SHAWORDS
Mubarak Azimabadi

Mubarak Azimabadi

Mubarak Azimabadi

Mubarak Azimabadi

poet
76Sher
76Shayari
34Ghazal

Sherشعر

See all 76

Popular Sher & Shayari

152 total

Ghazalغزل

See all 34
غزل · Ghazal

naavak kahein sinaan kahein talvaar kyaa kahein

ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیں تو ہی بتا تجھے نگۂ یار کیا کہیں شکوہ نہ دام کا ہے نہ صیاد کا گلہ ہم آپ ہو گئے ہیں گرفتار کیا کہیں اظہار حال زار کا ایسوں سے فائدہ آزار دل کا تجھ سے دل آزار کیا کہیں کرتے ہیں واعظ آپ مذمت شراب کی کہتے ہیں کیا جناب کو مے خوار کیا کہیں ایسوں سے ترک مے کا مبارکؔ سوال کیا توبہ کی تجھ سے رند قدح خوار کیا کہیں

غزل · Ghazal

mohabbat mein Thani aksar yahaan tak

محبت میں ٹھنی اکثر یہاں تک کہ پہنچے معرکے تیر و کماں تک چلے ناوک کھنچی ظالم کماں تک کہاں تک امتحاں آخر کہاں تک چلے جاتے ہیں آواز جرس پر پہنچ جائیں گے بچھڑے کارواں تک ہوائے شوق کے جھونکے سلامت رہوگے تم پس پردہ کہاں تک نہ وہ عیار مجھ سے پوچھتا ہے نہ دل کی بات آتی ہے زباں تک اسی سر کو سر شوریدہ کہیے جو پہنچے اس کے سنگ آستاں تک نیاز و ناز کے چرچے رہیں گے ہماری اور تمہاری داستاں تک مبارکؔ کو کوئی دن اور سن لو بیاں کا لطف ہے اس خوش بیاں تک

غزل · Ghazal

dekhe use har aankh kaa ye kaam nahin hai

دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہے کچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہے میں معترف جرم ہوں جو چاہو سزا دو الزام تمنا کوئی الزام نہیں ہے وہ صبح بھی ہوتی ہے شب تار سے پیدا جس کو خطر تیرگئ شام نہیں ہے جو دل ہے وہ لبریز تمنا ہے مبارکؔ اس جام سے اچھا تو کوئی جام نہیں ہے

غزل · Ghazal

na laae taab-e-did ausaan vaale

نہ لائے تاب دید اوسان والے ترے جلوے بھی ہیں کیا شان والے ہزاروں مے کدے سر پر لیے ہیں یہ بادل ہیں بڑے سامان والے میں ان سے اپنے ارماں کہہ رہا ہوں وہ کہتے ہیں بڑے ارمان والے تری کافر ادا نے کس کو چھوڑا کہیں ایمان سے ایمان والے حسینوں سے مبارکؔ دب کے ملنا کہ ہیں وہ آن والے شان والے

غزل · Ghazal

baghal mein ham ne raat ik ghairat-e-mahtaab dekhaa hai

بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہے تمہیں اس خواب کی تعبیر ہو کیا خواب دیکھا ہے تڑپ بجلی کی بھی دیکھی ہے وہ دل تھام لیتے ہیں تری بے تابیوں کو بھی دل بے تاب دیکھا ہے وہ الفت دوست ہوں ناصح دعا ہی دل سے نکلی ہے اگر دشمن کے گھر بھی مجمع احباب دیکھا ہے خدا کے سامنے اے محتسب سچ بولنا ہوگا مرے ساغر میں مے دیکھی ہے یا خوں ناب دیکھا ہے مبارکؔ اضطراب شوق کا عالم نہیں چھپتا کہ جب دیکھا ہے ہم نے آپ کو بے تاب دیکھا ہے

غزل · Ghazal

mere sar se kyaa gharaz sarkaar ko

میرے سر سے کیا غرض سرکار کو دیکھیے اپنے در و دیوار کو یہ گھٹا ایسی گھٹا اتنی گھٹا مے حلال ایسے میں ہے مے خوار کو دھمکیاں دیتے ہو کیا تلوار کی ہم لگاتے ہیں گلے تلوار کو اپنی اپنی سب دکھاتے ہیں بہار گل بھی گلشن سے چلے بازار کو طاق سے مینا اتار آئی بہار طاق پر رکھ شیخ استغفار کو ڈھونڈھتا پھرتا ہے کوئے غیر میں دل مبارکؔ کو مبارکؔ یار کو

Similar Poets