ai dil na kar qubul mire dil na kar qubul
manzil shikast-e-shauq hai manzil na kar qubul

Mustafa Rahi
Mustafa Rahi
Mustafa Rahi
Popular Shayari
14 totaldil dhaDaktaa hai sitaaron kaa yahaan
uf ye duniyaa kis qadar taarik hai
kyaa khabar thi is qadar pur-kaif naghme hain nihaan
zindagi ko ek saaz-e-be-sadaa samjhaa thaa main
na samjhaa koi asraar-e-mohabbat
jo samjhaa kuchh dil-e-naadaan samjhaa
dekhiye kab tak yahi haalat yahi aalam rahe
dil ki har dhaDkan ye kahti hai ki vo aane ko hain
shaayad hi raas aae mujhe aish-e-marg bhi
'raahi' gham-e-hayaat kaa maaraa huaa huun main
allaah tere haath hai khuddaariyon ki laaj
daanista haadsaat se Takraa gayaa huun main
aadamiyyat kaa zikr kyaa naaseh
aadmi ab kahaan hain saae hain
khvaahish sukun ki hai na ab iztiraab ki
allaah re zidein dil-e-khaana-kharaab ki
vo bhi aane ko hain qayaamat bhi
dekhiye kaun peshtar aae
be-khudi mein shaan-e-khuddaari bhi hai
khvaab mein ehsaas-e-bedaari bhi hai
laakh bhaage zad pe jab aa jaaegi
zindagi teri qazaa khaa jaaegi
Ghazalغزل
ہر چند کہ ہم مورد پر قہر و غضب ہیں باطل کے پرستار نہ پہلے تھے نہ اب ہیں وہ لوگ کہاں اب جنہیں کہتے تھے مجاہد اس دور ترقی میں سب آرام طلب ہیں فرصت جو ملے غم سے تو مسمار ہی کر دوں جتنے بھی سر راہ یہ ایوان طرب ہیں کیا جانیے کس نشۂ غفلت میں ہیں سرشار مدہوش نہیں ہم مگر ہشیار بھی کب ہیں رہبر ہیں کہ رہزن ہیں سمجھ میں نہیں آتا ہمدرد نہیں ایک بھی ہم راہ تو سب ہیں ایمائے نظر ہو تو دل و جاں بھی تصدق ہم وہ نہیں جو منتظر جنبش لب ہیں دل ڈوبنے لگتا ہے تصور سے بھی جن کے ایسے بھی مقامات سر راہ طلب ہیں دل چیر گئی جن کی فغان شب تاریک اب رنگ سحر دیکھ کے کیوں مہر بلب ہیں راہیؔ سے ملے جب بھی یہ محسوس کیا ہے اس شخص کے جذبات و خیالات عجب ہیں
har chand ki ham murid-e-pur-qahr-o-ghazab hain
ہر سانس میں شامل رہتے ہیں ہر خواب سنوارا کرتے ہیں کیا کیا نہ ہماری خاطر وہ تکلیف گوارا کرتے ہیں سجدوں سے تلافی ہو کیوں کر حیران و پریشاں ہیں خود سر وہ بوجھ جو ہوتا ہے دل پر کس طرح اتارا کرتے ہیں ہر حال میں ہیں راضی بہ رضا ہم اہل یقیں ہم اہل وفا ہے کون ہمارا تیرے سوا تجھ ہی کو پکارا کرتے ہیں کیا جانئے کیا ہے قسمت میں اے شاخ نشیمن خیر تری بجلی بھی بہت کچھ کہتی ہے بادل بھی اشارا کرتے ہیں اک موج قیامت ڈھاتی ہے اک موج سہارا دیتی ہے طوفاں ہی ڈبوتے ہیں کشتی طوفاں ہی ابھارا کرتے ہیں احساس کہاں پھینک آئیں ہم الفاظ کہاں سے لائیں ہم کس دل سے کسے سمجھائیں ہم جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں جاں باز کہاں دل باز ہیں سب لیکن یہ حقیقت ہے راہیؔ کچھ ہار کے جیتا کرتے ہیں کچھ جیت کے ہارا کرتے ہیں جو عزم عمل کے پیکر ہیں وہ لوگ ہی راہیؔ برتر ہیں وہ بے حس کنکر پتھر ہیں جو وقت گزارا کرتے ہیں
