SHAWORDS
Moin Ahsan Jazbi

Moin Ahsan Jazbi

Moin Ahsan Jazbi

Moin Ahsan Jazbi

poet
30Sher
30Shayari
33Ghazal

Sherشعر

See all 30

Popular Sher & Shayari

60 total

Ghazalغزل

See all 33
غزل · Ghazal

shikva zabaan se na kabhi aashnaa huaa

شکوہ زبان سے نہ کبھی آشنا ہوا نظروں سے کہہ دیا جو مرا مدعا ہوا اللہ ری بے خودی کہ چلا جا رہا ہوں میں منزل کو دیکھتا ہوا کچھ سوچتا ہوا دنیا لرز گئی دل ایذا پسند کی ناآشنائے درد جو درد آشنا ہوا پھر اے دل شکستہ کوئی نغمہ چھیڑ دے پھر آ رہا ہے کوئی ادھر جھومتا ہوا

غزل · Ghazal

is but ke har fareb pe qurbaan se rahe

اس بت کے ہر فریب پہ قربان سے رہے اک عمر اپنے مٹنے کے سامان سے رہے اس جاں نواز کوچے میں ہم بھی رہے مگر بے دل کبھی رہے کبھی بے جان سے رہے رندان مے کدہ ہیں کہ تنگ آ کے اٹھ گئے یاران مے کدہ ہیں کہ انجان سے رہے اس میں چمن کا رنگ نہ اس میں چمن کا روپ ہم بوئے گل سے آج پریشان سے رہے لب سی لیے جو خندۂ یاراں کے خوف سے برسوں ہمارے سینے میں طوفان سے رہے یہ جان ایسی چیز ہے کیا پھر بھی ہم نشیں ہم ان پہ جان دے کے پشیمان سے رہے گلشن میں جوش گل تو بگولہ ہیں دشت میں اہل جنوں جہاں بھی رہے آن سے رہے

غزل · Ghazal

dil sard ho to vaa lab-e-guftaar kyaa karein

دل سرد ہو تو وا لب گفتار کیا کریں منصور کیا بنیں ہوس دار کیا کریں اب کیا سنائیں یوسف و زنداں کی داستاں پھر گرم جنس درد کا بازار کیا کریں وہ ساغر نشاط ہو یا جام زہر غم ساقی نے جب دیا ہو تو انکار کیا کریں دیکھے نہ اپنے ساتھ جو کوئی تو کیا دکھائیں سمجھے نہ کوئی بات تو اصرار کیا کریں جذبیؔ نگاہ میں ہے برہنہ سری کی شان ہم احترام طرۂ دستار کیا کریں

غزل · Ghazal

sharik-e-mahfil-e-daar-o-rasan kuchh aur bhi hain

شریک‌ محفل دار و رسن کچھ اور بھی ہیں ستم گرو ابھی اہل کفن کچھ اور بھی ہیں رواں دواں یوں ہی اے ننھی بوندیوں کے ابر کہ اس دیار میں اجڑے چمن کچھ اور بھی ہیں خدا کرے نہ تھکیں حشر تک جنوں کے پاؤں ابھی منازل رنج و محن کچھ اور بھی ہیں ابھی سموم نے مانی کہاں نسیم سے ہار ابھی تو معرکہ ہائے چمن کچھ اور بھی ہیں ابھی تو ہیں دل شاعر ہیں سیکڑوں ناسور ابھی تو معجزہ ہائے سخن کچھ اور بھی ہیں دل گداز نے آنکھوں کو دے دیئے آنسو یہ جانتے ہوئے غم کے چلن کچھ اور بھی ہیں

غزل · Ghazal

ai ghairat-e-gham aankh miri nam to nahin hai

اے غیرت غم آنکھ مری نم تو نہیں ہے کوئی دل خوں گشتہ کا محرم تو نہیں ہے رستے ہوئے زخموں کا ہو کچھ اور مداوا یہ حرف تسلی کوئی مرہم تو نہیں ہے خاموش ہیں کیوں نالہ کشان شب ہجراں یہ تیرہ شبی آج بھی کچھ کم تو نہیں ہے جلتا تو ہے دل آج بھی اے تیرگیٔ غم اک شمع کی لو آج بھی مدھم تو نہیں ہے اس بزم میں سب کچھ ہے مگر اے دل پر شوق تیری سی طلب تیرا سا عالم تو نہیں ہے کچھ وہ بھی ہیں چپ چاپ سے کچھ میں بھی ہوں خاموش در پردہ کوئی رنجش باہم تو نہیں ہے

غزل · Ghazal

jab kabhi kisi gul par ik zaraa nikhaar aayaa

جب کبھی کسی گل پر اک ذرا نکھار آیا کم نگاہ یہ سمجھے موسم بہار آیا حسن و عشق دونوں تھے بے کراں و بے پایاں دل وہاں بھی کچھ لمحے جانے کب گزار آیا اس افق کو کیا کہیے نور بھی دھندلکا بھی بارہا کرن پھوٹی بارہا غبار آیا ہم نے غم کے ماروں کی محفلیں بھی دیکھیں ہیں ایک غم گسار اٹھا ایک غم گسار آیا آرزوئے ساحل سے ہم کنارا کیا کرتے جس طرف قدم اٹھے بحر بے کنار آیا یوں تو سیکڑوں غم تھے پر غم جہاں جذبیؔ بعد ایک مدت کے دل کو سازگار آیا

Similar Poets