"kali rah ga.i na-shagufta hamari gila rah gaya ye nasim-e-chaman se"

Mubarak Azimabadi
Mubarak Azimabadi
Mubarak Azimabadi
Sherشعر
See all 76 →kali rah ga.i na-shagufta hamari
کلی رہ گئی ناشگفتہ ہماری گلہ رہ گیا یہ نسیم چمن سے
kabhi dil ki kali khili hi nahin
کبھی دل کی کلی کھلی ہی نہیں اعتبار بہار کون کرے
hazaron mai-kade sar par liye hain
ہزاروں مے کدے سر پر لیے ہیں یہ بادل ہیں بڑے سامان والے
teri bakhshish ke bharose pe khata.en ki hain
تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں تیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا
jo nigah-e-naz ka bismil nahin
جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں
us gali men hazar gham TuuTa
اس گلی میں ہزار غم ٹوٹا آنا جانا مگر نہیں چھوٹا
Popular Sher & Shayari
152 total"kabhi dil ki kali khili hi nahin e'tibar-e-bahar kaun kare"
"hazaron mai-kade sar par liye hain ye badal hain baDe saman vaale"
"teri bakhshish ke bharose pe khata.en ki hain teri rahmat ke sahare ne gunahgar kiya"
"jo nigah-e-naz ka bismil nahin dil nahin vo dil nahin vo dil nahin"
"us gali men hazar gham TuuTa aana jaana magar nahin chhuTa"
khair saaqi ki salaamat mai-kada
jis qadar pi utni hushyaari baDhi
khaTak rahi hai koi shai nikaal de koi
taDap rahaa hai dil-e-be-qaraar siine mein
na maanoge na maanoge hamaari
udhar ho jaaegi duniyaa idhar ki
jo nigaah-e-naaz kaa bismil nahin
dil nahin vo dil nahin vo dil nahin
kahaan qismat mein is ki phuul honaa
vahi dil ki kali hai aur ham hain
phir na darmaan kaa kabhi naam 'mubaarak' lenaa
kufr hai dard-e-mohabbat kaa mudaavaa karnaa
Ghazalغزل
naavak kahein sinaan kahein talvaar kyaa kahein
ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیں تو ہی بتا تجھے نگۂ یار کیا کہیں شکوہ نہ دام کا ہے نہ صیاد کا گلہ ہم آپ ہو گئے ہیں گرفتار کیا کہیں اظہار حال زار کا ایسوں سے فائدہ آزار دل کا تجھ سے دل آزار کیا کہیں کرتے ہیں واعظ آپ مذمت شراب کی کہتے ہیں کیا جناب کو مے خوار کیا کہیں ایسوں سے ترک مے کا مبارکؔ سوال کیا توبہ کی تجھ سے رند قدح خوار کیا کہیں
mohabbat mein Thani aksar yahaan tak
محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تک کہ پہنچے معرکے تیر و کماں تک چلے ناوک کھنچی ظالم کماں تک کہاں تک امتحاں آخر کہاں تک چلے جاتے ہیں آواز جرس پر پہنچ جائیں گے بچھڑے کارواں تک ہوائے شوق کے جھونکے سلامت رہوگے تم پس پردہ کہاں تک نہ وہ عیار مجھ سے پوچھتا ہے نہ دل کی بات آتی ہے زباں تک اسی سر کو سر شوریدہ کہیے جو پہنچے اس کے سنگ آستاں تک نیاز و ناز کے چرچے رہیں گے ہماری اور تمہاری داستاں تک مبارکؔ کو کوئی دن اور سن لو بیاں کا لطف ہے اس خوش بیاں تک
dekhe use har aankh kaa ye kaam nahin hai
دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہے کچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہے میں معترف جرم ہوں جو چاہو سزا دو الزام تمنا کوئی الزام نہیں ہے وہ صبح بھی ہوتی ہے شب تار سے پیدا جس کو خطر تیرگئ شام نہیں ہے جو دل ہے وہ لبریز تمنا ہے مبارکؔ اس جام سے اچھا تو کوئی جام نہیں ہے
na laae taab-e-did ausaan vaale
نہ لائے تاب دید اوسان والے ترے جلوے بھی ہیں کیا شان والے ہزاروں مے کدے سر پر لیے ہیں یہ بادل ہیں بڑے سامان والے میں ان سے اپنے ارماں کہہ رہا ہوں وہ کہتے ہیں بڑے ارمان والے تری کافر ادا نے کس کو چھوڑا کہیں ایمان سے ایمان والے حسینوں سے مبارکؔ دب کے ملنا کہ ہیں وہ آن والے شان والے
baghal mein ham ne raat ik ghairat-e-mahtaab dekhaa hai
بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہے تمہیں اس خواب کی تعبیر ہو کیا خواب دیکھا ہے تڑپ بجلی کی بھی دیکھی ہے وہ دل تھام لیتے ہیں تری بے تابیوں کو بھی دل بے تاب دیکھا ہے وہ الفت دوست ہوں ناصح دعا ہی دل سے نکلی ہے اگر دشمن کے گھر بھی مجمع احباب دیکھا ہے خدا کے سامنے اے محتسب سچ بولنا ہوگا مرے ساغر میں مے دیکھی ہے یا خوں ناب دیکھا ہے مبارکؔ اضطراب شوق کا عالم نہیں چھپتا کہ جب دیکھا ہے ہم نے آپ کو بے تاب دیکھا ہے
mere sar se kyaa gharaz sarkaar ko
میرے سر سے کیا غرض سرکار کو دیکھیے اپنے در و دیوار کو یہ گھٹا ایسی گھٹا اتنی گھٹا مے حلال ایسے میں ہے مے خوار کو دھمکیاں دیتے ہو کیا تلوار کی ہم لگاتے ہیں گلے تلوار کو اپنی اپنی سب دکھاتے ہیں بہار گل بھی گلشن سے چلے بازار کو طاق سے مینا اتار آئی بہار طاق پر رکھ شیخ استغفار کو ڈھونڈھتا پھرتا ہے کوئے غیر میں دل مبارکؔ کو مبارکؔ یار کو





