا ہے بزم میں داد نہ دینا ہے خلاف آداب اے وفاؔ ورنہ ترے شعروں میں کیا رکھا ہے
jab bahaar aai hai zanjir-ba-paa rakkhaa hai
صبر مشکل تھا محبت کا اثر ہونے تک جان ٹھہری نہ دل دوست میں گھر ہونے تک شب فرقت کی بھی ہونے کو سحر تو ہوگی ہاں مگر ہم نہیں ہونے کے سحر ہونے تک سہنے ہیں جور و ستم جھیلنے ہیں رنج و الم یعنی کرنی ہے بسر عمر بسر ہونے تک تیرا پردہ بھی اٹھا دے گی مری رسوائی تیرا پردہ ہے مرے خاک بہ سر ہونے تک متزلزل تو ہے مدت سے نظام عالم نوبت آ پہنچی ہے اب زیر و زبر ہونے تک فرصت ماتم پروانہ کہاں سے آئے شمع کو موت سے لڑنا ہے سحر ہونے تک اے وفاؔ معرکۂ عشق تو سر کیا ہوگا ہو چکیں گے ہمیں یہ معرکہ سر ہونے تک
sabr mushkil thaa mohabbat kaa asar hone tak
دیار حسن میں پابندیٔ رسم وفا کم ہے بہت کم ہے بہت کم ہے بحد انتہا کم ہے جفائے بے سبب کم ہے کہ جور ناروا کم ہے تری بے داد اے ظالم نہ ہونے پر بھی کیا کم ہے کمال دلبری میں کون سی تیری ادا کم ہے نہ شوخی کم حیا سے ہے نہ شوخی سے حیا کم ہے بہ کثرت سیر کی ہے ہر روش گلزار عالم کی یہاں رنگ محبت ہے بہت بوئے وفا کم ہے خدا کے نام پر دست و گریباں ہیں خدا والے بہت ہے جس قدر ذکر خدا خوف خدا کم ہے ازل سے ہوتی آئی ہے ابد تک ہوتی جائے گی گنہ گار وفا پر جس قدر بھی ہو جفا کم ہے دعا کو ہاتھ کیوں اٹھے مرے تیمارداروں کے زباں سے کیوں نہیں کہتے کہ امید شفا کم ہے رہے کیونکر نہ بدظن وہ شہ حسن اے وفاؔ مجھ سے بڑا نادان ہے سنتا بہت ہے دیکھتا کم ہے
dayaar-e-husn mein paabandi-e-rasm-e-vafaa kam hai
ساعتوں کی نہیں بات لمحوں کی ہے جسم سے روح پرواز کر جائے گی تم ہماری خبر کو تو کیا آؤ گے اب تمہی کو ہماری خبر جائے گی جس قیامت سے واعظ ڈراتا ہے تو اس قیامت سے کم یہ قیامت نہیں بارہا دل پہ گزری ہے جو ہجر میں بارہا جان پر جو گزر جائے گی میرے چارہ گرو میرے تن پرورو، جاؤ تم کس لیے نیند کھوٹی کرو ہجر کی رات لا انتہا رات ہے یہ قیامت نہیں جو گزر جائے گی میرے جینے نہ جینے میں کیا فرق ہے میرا جینا نہ جینا برابر ہے اب مجھ کو مرنے ہی دو مجھ کو مرنے ہی دو میرے مرنے سے دنیا نہ مر جائے گی میری دنیا مری زندگی تک ہی ہے اور اک دن میری موت کے ساتھ ہی خاتمہ میری دنیا کا ہو جائے گا میری دنیا مرے ساتھ مر جائے گی ڈرنے والوں کو دنیا ڈراتی رہی ڈرنے والوں کو دنیا ڈراتی رہے تم ڈرو گے نہ دنیا سے لیکن اگر ہار کر تم سے دنیا ہی ڈر جائے گی الاماں الاماں الحذر الحذر الاماں الحذر تیری نیچی نظر تیر بن کر جگر میں اتر جائے گی درد کی ٹیس رگ رگ میں بھر جائے گی لائیں گی رنگ لائیں گی آہیں مری رائیگاں ہی نہ جائیں گی آہیں مری میری قسمت تو سنورے نہ سنورے مگر زلف تو اس پری کی سنور جائے گی زندگی کو نہ ہے آرزو کو وفاؔ حسرت آگیں ہے دونوں کا شہر وفا زندگی آرزو میں گزر جائے گی آرزو دل میں گھٹ گھٹ کے مر جائے گی
saaaton ki nahin baat lamhon ki hai jism se ruuh parvaaz kar jaaegi
التفات عام ہے وجہ پریشانی مجھے کس قدر مہنگی پڑی ہے ان کی ارزانی مجھے بحر ہستی ہے مری نظروں میں اک دشت سراب ریت کا ہوتا ہے دھوکہ دیکھ کر پانی مجھے تیرے جلووں کا تو ہر اک ذرہ ہے آئینہ دار مانع نظارہ ہے خود میری حیرانی مجھے سعیٔ بے حاصل تھی دل کی کوشش اخفائے راز کر گئی رسوا نگاہوں کی پریشانی مجھے یا عدو بوالہوس کی ناز برداری کرو یا بنا لو تختۂ مشق ستم رانی مجھے کھل نہیں سکتی فقط اک آپ کے دل کی گرہ ورنہ کیا کیا گتھیاں آتی ہیں سلجھانی مجھے کس قدر نا پید ہیں اہل کمال اب اے وفاؔ کوئی اپنا بھی نظر آتا نہیں ثانی مجھے
iltifaat-e-aam hai vajh-e-pareshaani mujhe
بیگانہ وار ہم سے یگانہ بدل گیا کیسی چلی ہوا کہ زمانہ بدل گیا آنکھیں بھی دیکھتی ہیں زمانہ کے رنگ ڈھنگ دل بھی سمجھ رہا ہے زمانہ بدل گیا بدلا نہ تھا زمانہ اگر تم نہ بدلے تھے جب تم بدل گئے تو زمانہ بدل گیا ان کو دلائیں یاد جب اگلی عنایتیں وہ بھی یہ کہہ اٹھے کہ زمانہ بدل گیا بس ایک اے وفاؔ مرے مٹنے کی دیر تھی مجھ کو مٹا چکا تو زمانہ بدل گیا
begaana-vaar ham se yagaana badal gayaa





