khauf-e-mahshar na rahaa dil mein jo dekhaa main ne
pusht par mere gunaahon ke hai rahmat us ki

Mohammad Baqar Shams
Mohammad Baqar Shams
Mohammad Baqar Shams
Popular Shayari
31 totalkuchh na puchho daraazi-e-shab-e-hijr
kaT gai 'umr aur sahar na hui
qaabu mein rakkhe ablaq-e-lail-o-nahaar ko
dekhaa na main ne aisaa kisi shahsavaar ko
dekhaa jo din ko us ne su-e-charkh-e-be-madaar
sonaa utar gayaa varaq-e-aaftaab kaa
muskuraahaT lab-e-naazuk pe nigaahein nichi
kis se sikhaa hai ye andaaz dil-aaraai kaa
khaak ke zarron se uf uf ki sadaa aati hai
meraa afsaana-e-gham qissa-e-maazi na huaa
lazzat-e-zindagi vo kyaa jaane
jis ko dard-e-jigar nahin hotaa
saamnaa jab huaa mahshar mein to kuchh kah na sakaa
mujh se dekhaa na gayaa un kaa pareshaan honaa
hashr mein chhoD diyaa dekh ke utraa huaa munh
aa chukaa thaa mire haathon mein garebaan un kaa
chaaraagar kyaa samajh sakeinge bhalaa
dard kaisaa hai aur davaa kyaa hai
aankhein lagi hain dar pe nikaltaa nahin hai dam
Thahri hui hai ruuh tire intizaar mein
dekhaa jo main ne naama-e-aa'maal hashr mein
qissa likhaa thaa mere aur un ke shabaab kaa
Ghazalغزل
ہے شانہ کش رفیق جو گیسوئے یار میں رگ رگ ہے میرے دل کی غضب کے فشار میں آدم بھی آ کے روئے یہاں ہجر یار میں یہ رسم ہے قدیم اس اجڑے دیار میں جاگے تھے شب کو سوئے ہیں دن کو مزار میں دنیا ہوئی ادھر سے ادھر ہجر یار میں جادو بھرا تھا اس نگۂ شرمسار میں ملتے ہی آنکھ دل نہ رہا اختیار میں ہم تنکے چن رہے ہیں نشیمن کے واسطے بجلی چھپی ہے دامن ابر بہار میں آئے عدم سے گلشن ہستی کی سیر کو دامن الجھ گیا ہے یہاں خار زار میں آنکھیں لگی ہیں در پہ نکلتا نہیں ہے دم ٹھہری ہوئی ہے روح ترے انتظار میں جوش جنوں نے دشت کو گلزار کر دیا ہے خون میرے پاؤں کا ہر نوک خار میں گیسو کی یاد ہے کبھی رخ کا خیال ہے کٹتی ہے عمر اب اسی لیل و نہار میں مسجد میں جا کے دیکھیے واعظ کا حال زار پرہیز مے زباں پہ ہے آنکھیں خمار میں قاتل کو میرے سمجھے تھے دشمن کوئی مرا نکلا تلاش سے وہ مرے دوست دار میں عشق بتاں نے کر دیا میرا تباہ حال کس کو ہے دخل مصلحت کردگار میں یاں جوش گریہ اور وہاں حکم ضبط ہے پڑ جاتی ہے گرہ مرے اشکوں کے تار میں گردش پہ اپنی شمسؔ ہمیں صبر آ گیا کس کو ملا سکون اس اجڑے دیار میں
hai shaana-kash rafiq jo gesu-e-yaar mein
گھر کو بھی کر دیا ویرانے میں شامل میں نے ذوق وحشت کو مرے وہ بھی تو کافی نہ ہوا نہ ہوا اس پہ بھی وہ شوخ وفا کا قائل ظلم ہنس ہنس کے سہے اور کبھی شاکی نہ ہوا دوں کس امید پہ اب جان کہ وہ ظلم شعار کوچہ میں اپنے مرے دفن پہ راضی نہ ہوا جس نے ان مست نگاہوں سے ملائیں آنکھیں پھر وہ منت کش پیمانۂ ساقی نہ ہوا بادہ گر خلد میں ہے سب کے لیے امر مباح جس نے مسجد میں پیا وہ بھی تو آسی نہ ہوا دل میں جب ہوک اٹھی ضبط فغاں کر نہ سکا راز اس گھر کا جو تھا مجھ سے وہ مخفی نہ ہوا عمر جس دشت میں مجنوں نے گزاری اپنی وہ مرے ذوق جنوں کے لیے کافی نہ ہوا