har saans mein shaamil rahte hain har khvaab sanvaaraa karte hain
خدا رکھے مری دیوانگی کو نہ بھولا ہوں نہ بھولوں گا کسی کو نہ کر رسوا مذاق مے کشی کو بجھا لے بے پیے ہی تشنگی کو مرے نزدیک تمہید الم ہے خوشی میں کہہ نہیں سکتا خوشی کو لٹا کر کائنات زندگانی بہ مشکل آج پایا ہے کسی کو سہارا لے رہا ہوں بے بسی کا مکمل کر رہا ہوں زندگی کو نہ سمجھا ہے نہ سمجھے گا زمانہ خودی کے ساتھ ربط بے خودی کو دکھا کر اک جھلک چھپ جانے والے نگاہیں ڈھونڈھتی ہیں پھر تجھی کو غزل بے کیف تھی مدت سے راہیؔ دعائیں دو جگرؔ کی شاعری کو
khudaa rakhe miri divaangi ko
دونوں طرف ہی برسوں یہ سلسلے رہے تھے کچھ وہ تھے بد گماں سے کچھ ہم کھنچے رہے تھے جن کو مرے جنوں سے کچھ واسطہ نہیں تھا مڑ مڑ کے میری جانب کیوں دیکھتے رہے تھے تجھ پر خدا کی رحمت اے دل ہے یہ حقیقت جب تک نہ تھا ترا غم ہم چین سے رہے تھے وہ گلشن محبت تاراج ہو گیا کیا کل تک جو خون دل سے ہم سینچتے رہے تھے ہم کو تباہ کر کے کتنے سکون سے ہیں ہم مضطرب ہمیشہ جن کے لئے رہے تھے دیکھا جو آج ان کو حیران رہ گئے سب کیا کیا نہ لوگ ہم کو الزام دے رہے تھے آؤ کہ اتفاقاً تم بھی ہو آج تنہا ہم بھی ہجوم غم میں اکثر گھرے رہے تھے کیا کیا خیال آئے فردوس ہوش بن کر کتنے حسیں عزائم دل میں چھپے رہے تھے وہ دن بھی یاد ہیں جب یہ حال تھا کہ ہم پر ہنستی رہی تھی دنیا ہم دیکھتے رہے تھے اتنا تو یاد ہے جب وہ ہو رہے تھے رخصت تا دیر دل ہی دل میں کچھ سوچتے رہے تھے حیران ہوں کہ ان کو کیا ہو گیا ہے جانے ساحل سے جو مسلسل آواز دے رہے تھے اک انقلاب آخر آ ہی گیا جہاں میں سوتی رہی تھی دنیا ہم جاگتے رہے تھے لو دیکھ لو ہیں میرے قدموں میں سر بہ سجدہ یہ بت کہ جن کو کل تک سب پوجتے رہے تھے گزرے تھے ہم بھی راہیؔ اک مقتل وفا سے کچھ لوگ چل بسے تھے کچھ سانس لے رہے تھے
donon taraf hi barson ye silsile rahe the
سوچو تو بہت کچھ ہے مگر بات ذرا سی یاد آتی ہے اب تک وہ ملاقات ذرا سی اے کاش کہ پاکیزگیٔ حسن کو ملتی وارفتگیٔ شورش جذبات ذرا سی اک عمر تری یاد میں کس طرح گزاریں وہ جن سے گزرتی نہیں اک رات ذرا سی اب بھی وہی عالم ہے وہی ہم ہیں وہی غم بدلی ہی نہیں صورت حالات ذرا سی اتنا بھی نہ دے طول غم عشق کو راہیؔ بڑھ جائے نہ ظالم کہیں اک بات ذرا سی
socho to bahut kuchh hai magar baat zaraa si
جو فلسفہ و دانش و حکمت نے تراشے وہ نت نئے اصنام بھی ہم توڑ کے خوش ہیں فرسودہ روایات کے پابند رہیں کیوں ہر رہ گزر عام کو ہم چھوڑ کے خوش ہیں زندان عناصر ہی پہ موقوف نہیں کچھ زنجیر شب و روز بھی ہم توڑ کے خوش ہیں افسانۂ دل ہے بھی نہیں بھی ہے مکمل اک ایسے حسیں موڑ پہ ہم چھوڑ کے خوش ہیں مست مئے پندار ہیں جو اور ہیں وہ لوگ ہم لوگ تو ٹوٹے ہوئے دل جوڑ کے خوش ہیں افسردہ و پژمردہ و ناکام رہیں کیوں ہم گردش ایام کا رخ موڑ کے خوش ہیں
jo falsafa-o-daanish-o-hikmat ne taraashe





