"raushni saare ghar men hoti thi ham ne dekha hai lalTain ka daur"

Naeem Najmi
Naeem Najmi
Naeem Najmi
Sherشعر
See all 11 →raushni saare ghar men hoti thi
روشنی سارے گھر میں ہوتی تھی ہم نے دیکھا ہے لالٹین کا دور
mujh se baten karo mohabbat ki
مجھ سے باتیں کرو محبت کی طالب علم ہوں میں اردو کا
ek jalte bujhte manzar ke havale kar diya
ایک جلتے بجھتے منظر کے حوالے کر دیا زندگی تجھ کو مقدر کے حوالے کر دیا
ai amiri agar hai tujh men dam
اے امیری اگر ہے تجھ میں دم کسی درویش سے الجھ کر دیکھ
dekha mujhe to kahne lage tu ye kis liye
دیکھا مجھے تو کہنے لگے تو یہ کس لئے دستک دیے بغیر مرے گھر میں آ گیا
vaqt-e-iftar tum bhi aa jaana
وقت افطار تم بھی آ جانا میری آنکھیں بھی روزہ کھولیں گی
Popular Sher & Shayari
22 total"mujh se baten karo mohabbat ki talib-e-'ilm huun main urdu ka"
"ek jalte bujhte manzar ke havale kar diya zindagi tujh ko muqaddar ke havale kar diya"
"ai amiri agar hai tujh men dam kisi darvesh se ulajh kar dekh"
"dekha mujhe to kahne lage tu ye kis liye dastak diye baghair mire ghar men aa gaya"
"vaqt-e-iftar tum bhi aa jaana meri ankhen bhi roza kholengi"
raushni saare ghar mein hoti thi
ham ne dekhaa hai laalTain kaa daur
mujh se baatein karo mohabbat ki
taalib-e-'ilm huun main urdu kaa
ek jalte bujhte manzar ke havaale kar diyaa
zindagi tujh ko muqaddar ke havaale kar diyaa
dekhaa mujhe to kahne lage tu ye kis liye
dastak diye baghair mire ghar mein aa gayaa
zehn jab fikr ke hisaar mein thaa
dil kahaan apne ikhtiyaar mein thaa
mere hi jism ke zindaan mein mujhe ai 'najmi'
qaid kar rakkhaa hai khud meri anaa ne mujh ko
Ghazalغزل
khushbu se fazaaon ko jo mahkaayaa huaa hai
خوشبو سے فضاؤں کو جو مہکایا ہوا ہے مہماں کوئی پردیس سے گھر آیا ہوا ہے ملنے کی نہیں مجھ کو محبت سے رہائی فرمان ادھر سے تو یہی آیا ہوا ہے ایسے تو کبھی مجھ سے وہ بولا ہی نہیں تھا شاید کہ کسی اور کا بھڑکایا ہوا ہے میں نے بھی چرا لی ہیں اسے دیکھ کے نظریں کچھ وہ بھی مرے سامنے شرمایا ہوا ہے دنیا پہ عتاب آیا ہے اللہ یہ کیسا جو شخص بھی ملتا ہے وہ گھبرایا ہوا ہے کہہ دیجئے آندھی سے ابھی چھت پہ نہ آئے وہ بال سکھانے کے لئے آیا ہوا ہے کچھ کر لو مگر نجمیؔ وہی ہو کے رہے گا پہلے سے مقدر میں جو لکھوایا ہوا ہے
udaasiyon se mulaaqaat hone vaali hai
