"abhi vo aankh bhi soi nahin hai abhi vo khvab bhi jaaga hua hai"

Naseer Ahmad Nasir
Naseer Ahmad Nasir
Naseer Ahmad Nasir
Sherشعر
See all 8 →abhi vo aankh bhi soi nahin hai
ابھی وہ آنکھ بھی سوئی نہیں ہے ابھی وہ خواب بھی جاگا ہوا ہے
falsafe saare kitabon men ulajh kar rah ga.e
فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی
khamoshi jhankti hai khiDkiyon se
خموشی جھانکتی ہے کھڑکیوں سے گلی میں شور سا پھیلا ہوا ہے
raat bhar khvab dekhne vaale
رات بھر خواب دیکھنے والے دن کی سچائیوں میں چیخ اٹھے
hava gum-sum khaDi hai raste men
ہوا گم صم کھڑی ہے راستے میں مسافر سوچ میں ڈوبا ہوا ہے
mohabbat ke Thikane DhunDhti hai
محبت کے ٹھکانے ڈھونڈھتی ہے بدن کی لا مکانی موسموں میں
Popular Sher & Shayari
16 total"falsafe saare kitabon men ulajh kar rah ga.e dars-gahon men nisabon ki thakan baaqi rahi"
"khamoshi jhankti hai khiDkiyon se gali men shor sa phaila hua hai"
"raat bhar khvab dekhne vaale din ki sachcha.iyon men chikh uThe"
"hava gum-sum khaDi hai raste men musafir soch men Duuba hua hai"
"mohabbat ke Thikane DhunDhti hai badan ki la-makani mausamon men"
falsafe saare kitaabon mein ulajh kar rah gae
dars-gaahon mein nisaabon ki thakan baaqi rahi
khamoshi jhaankti hai khiDkiyon se
gali mein shor saa phailaa huaa hai
raat bhar khvaab dekhne vaale
din ki sachchaaiyon mein chikh uThe
havaa gum-sum khaDi hai raaste mein
musaafir soch mein Duubaa huaa hai
mohabbat ke Thikaane DhunDhti hai
badan ki laa-makaani mausamon mein
log phirte hain bhare shahr ki tanhaai mein
sard jismon ki salibon pe uThaa kar chehre
Ghazalغزل
reg-e-hasti kaa isti'aara ban
ریگ ہستی کا استعارہ بن اے سمندر کبھی کنارہ بن یوم وارفتگی منا اک دن رقص کرتے ہوئے شرارہ بن اپنی مرضی کی شکل دے خود کو خود کو سارا مٹا دوبارہ بن چھوڑ باقی تمام سازوں کو بس محبت کا ایک تارا بن پھول بن کر دکھا زمانے کو سنگ مرمر نہ سنگ خارا بن ایک دھاگے سے باندھ لے خود کو ہلکا پھلکا سا ہو غبارہ بن بادلوں سے اتر زمیں پر آ آب استادہ تیز دھارا بن میری آنکھوں میں آ محبت سے میرا دیکھا ہوا نظارہ بن مجھ میں تعمیر کر مکاں اپنا در دریچہ کگر اسارا بن اتنی خاموشیوں سے بہتر ہے کوئی معنی بھرا اشارہ بن صبح تک خوب جگمگا ناصرؔ رات کا آخری ستارہ بن
chhaanv piiti hai dhuup khaati hai
