SHAWORDS
Naseer Ahmad Nasir

Naseer Ahmad Nasir

Naseer Ahmad Nasir

Naseer Ahmad Nasir

poet
8Sher
8Shayari
12Ghazal

Sherشعر

See all 8

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

reg-e-hasti kaa isti'aara ban

ریگ ہستی کا استعارہ بن اے سمندر کبھی کنارہ بن یوم وارفتگی منا اک دن رقص کرتے ہوئے شرارہ بن اپنی مرضی کی شکل دے خود کو خود کو سارا مٹا دوبارہ بن چھوڑ باقی تمام سازوں کو بس محبت کا ایک تارا بن پھول بن کر دکھا زمانے کو سنگ مرمر نہ سنگ خارا بن ایک دھاگے سے باندھ لے خود کو ہلکا پھلکا سا ہو غبارہ بن بادلوں سے اتر زمیں پر آ آب استادہ تیز دھارا بن میری آنکھوں میں آ محبت سے میرا دیکھا ہوا نظارہ بن مجھ میں تعمیر کر مکاں اپنا در دریچہ کگر اسارا بن اتنی خاموشیوں سے بہتر ہے کوئی معنی بھرا اشارہ بن صبح تک خوب جگمگا ناصرؔ رات کا آخری ستارہ بن

غزل · Ghazal

chhaanv piiti hai dhuup khaati hai

چھاؤں پیتی ہے دھوپ کھاتی ہے شب سدا کی چڑیل جاتی ہے اک ستارے پہ آن بیٹھے ہیں ہاتھ میں چاند کی چپاتی ہے اور کچھ ہو نہ ہو زمانے میں ایک دائم سی بے ثباتی ہے میرے دکھ درد گو زمینی ہیں میری تنہائی کائناتی ہے جھیل کو تیرنا نہیں آتا اپنے پانی میں ڈوب جاتی ہے دیکھ کر گھر کی حالت خستہ میری تصویر مسکراتی ہے ایک نلکی مہین دھاگے کی دست خیاط کو گھماتی ہے جینے مرنے سے باز آتے نہیں اپنی فطرت ہی وارداتی ہے زندگی کتنی اچھی ٹیچر ہے زندگی بھر سبق سکھاتی ہے اب پرندوں کو کون سمجھائے شاخ چھتنار کٹ بھی جاتی ہے چلنے لگتا ہے راستہ مجھ میں میری بچی قدم اٹھاتی ہے اب تو ہونے سے کچھ نہیں ہوتا اب تو ہونا بھی نفسیاتی ہے دست تاریخ سے نکلتے ہی جنگ ذہنوں میں پھیل جاتی ہے آتے آتے بھی شاعری ناصرؔ اک زمانے کے بعد آتی ہے

غزل · Ghazal

dard ke piile gulaabon ki thakan baaqi rahi

درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی جاگتی آنکھوں میں خوابوں کی تھکن باقی رہی پانیوں کا جسم سہلاتی رہی پروا مگر ٹوٹتے بنتے حبابوں کی تھکن باقی رہی دید کی آسودگی میں کون کیسے دیکھتا درمیاں کتنے حجابوں کی تھکن باقی رہی فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی بارشیں ہوتی رہیں ناصرؔ سمندر کی طرف ریگزاروں میں سرابوں کی تھکن باقی رہی

غزل · Ghazal

sitaara shaam se niklaa huaa hai

ستارہ شام سے نکلا ہوا ہے دیا بھی طاق میں رکھا ہوا ہے کہیں وہ رات بھی مہکی ہوئی ہے کہیں وہ چاند بھی چمکا ہوا ہے ابھی وہ آنکھ بھی سوئی نہیں ہے ابھی وہ خواب بھی جاگا ہوا ہے کسی بادل کو چھو کر آ رہی ہے ہوا کا پیرہن بھیگا ہوا ہے زمیں بے عکس ہو کر رہ گئی ہے فلک کا آئنہ میلا ہوا ہے خموشی جھانکتی ہے کھڑکیوں سے گلی میں شور سا پھیلا ہوا ہے ہوا گم صم کھڑی ہے راستے میں مسافر سوچ میں ڈوبا ہوا ہے کوئی نیندوں میں خوشبو گھولتا ہے دریچہ خواب کا مہکا ہوا ہے کسی گزرے برس کی ڈائری میں تمہارا نام بھی لکھا ہوا ہے چراغ شام کی آنکھیں بجھی ہیں ستارہ خواب کا ٹوٹا ہوا ہے سفر کی رات ہے ناصرؔ دلوں میں عجب اک درد سا ٹھہرا ہوا ہے

غزل · Ghazal

main sochtaa rahtaa huun dimaaghon mein nahin jo

میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جو ہے کون سا وہ پھول کہ باغوں میں نہیں جو ہوتی ہے کسی دیدۂ نمناک کی لو سے وہ روشنی کیسی ہے چراغوں میں نہیں جو دیکھو نہ مرا جسم مری روح جلی تھی یہ داغ ہے وہ جلد کے داغوں میں نہیں جو پانی میں زمینوں پہ ہوا میں اسے کھوجا وہ کیسا نشاں ہے کہ سراغوں میں نہیں جو اک کار مسلسل ہے اسے چاہتے رہنا لطف اس کا لگاتار ہے ناغوں میں نہیں جو اس محفل احباب کی سرشاری عجب ہے وہ مے بھی چھلک جائے ایاغوں میں نہیں جو رنگت ہی نہیں آب و ہوا کا بھی اثر ہے بگلوں میں کوئی بات ہے زاغوں میں نہیں جو ناصرؔ ہیں عجب بولیاں طاؤس زماں کی اشجار کے پر غول کلاغوں میں نہیں جو

غزل · Ghazal

sang-e-khaaraa hai aaina meraa

سنگ خارا ہے آئینہ میرا ایک بچہ ہے ہم نوا میرا بادلوں میں ہے گھونسلہ میرا بھر گیا ہے برآمدہ میرا ایک تیرا ہے دوسرا میرا زخم اندر سے ہے ہرا میرا سب کو معلوم ہے پتا میرا کون چکھے گا ذائقہ میرا حجرۂ ذات ہے کھلا میرا ٹوٹ جاتا ہے رابطہ میرا چلنے لگتا ہے نقش پا میرا سایہ سائے پہ آ گرا میرا پھیل جاتا ہے دائرہ میرا جسم فانی ہے بھربھرا میرا کائناتی ہے فاصلہ میرا عین منزل سے راستہ میرا

Similar Poets