ghar ko bhi kar diyaa viraane mein shaamil main ne
قفل زنداں آج کھولا جائے گا لاش قیدی کی نکالی جائے گی آ رہا ہے ان کا اب عہد شباب ظلم کی بنیاد ڈالی جائے گی زندگی بھر ہم رہے محروم دید ساتھ تصویر خیالی جائے گی آ رہی ہے زلف ان کی تا قدم کس کمر سے یہ سنبھالی جائے گی سجدہ گاہ عام ہوگا ان کا در قید مسجد کی اٹھا لی جائے گی ظلم ڈھانے والے یہ بھی جان لیں آہ مظلوماں نہ خالی جائے گی سجدۂ بت سے اگر روکا گیا اک نئی مسجد بنا لی جائے گی فصل گل میں دعوت پیر مغاں شیخ صاحب سے نہ ٹالی جائے گی
qufl-e-zindaan aaj kholaa jaaegaa
کس طرح وہ عالم کو نہ دیوانہ بنا دے یہ حسن یہ انداز و ادا جس کو خدا دے دیکھی نہیں جاتی ہے کسی سے مری حالت اب وہ بھی یہ کہتے ہیں خدا اس کو شفا دے پھر ہوش کے عالم میں بھلا آؤں میں کیونکر غش میں مجھے دامن سے جو وہ اپنے ہوا دے جاں بازیٔ پروانہ پہ کیجے نہ تعجب قسمت ہے جسے ہمت مردانہ خدا دے وہ دیکھ کے کہتے ہیں مری نزع میں الجھن یوں موت جوانی میں کسی کو نہ خدا دے کیا جانے وہ کیا لطف ہے آشفتہ سری میں جب تک نہ کسی کو دل دیوانہ خدا دے موسیٰ طلب دید پہ اصرار نہ کیجے کیا ہو جو نقاب رخ روشن وہ اٹھا دے خلقت کی زباں کا ہے یہ ادنیٰ سا کرشمہ تھوڑی سی ہو بات اور وہ افسانہ بنا دے آئے ہیں عیادت کو سرہانے دم آخر اللہ مری نزع کے لمحات بڑھا دے کیوں سجدے میں اس کے نہ جھکیں سب کی جبینیں اک خاک کے پتلے کو جو انسان بنا دے
kis tarh vo 'aalam ko na divaana banaa de
کتنے ہی پائے صنم پر کیے سجدے میں نے کبھی پورا نہ ہوا شوق جبیں سائی کا مسکراہٹ لب نازک پہ نگاہیں نیچی کس سے سیکھا ہے یہ انداز دل آرائی کا آ گیا ان کا شباب ان کی نگاہیں بدلیں بڑھ گیا شوق انہیں کچھ ستم آرائی کا جلوے خود حسن جہاں تاب کے پھیلے ہر سو جب ہوا شوق انہیں انجمن آرائی کا دفن کر کے مجھے رخصت ہوئے یار و احباب طول اب حشر تلک ہے شب تنہائی کا
kitne hi paa-e-sanam par kiye sajde main ne
ہوا نے یہ کیا احساں کہ جا کر ان کے ایواں میں مرا رنگ پریدہ بھر دیا تصویر جاناں میں بگولے ہیں نہ صحرا ہے نہ سائیں سائیں آوازیں لگے گا جی ہمارا کس طرح سے باغ رضواں میں انہیں کی یاد جنت میں بھی تڑپانے لگی دل کو نہ دیکھی جب ادائیں ان کے ایسی حور و غلماں میں بگولے ہیں فقط اک مونس تنہائی صحرا میں انہیں کے ساتھ میں ہر سمت پھرتا ہوں بیاباں میں نظر لگنے کا ان کے واسطے گنڈا بنانے کو بچا رکھے ہیں میں نے تار کچھ اپنے گریباں میں جنون عشق تھا مخصوص مجھ سے بعد مجنوں کے نہ آیا بعد میرے کوئی دیوانہ بیاباں میں مہ و معشوق ہو ابر بہاراں ہو گلستاں ہو اسی کا نام جنت ہے نگاہ ہوشمنداں میں نصیحت کے بہانے سے جناب شیخ آئے ہیں نظارہ کر رہے ہیں بیٹھ کر بزم حسیناں میں
havaa ne ye kiyaa ehsaan ki jaa kar un ke aivaan mein





