SHAWORDS
Mohammad Asadullah

Mohammad Asadullah

Mohammad Asadullah

Mohammad Asadullah

poet
5Shayari
22Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

نہیں شریک عذابوں کا جان جاں کوئی خدا گواہ نہیں ہے نہیں یہاں کوئی وہ دیکھو بانہہ پسارے ہے سامنے منزل فقط گماں ہے کہ ہے راہ درمیاں کوئی چبھن سی کیسے پرو دی ہے اس نے سانسوں میں شکایتوں میں نمایاں ہے مہرباں کوئی عنایتیں ہیں تری دھوپ سرد موسم کی بڑھے جو حد سے تو بیٹھے بھلا کہاں کوئی رہا وہ گوش بر آواز اور ہمیں برسوں خیال تک نہیں آ یا کہ ہے یہاں کوئی سوائے حلقۂ یاراں میں اپنی شہرت کے ہماری ذات کا دشمن یہاں کہاں کوئی ہر ایک سمت خموشی کا کفر چھایا ہے ہماری ذات کے صحرا میں دے اذاں کوئی

nahin sharik azaabon kaa jaan-e-jaan koi

غزل · Ghazal

اپنا چہرہ دکھا گئیں لہریں بستیوں کو ڈرا گئیں لہریں ریت پر رات زندگی لکھی صبح آ کر مٹا گئیں لہریں ان زمینوں کی کوکھ سے جنمے آسمانوں کو کھا گئیں لہریں جس سے روشن تھا دل کا ویرانہ وہ دیا بھی بجھا گئیں لہریں کوئی تھامے ہوئے تھا ڈور ادھر اب کے سب کو بتا گئیں لہریں میرا چہرہ تھا ریت کا چہرہ ایک پل میں مٹا گئیں لہریں

apnaa chehra dikhaa gaiin lahrein

غزل · Ghazal

چٹانوں کی طرح ہیں ہم مگر ٹوٹے ہوئے بھی ہیں یہاں ہر پل بکھرنے کا ہمیں اندیشہ رہتا ہے کبھی باطل بھگا کر حق کو لے جاتا ہے بستی سے کبھی حق بھیس میں باطل کے آ کر منہ چڑھاتا ہے کبھی اندیشۂ باطل ہمیں سونے نہیں دیتا کبھی حق نیم شب دروازہ آ کر کھٹکھٹاتا ہے فضائیں ایک مدت سے اذانوں کو ترستی ہیں یہاں ہر شخص حرف حق فقط کانوں میں کہتا ہے کہیں خود کو کسی شے کی طرح میں بھول آیا ہوں یہاں رہتے ہوئے مجھ کو تو کچھ ایسا ہی لگتا ہے ہواؤں کے علاوہ کون آئے گا ہمارے گھر نہ جانے کس کی خاطر یہ دیا اب جھلملاتا ہے

chaTaanon ki tarah hain ham magar TuuTe hue bhi hain

غزل · Ghazal

تجھ کو آواز سے سمجھوں کہ بیاں سے دیکھوں معتبر کیا ہے بتا تجھ کو کہاں سے دیکھوں آب دیدہ ہوں میں خود زخم جگر سے اپنے تیری آنکھوں میں چھپا درد کہاں سے دیکھوں اس کھلی آنکھ پہ کھلتے نہیں اسرار ترے تو چھپا ہے تو تجھے چشم نہاں سے دیکھوں میں نے چاہا تھا صنم بن کے تو آنکھوں میں رہے تو نے چاہا میں تجھے چشم بتاں سے دیکھوں ہر طرف تیر برستے ہیں نشانہ میں ہوں لوٹ آتی ہے نظر خود پہ جہاں سے دیکھوں اس طرح دل میں اتر جا نہ رہے کچھ باقی تو ہی تو ہو میری نظروں میں جہاں سے دیکھوں

tujh ko aavaaz se samjhun ki bayaan se dekhun

غزل · Ghazal

ترے سوا کسے ڈھونڈوں سراب و صحرا میں تری ہی ذات کا پرتو ہر اک تمنا میں یہ تشنگی تو ازل سے ہے ہم سفر اپنی میں کل پہاڑ پہ تشنہ تھا آج دریا میں ہیں سرد آہ سے جھونکے ہوا کے یخ بستہ گزشتہ رت سی اگن بھی نہیں ہے برکھا ہے گزر گزر کے ہر اک لمحہ سنگ زار ہوا بھٹک رہا ہوں میں یادو کے اک اجنتا میں شب حیات گزاری سبھی نے خوابوں میں ہم ہی کو راس نہ آئے حباب دریا میں

tire sivaa kise DhunDun saraab-o-sahraa mein

غزل · Ghazal

غم کم ہیں زندگی میں ذرا اور پالئے جو مسئلے نہیں ہیں انہیں بھی اچھالیے اک لغزش قدم بھی کبھی سر اڑا گئی دستار چھوڑ دیجیے خود کو سنبھالئے بس ہاتھ تیرا ہاتھ میں آ نے کی دیر تھی سب مہر و ماہ و ارض و سما ہم نے پا لئے راہی یہ سنگ میل نہیں سنگ راہ ہیں بت بس گئے ہیں کعبۂ دل میں نکالیے اب کے ہمیں اشارۂ انجم نہ تھا کوئی کھینچے زمیں نے ہاتھ تو لنگر اٹھا لیے سرسبز دشت خوف سے خاشاک ہو گیا ہیں مشعلیں حضور میں ارماں نکالیے

gham kam hain zindagi mein zaraa aur paaliye

Similar Poets