kashtiyāñ likhtī raheñ roz kahānī apnī
mauj kahtī hī rahī zer-o-zabar maiñ hī huuñ

Shayari Of Muzaffar Abdali
Shayari of Muzaffar Abdali
Shayari of Muzaffar Abdali
Popular Shayari
5 totalrah-guzar kā hai taqāzā ki abhī aur chalo
ek ummīd jo manzil ke nishāñ tak pahuñchī
bahaknā merī fitrat meñ nahīñ par
sambhalne meñ pareshānī bahut hai
ḳhudā bhī kaisā huā ḳhush mire qarīne par
mujhe shahīd kā darja milā hai jiine par
ret par ik nishān hai shāyad
ye hamārā makān hai shāyad
Ghazalغزل
ریت پر اک نشان ہے شاید یہ ہمارا مکان ہے شاید شور کے بیچ سو رہی ہے زمیں مدتوں کی تھکان ہے شاید درد کا اشتہار چسپاں ہے زندگی کی دکان ہے شاید تنہا تنہا نکل پڑے پنچھی عہد نو کی اڑان ہے شاید عقل کہتی ہے مر چکا رشتہ شوق کہتا ہے جان ہے شاید وہ جہاں پر پگھل رہی ہے دھوپ ہاں وہیں سائبان ہے شاید آج وہ مسکرا کے ملتے ہیں آج پھر امتحان ہے شاید
ret par ik nishān hai shāyad
2 views
خواب امید سے سرشار بھی ہو جائے تو کیا دشت تو دشت ہے بازار بھی ہو جائے تو کیا اب کہاں کوئی ستاروں کو گنا کرتا ہے میرا ہر زخم نمودار بھی ہو جائے تو کیا سو چکی شام اندھیرے کا ہے سایہ دل پر آج خواہش کوئی بیدار بھی ہو جائے تو کیا زندگی اپنی نہ بدلی ہے نہ بدلے گی کبھی خاک پا زینت دستار بھی ہو جائے تو کیا منزلیں بڑھنے لگیں خود ہی مسافر کی طرف راستہ صورت دیوار بھی ہو جائے تو کیا
ḳhvāb ummīd se sarshār bhī ho jaa.e to kyā
1 views
کس نے دیکھی ہے بہاروں میں خزاں میرے سوا کون کر سکتا ہے یہ قصہ بیاں میرے سوا کس کو معلوم ہے صحرا کی ہواؤں کا مزاج ریت پر کون بنائے گا مکاں میرے سوا سب فقیران شب ہجر وطن چھوڑ گئے کون اب دے گا بیاباں میں اذاں میرے سوا تھپکیاں کون سر دشت مجھے دیتا ہے کیا کوئی اور بھی رہتا ہے یہاں میرے سوا ایک اک زخم مرے اشک سے یہ کہتے رہے اب کوئی اور نہ ہو نقش عیاں میرے سوا اس نئے شہر کی اس بھیڑ میں اے حضرت عشق جانتا کون ہے اب تم کو میاں میرے سوا
kis ne dekhī hai bahāroñ meñ ḳhizāñ mere sivā
1 views
خدا بھی کیسا ہوا خوش مرے قرینے پر مجھے شہید کا درجہ ملا ہے جینے پر کھنڈر کے گنبد و محراب جاگ اٹھیں گے اسے کہو کہ وہ دھیرے سے آئے زینے پر لکیر ہے نہ کوئی رنگ ہے نہ کلمہ ہے یہ کیسا نقش بنایا ہے میرے سینے پر ابھی امید نئی وسعتوں کی قائم ہے ابھی وہ لوٹ کے آیا نہیں سفینے پر چھتیں بھی بٹ چکیں آنگن بھی بٹ چکے لیکن چھڑی ہے جنگ کہ حق کس کا ہے دفینے پر
ḳhudā bhī kaisā huā ḳhush mire qarīne par
1 views
یقین آج بھی وہم و گمان میں گم ہے زمین جیسے کہیں آسمان میں گم ہے یہ آفتاب بھی کس زاویے سے ڈھلتا ہے ذرا سی دھوپ لیے آن بان میں گم ہے دریچے دور ہوئے جاتے ہیں مکینوں سے صبا بھی صرف طواف مکان میں گم ہے میں ایک بت ہوں عجائب گھروں میں رکھا ہوا مرا وجود مری داستان میں گم ہے نتیجہ پھر سے کہیں ملتوی نہ ہو جائے مرا سوال ترے امتحان میں گم ہے
yaqīn aaj bhī vahm-o-gumān meñ gum hai
1 views
بیاباں کو پشیمانی بہت ہے کہ شہروں میں بیابانی بہت ہے مرے ہنسنے پہ دنیا چونک اٹھی مجھے بھی خود پہ حیرانی بہت ہے چلو صحرا کو بھی اب آزمائیں سنا تھا گھر میں آسانی بہت ہے خدا محفوظ رکھے فصل دل کو کہیں سوکھا کہیں پانی بہت ہے کہیں بادل کہیں پیڑوں کے سائے اجالوں پر نگہبانی بہت ہے بہکنا میری فطرت میں نہیں پر سنبھلنے میں پریشانی بہت ہے
bayābāñ ko pashemānī bahut hai