اداسیوں سے ملاقات ہونے والی ہے دیئے جلاؤ کہ اب رات ہونے والی ہے پھڑک رہی ہے مری آنکھ آج رہ رہ کر یہ لگ رہا ہے کوئی بات ہونے والی ہے تمہارا سرمئی آنچل نہ بھیگ جائے کہیں کسی کی آنکھوں سے برسات ہونے والی ہے عجب ہے دھوپ کی چادر پہ رقص بوندوں کا تو آسمان پہ بارات ہونے والی ہے بھنور میں یونہی مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اگر کسی سے ملاقات ہونے والی ہے پرندے فکر کے منڈلا رہے ہیں پھر شاید کسی غزل کی شروعات ہونے والی ہے کوئی بھی چال بچی ہی کہاں ہے اے نجمیؔ تمہارے شاہ کو اب مات ہونے والی ہے
nazar badal ke hamaari jaanib jab us ne dekhaa to log samjhe
نظر بدل کے ہماری جانب جب اس نے دیکھا تو لوگ سمجھے محبتوں کا حسین رشتہ جو پل میں ٹوٹا تو لوگ سمجھے جہالتوں کا دل و نظر سے غبار اترا تو لوگ سمجھے کہ ہیں قیامت کے یہ نظارے ضمیر جاگا تو لوگ سمجھے سمجھ رہے تھے کہ میں سمندر کی تیز موجوں میں بہہ رہا ہوں کہ سطح ساحل پہ دیر تک بھی جو میں نہ ابھرا تو لوگ سمجھے کسی کو پہلے خبر نہیں تھی کہ رشتہ کیسا ہے میرا اس سے وہ میرے پہلو میں جب اچانک ہی آ کے بیٹھا تو لوگ سمجھے کہاں پتہ تھا کسی کو کچھ بھی کہ کیسا کردار ہے ہمارا جب اپنے اندر کی خامیوں کو ہمیں نے سمجھا تو لوگ سمجھے سمجھ نہ پایا کوئی بھی نجمیؔ جو بات نرمی سے کی ہے میں نے بلند آواز اپنی کر کے میں جب بھی بولا تو لوگ سمجھے
bhule bhaTke hue raston se nahin aae hain
بھولے بھٹکے ہوئے رستوں سے نہیں آئے ہیں ہم یہاں جھوٹے قصیدوں سے نہیں آئے ہیں ہم پہ لازم تھا چراغوں کی حفاظت کرنا صلح کرنے کو ہواؤں سے نہیں آئے ہیں جلتے بجھتے ہوئے جگنو ہیں ہمارے اندر روشنی لے کے چراغوں سے نہیں آئے ہیں جوتیاں کی ہیں سدا اہل ادب کی سیدھی ہم سبق پڑھ کے کتابوں سے نہیں آئے ہیں صرف افکار کی خوشبو ہمیں لائی ہے یہاں تیری محفل میں حوالوں سے نہیں آئے ہیں اپنی پہچان بنائی ہے جہاں میں ہم نے اٹھ کے اجداد کی قبروں سے نہیں آئے ہیں
kahaan jazbaat mein ham bah rahe hain
کہاں جذبات میں ہم بہہ رہے ہیں جو کہنا تھا وہی تو کہہ رہے ہیں کسی سے کیا گلا شکوہ کریں ہم یہ دکھ ورثے کے ہیں جو سہہ رہے ہیں بچا سکتے ہو تو اس کو بچا لو مکاں انسانیت کے ڈھ رہے ہیں ہوئے ہیں کب ابھی آپے سے باہر ابھی ہم اپنے اندر رہ رہے ہیں زمانہ ہو رہا ہے کیوں مخالف تمہیں اپنا اگر ہم کہہ رہے ہیں یہاں انسان ہے انساں کا دشمن یہ کس دنیا میں ہم اب رہ رہے ہیں
jo dekhte hain ghurub-e-aaftaab hote hue
جو دیکھتے ہیں غروب آفتاب ہوتے ہوئے ہمیں بھی دیکھیں گے اک روز خواب ہوتے ہوئے دیار عشق میں حسن و شباب ہوتے ہوئے دیئے جلائے ہیں کیوں ماہتاب ہوتے ہوئے جنہوں نے اشک ہمارے لئے بہائے ہیں وہ کیسے دیکھیں گے ہم پر عذاب ہوتے ہوئے بھٹک رہے ہیں جہالت کے تپتے صحرا میں ہمارے پاس اک ایسی کتاب ہوتے ہوئے گھری ہوئی ہے بھلا زیست کیوں اندھیروں میں چراغ ہوتے ہوئے ماہتاب ہوتے ہوئے وہ بخش دے گا مجھے ایک سچی توبہ پر مرے گناہ بہت بے حساب ہوتے ہوئے خموش بیٹھا رہا میں لحاظ میں اس کے ہر ایک بات کا نجمیؔ جواب ہوتے ہوئے