چھاؤں پیتی ہے دھوپ کھاتی ہے شب سدا کی چڑیل جاتی ہے اک ستارے پہ آن بیٹھے ہیں ہاتھ میں چاند کی چپاتی ہے اور کچھ ہو نہ ہو زمانے میں ایک دائم سی بے ثباتی ہے میرے دکھ درد گو زمینی ہیں میری تنہائی کائناتی ہے جھیل کو تیرنا نہیں آتا اپنے پانی میں ڈوب جاتی ہے دیکھ کر گھر کی حالت خستہ میری تصویر مسکراتی ہے ایک نلکی مہین دھاگے کی دست خیاط کو گھماتی ہے جینے مرنے سے باز آتے نہیں اپنی فطرت ہی وارداتی ہے زندگی کتنی اچھی ٹیچر ہے زندگی بھر سبق سکھاتی ہے اب پرندوں کو کون سمجھائے شاخ چھتنار کٹ بھی جاتی ہے چلنے لگتا ہے راستہ مجھ میں میری بچی قدم اٹھاتی ہے اب تو ہونے سے کچھ نہیں ہوتا اب تو ہونا بھی نفسیاتی ہے دست تاریخ سے نکلتے ہی جنگ ذہنوں میں پھیل جاتی ہے آتے آتے بھی شاعری ناصرؔ اک زمانے کے بعد آتی ہے
dard ke piile gulaabon ki thakan baaqi rahi
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی جاگتی آنکھوں میں خوابوں کی تھکن باقی رہی پانیوں کا جسم سہلاتی رہی پروا مگر ٹوٹتے بنتے حبابوں کی تھکن باقی رہی دید کی آسودگی میں کون کیسے دیکھتا درمیاں کتنے حجابوں کی تھکن باقی رہی فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی بارشیں ہوتی رہیں ناصرؔ سمندر کی طرف ریگزاروں میں سرابوں کی تھکن باقی رہی
sitaara shaam se niklaa huaa hai
ستارہ شام سے نکلا ہوا ہے دیا بھی طاق میں رکھا ہوا ہے کہیں وہ رات بھی مہکی ہوئی ہے کہیں وہ چاند بھی چمکا ہوا ہے ابھی وہ آنکھ بھی سوئی نہیں ہے ابھی وہ خواب بھی جاگا ہوا ہے کسی بادل کو چھو کر آ رہی ہے ہوا کا پیرہن بھیگا ہوا ہے زمیں بے عکس ہو کر رہ گئی ہے فلک کا آئنہ میلا ہوا ہے خموشی جھانکتی ہے کھڑکیوں سے گلی میں شور سا پھیلا ہوا ہے ہوا گم صم کھڑی ہے راستے میں مسافر سوچ میں ڈوبا ہوا ہے کوئی نیندوں میں خوشبو گھولتا ہے دریچہ خواب کا مہکا ہوا ہے کسی گزرے برس کی ڈائری میں تمہارا نام بھی لکھا ہوا ہے چراغ شام کی آنکھیں بجھی ہیں ستارہ خواب کا ٹوٹا ہوا ہے سفر کی رات ہے ناصرؔ دلوں میں عجب اک درد سا ٹھہرا ہوا ہے
main sochtaa rahtaa huun dimaaghon mein nahin jo
میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جو ہے کون سا وہ پھول کہ باغوں میں نہیں جو ہوتی ہے کسی دیدۂ نمناک کی لو سے وہ روشنی کیسی ہے چراغوں میں نہیں جو دیکھو نہ مرا جسم مری روح جلی تھی یہ داغ ہے وہ جلد کے داغوں میں نہیں جو پانی میں زمینوں پہ ہوا میں اسے کھوجا وہ کیسا نشاں ہے کہ سراغوں میں نہیں جو اک کار مسلسل ہے اسے چاہتے رہنا لطف اس کا لگاتار ہے ناغوں میں نہیں جو اس محفل احباب کی سرشاری عجب ہے وہ مے بھی چھلک جائے ایاغوں میں نہیں جو رنگت ہی نہیں آب و ہوا کا بھی اثر ہے بگلوں میں کوئی بات ہے زاغوں میں نہیں جو ناصرؔ ہیں عجب بولیاں طاؤس زماں کی اشجار کے پر غول کلاغوں میں نہیں جو
sang-e-khaaraa hai aaina meraa
سنگ خارا ہے آئینہ میرا ایک بچہ ہے ہم نوا میرا بادلوں میں ہے گھونسلہ میرا بھر گیا ہے برآمدہ میرا ایک تیرا ہے دوسرا میرا زخم اندر سے ہے ہرا میرا سب کو معلوم ہے پتا میرا کون چکھے گا ذائقہ میرا حجرۂ ذات ہے کھلا میرا ٹوٹ جاتا ہے رابطہ میرا چلنے لگتا ہے نقش پا میرا سایہ سائے پہ آ گرا میرا پھیل جاتا ہے دائرہ میرا جسم فانی ہے بھربھرا میرا کائناتی ہے فاصلہ میرا عین منزل سے راستہ میرا





