SHAWORDS
Naeem Najmi

Naeem Najmi

Naeem Najmi

Naeem Najmi

poet
11Sher
11Shayari
18Ghazal

Sherشعر

See all 11

Popular Sher & Shayari

22 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

khushbu se fazaaon ko jo mahkaayaa huaa hai

خوشبو سے فضاؤں کو جو مہکایا ہوا ہے مہماں کوئی پردیس سے گھر آیا ہوا ہے ملنے کی نہیں مجھ کو محبت سے رہائی فرمان ادھر سے تو یہی آیا ہوا ہے ایسے تو کبھی مجھ سے وہ بولا ہی نہیں تھا شاید کہ کسی اور کا بھڑکایا ہوا ہے میں نے بھی چرا لی ہیں اسے دیکھ کے نظریں کچھ وہ بھی مرے سامنے شرمایا ہوا ہے دنیا پہ عتاب آیا ہے اللہ یہ کیسا جو شخص بھی ملتا ہے وہ گھبرایا ہوا ہے کہہ دیجئے آندھی سے ابھی چھت پہ نہ آئے وہ بال سکھانے کے لئے آیا ہوا ہے کچھ کر لو مگر نجمیؔ وہی ہو کے رہے گا پہلے سے مقدر میں جو لکھوایا ہوا ہے

غزل · Ghazal

udaasiyon se mulaaqaat hone vaali hai

اداسیوں سے ملاقات ہونے والی ہے دیئے جلاؤ کہ اب رات ہونے والی ہے پھڑک رہی ہے مری آنکھ آج رہ رہ کر یہ لگ رہا ہے کوئی بات ہونے والی ہے تمہارا سرمئی آنچل نہ بھیگ جائے کہیں کسی کی آنکھوں سے برسات ہونے والی ہے عجب ہے دھوپ کی چادر پہ رقص بوندوں کا تو آسمان پہ بارات ہونے والی ہے بھنور میں یونہی مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اگر کسی سے ملاقات ہونے والی ہے پرندے فکر کے منڈلا رہے ہیں پھر شاید کسی غزل کی شروعات ہونے والی ہے کوئی بھی چال بچی ہی کہاں ہے اے نجمیؔ تمہارے شاہ کو اب مات ہونے والی ہے

غزل · Ghazal

nazar badal ke hamaari jaanib jab us ne dekhaa to log samjhe

نظر بدل کے ہماری جانب جب اس نے دیکھا تو لوگ سمجھے محبتوں کا حسین رشتہ جو پل میں ٹوٹا تو لوگ سمجھے جہالتوں کا دل و نظر سے غبار اترا تو لوگ سمجھے کہ ہیں قیامت کے یہ نظارے ضمیر جاگا تو لوگ سمجھے سمجھ رہے تھے کہ میں سمندر کی تیز موجوں میں بہہ رہا ہوں کہ سطح ساحل پہ دیر تک بھی جو میں نہ ابھرا تو لوگ سمجھے کسی کو پہلے خبر نہیں تھی کہ رشتہ کیسا ہے میرا اس سے وہ میرے پہلو میں جب اچانک ہی آ کے بیٹھا تو لوگ سمجھے کہاں پتہ تھا کسی کو کچھ بھی کہ کیسا کردار ہے ہمارا جب اپنے اندر کی خامیوں کو ہمیں نے سمجھا تو لوگ سمجھے سمجھ نہ پایا کوئی بھی نجمیؔ جو بات نرمی سے کی ہے میں نے بلند آواز اپنی کر کے میں جب بھی بولا تو لوگ سمجھے

غزل · Ghazal

bhule bhaTke hue raston se nahin aae hain

بھولے بھٹکے ہوئے رستوں سے نہیں آئے ہیں ہم یہاں جھوٹے قصیدوں سے نہیں آئے ہیں ہم پہ لازم تھا چراغوں کی حفاظت کرنا صلح کرنے کو ہواؤں سے نہیں آئے ہیں جلتے بجھتے ہوئے جگنو ہیں ہمارے اندر روشنی لے کے چراغوں سے نہیں آئے ہیں جوتیاں کی ہیں سدا اہل ادب کی سیدھی ہم سبق پڑھ کے کتابوں سے نہیں آئے ہیں صرف افکار کی خوشبو ہمیں لائی ہے یہاں تیری محفل میں حوالوں سے نہیں آئے ہیں اپنی پہچان بنائی ہے جہاں میں ہم نے اٹھ کے اجداد کی قبروں سے نہیں آئے ہیں

غزل · Ghazal

kahaan jazbaat mein ham bah rahe hain

کہاں جذبات میں ہم بہہ رہے ہیں جو کہنا تھا وہی تو کہہ رہے ہیں کسی سے کیا گلا شکوہ کریں ہم یہ دکھ ورثے کے ہیں جو سہہ رہے ہیں بچا سکتے ہو تو اس کو بچا لو مکاں انسانیت کے ڈھ رہے ہیں ہوئے ہیں کب ابھی آپے سے باہر ابھی ہم اپنے اندر رہ رہے ہیں زمانہ ہو رہا ہے کیوں مخالف تمہیں اپنا اگر ہم کہہ رہے ہیں یہاں انسان ہے انساں کا دشمن یہ کس دنیا میں ہم اب رہ رہے ہیں

غزل · Ghazal

jo dekhte hain ghurub-e-aaftaab hote hue

جو دیکھتے ہیں غروب آفتاب ہوتے ہوئے ہمیں بھی دیکھیں گے اک روز خواب ہوتے ہوئے دیار عشق میں حسن و شباب ہوتے ہوئے دیئے جلائے ہیں کیوں ماہتاب ہوتے ہوئے جنہوں نے اشک ہمارے لئے بہائے ہیں وہ کیسے دیکھیں گے ہم پر عذاب ہوتے ہوئے بھٹک رہے ہیں جہالت کے تپتے صحرا میں ہمارے پاس اک ایسی کتاب ہوتے ہوئے گھری ہوئی ہے بھلا زیست کیوں اندھیروں میں چراغ ہوتے ہوئے ماہتاب ہوتے ہوئے وہ بخش دے گا مجھے ایک سچی توبہ پر مرے گناہ بہت بے حساب ہوتے ہوئے خموش بیٹھا رہا میں لحاظ میں اس کے ہر ایک بات کا نجمیؔ جواب ہوتے ہوئے

Similar Poets