SHAWORDS
Mirza Athar Zia

Mirza Athar Zia

Mirza Athar Zia

Mirza Athar Zia

poet
15Shayari
14Ghazal

Popular Shayari

15 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

تمام گلیوں میں ماتم بپا تھا جنگل کا یہاں ضرور کوئی سلسلہ تھا جنگل کا لکھی تھیں وحشتیں صحرا کی میری آنکھوں میں کتاب دل میں ورق کھل رہا تھا جنگل کا ہمارے شہروں میں اب روز ہوتا رہتا ہے وہ واقعہ جو کبھی واقعہ تھا جنگل کا وہ اس طرف کی پہاڑی پہ میٹھے جھرنے تھے پہ درمیان میں رستہ گھنا تھا جنگل کا مجھ ایک شہر میں ایسا بھی تھا اداس کوئی ہمیشہ مجھ سے پتہ پوچھتا تھا جنگل کا کسی کے ساتھ نے انساں بنا دیا ہے اسے وگرنہ دل یہ کبھی بھیڑیا تھا جنگل کا جہاں پہ ختم تھی انسانیت کی حد اطہرؔ وہاں پہ دیکھا تو اک راستہ تھا جنگل کا

tamaam galiyon mein maatam bapaa thaa jangal kaa

غزل · Ghazal

ڈھونڈھتا ہے کوئی رستا مرے آئینے میں قید جو شخص ہے مجھ سا مرے آئینے میں کھینچ لے تجھ کو نہ آئینے کے اندر کا طلسم غور سے دیکھ نہ اتنا مرے آئینے میں اس کے جیسا ہوں میں آئینے کے باہر کوئی رہ رہا ہے وہ جو مجھ سا مرے آئینے میں میں ہی آئینۂ دنیا میں چلا آیا ہوں یا چلی آئی ہے دنیا مرے آئینے میں عکس کچھ اور نظر آتا ہے میرا سب کو کس نے اب تک مجھے دیکھا مرے آئینے میں روبرو ہوتا ہے اک شخص بھی مجھ سا اطہرؔ میں اکیلا نہیں ہوتا مرے آئینے میں

DhunDhtaa hai koi rastaa mire aaine mein

غزل · Ghazal

میں اپنے جسم کی دیوار میں چنوں خود کو پھر اپنے آپ سے باتیں کروں سنوں خود کو تمام شہر میں بکھرا پڑا ہے میرا وجود کوئی بتائے بھلا کس طرح چنوں خود کو نکل پڑا ہوں میں ہم زاد ڈھونڈنے اپنا لگا کے بیٹھا ہوا ہوں عجب جنوں خود کو مرے وجود کے سب تانے بانے الجھے ہیں کدھر کدھر سے میں سلجھاؤں اور بنوں خود کو وہ چیز کیا ہے کہ جس کی تلاش میں اطہرؔ ادھیڑ ادھیڑ کے اپنا بدن دھنوں خود کو

main apne jism ki divaar mein chunun khud ko

غزل · Ghazal

کوئی بگولہ رقصاں میرے اندر ہے دل صحرا میں جشن کے جیسا منظر ہے میں نے کیسے کیسے موتی ڈھونڈے ہیں لیکن تیرے آگے سب کچھ پتھر ہے بالکنی پر آؤ میری پلکوں کی دیکھو کتنا گہرا نیلا سمندر ہے خاموشی سے مار نہ دے اک دن مجھ کو شور سا اک جو میری ذات کے اندر ہے چاہے جو بھی کھڑکی میں کھولوں اطہرؔ سب کے باہر ایک ہی جیسا منظر ہے

koi bagula raqsaan mere andar hai

غزل · Ghazal

تو بھی ہو جائے گا پانی پانی پیاس ہے میری پرانی پانی رہ کے صحرا میں ہرا ہو گیا میں مجھ میں بہنے لگا دھانی پانی کہتی جاتی ہے کہانی کوئی تیری ہر آن روانی پانی تو تو رہتا ہے مری آنکھوں میں تجھ سے کیا بات چھپانی پانی پیاس روکے ہوئے میں بیٹھا تھا اور پھر چیخ اٹھا پانی پانی میں نے کھینچا تھا ہوا پر کوئی لفظ لکھتا ہے جس کے معانی پانی میری آنکھوں سے بھی اک بار نکل دیکھوں میں تیری روانی پانی حلق سے زہر اتاروں اطہرؔ لا مرے دشمن جانی پانی

tu bhi ho jaaegaa paani paani

غزل · Ghazal

روک رکھا تھا جو ان آنکھوں میں کھارا پانی میری دیواروں میں در آیا وہ سارا پانی ایک دریا کو دکھائی تھی کبھی پیاس اپنی پھر نہیں مانگا کبھی میں نے دوبارا پانی اپنی آنکھوں سے نچوڑوں گا کسی روز اسے کرتا رہتا ہے بہت مجھ سے کنارا پانی اب کے بارش پہ کوئی حق نہیں انسانوں کا اب کے چڑیوں کے لیے رب نے اتارا پانی میں سمندر سے لگی شور زمیں جیسا ہوں مارتا رہتا ہے مجھ کو مرا کھارا پانی میں نے ان آنکھوں سے کچھ موتی چنے تھے اطہرؔ میرے ہونٹوں میں ابھی جذب ہے کھارا پانی

rok rakkhaa thaa jo in aankhon mein khaaraa paani

Similar Poets