SHAWORDS
Mustafa Zaidi

Mustafa Zaidi

Mustafa Zaidi

Mustafa Zaidi

poet
28Shayari
34Ghazal

Popular Shayari

28 total

Ghazalغزل

See all 34
غزل · Ghazal

ہوئی ایجاد نئی طرز خوشامد کہ نہیں کل کا آئین ہے اب تک سر مسند کہ نہیں آ گئی اے مرے سائے سے بھی بچنے والی رفتہ رفتہ ترے اقرار کی سرحد کہ نہیں نہر خوں ہو چکی، فرہاد کی مزدوری کو اب کے تیشے سے ملی قیمت ساعد کہ نہیں ناصحا اس لیے میں گوش بر آواز نہ تھا تری آواز سے چھوٹا ہے ترا قد کہ نہیں

hui ijaad nai tarz-e-khushaamad ki nahin

غزل · Ghazal

وہ عہد عہد ہی کیا ہے جسے نبھاؤ بھی ہمارے وعدۂ الفت کو بھول جاؤ بھی بھلا کہاں کے ہم ایسے گمان والے ہیں ہزار بار ہم آئیں ہمیں بلاؤ بھی بگڑ چلا ہے بہت رسم خودکشی کا چلن ڈرانے والو کسی روز کر دکھاؤ بھی نہیں کہ عرض تمنا پہ مان ہی جاؤ ہمیں اس عہد تمنا میں آزماؤ بھی فغاں کہ قصۂ دل سن کے لوگ کہتے ہیں یہ کون سی نئی افتاد ہے ہٹاؤ بھی تمہاری نیند میں ڈوبی ہوئی نظر کی قسم ہمیں یہ ضد ہے کہ جاگو بھی اور جگاؤ بھی

vo ahd ahd hi kyaa hai jise nibhaao bhi

غزل · Ghazal

قدم قدم پہ تمنائے التفات تو دیکھ زوال عشق میں سوداگروں کا ہات تو دیکھ بس ایک ہم تھے جو تھوڑا سا سر اٹھا کے چلے اسی روش پہ رقیبوں کے واقعات تو دیکھ غم حیات میں حاضر ہوں لیکن ایک ذرا نگار شہر سے میرے تعلقات تو دیکھ خود اپنی آنچ میں جلتا ہے چاندنی کا بدن کسی کے نرم خنک گیسوؤں کی رات تو دیکھ عطا کیا دل مضطر تو سی دیئے میرے ہونٹ خدائے کون و مکاں کے توہمات تو دیکھ گناہ میں بھی بڑے معرفت کے موقعے ہیں کبھی کبھی اسے بے خدشۂ نجات تو دیکھ

qadam qadam pe tamannaa-e-iltifaat to dekh

غزل · Ghazal

سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا یہ سر جھکتے ہیں یا دیوار زنداں دیکھتے رہنا ہر اک اہل لہو نے بازیٔ ایماں لگا دی ہے جو اب کی بار ہوگا وہ چراغاں دیکھتے رہنا ادھر سے مدعی گزریں گے ایقان شریعت کے نظر آ جائے شاید کوئی انساں دیکھتے رہنا اسے تم لوگ کیا سمجھو گے جیسا ہم سمجھتے ہیں مگر پھر بھی کریں گے اس سے پیماں دیکھتے رہنا سمجھ میں آ گیا تیری نگاہوں کے الجھنے پر بھری محفل میں سب کا ہم کو حیراں دیکھتے رہنا ہزاروں مہرباں اس راستے پر ساتھ آئیں گے میاں یہ دل ہے یہ جیب و گریباں دیکھتے رہنا دبا رکھو یہ لہریں ایک دن آہستہ آہستہ یہی بن جائیں گی تمہید طوفاں دیکھتے رہنا

sahar jitegi yaa shaam-e-gharibaan dekhte rahnaa

غزل · Ghazal

روکتا ہے غم اظہار سے پندار مجھے میرے اشکوں سے چھپا لے مرے رخسار مجھے دیکھ اے دشت جنوں بھید نہ کھلنے پائے ڈھونڈنے آئے ہیں گھر کے در و دیوار مجھے سی دیے ہونٹ اسی شخص کی مجبوری نے جس کی قربت نے کیا محرم اسرار مجھے میری آنکھوں کی طرف دیکھ رہے ہیں انجم جیسے پہچان گئی روح شب تار مجھے جنس ویرانی صحرا میری دوکان میں ہے کیا خریدے گا ترے شہر کا بازار مجھے جرس گل نے کئی بار پکارا لیکن لے گئی راہ سے زنجیر کی جھنکار مجھے ناوک ظلم اٹھا دشنۂ اندوہ سنبھال لطف کے خنجر بے نام سے مت مار مجھے ساری دنیا میں گھنی رات کا سناٹا تھا صحن زنداں میں ملے صبح کے آثار مجھے

roktaa hai gham-e-izhaar se pindaar mujhe

غزل · Ghazal

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی مدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی میرے نغمات کی تقدیر نہ پہنچے تجھ تک میری فریاد کی قسمت کہ تجھے چھو آئی اپنی آنکھوں سے لگاتی ہیں زمانے کے قدم شہر کی راہ گزاروں میں مری خو آئی ہاں نمازوں کا اثر دیکھ لیا پچھلی رات میں ادھر گھر سے گیا تھا کہ ادھر تو آئی مژدہ اے دل کسی پہلو تو قرار آ ہی گیا منزل دار کٹی ساعت گیسو آئی

jab havaa shab ko badalti hui pahlu aai

Similar Poets