SHAWORDS
N

Natiq Gulavthi

Natiq Gulavthi

Natiq Gulavthi

poet
110Shayari
28Ghazal

Popular Shayari

110 total

Ghazalغزل

See all 28
غزل · Ghazal

اسی کی دین ہے غم میں گلہ نہیں کرتا قبول ہو کہ نہ ہو اب دعا نہیں کرتا نہ ہو ملول برا وقت سب پہ آتا ہے کسی کے ساتھ زمانہ وفا نہیں کرتا تم ایسے اچھے کہ اچھے نہیں کسی کے ساتھ میں وہ برا کہ کسی کا برا نہیں کرتا ملے مراد ہماری مگر ملے بھی کہیں خدا کرے مگر ایسا خدا نہیں کرتا

usi ki den hai gham mein gila nahin kartaa

غزل · Ghazal

جو سنتے ہیں تو میں ممنون ہوں ان کی عنایت کا کہوں کیا اب کہ موقع ہی نہیں باقی شکایت کا نیا مضمون کیا ہوتا وہ خط میں اور کیا لکھتے وہی آیا ہے جو لکھا ہوا تھا اپنی قسمت کا ہمیں تو آپ کی بیباکیوں سے ڈر ہی رہتا ہے نہیں معلوم کس دن وقت آ جائے ندامت کا نظر آتا نہیں اب گھر میں وہ بھی اف رے تنہائی اک آئینہ میں پہلے آدمی تھا میری صورت کا تھکے احباب آخر ہر طرح ناطقؔ کو سمجھا کر اثر منت سماجت کا نہ کچھ لعنت ملامت کا

jo sunte hain to main mamnun huun un ki inaayat kaa

غزل · Ghazal

وہ مزاج پوچھ لیتے ہیں سلام کر کے دیکھو جو کلام ہو کچھ اس میں تو کلام کر کے دیکھو کئی رند شیخ ایسے بھی ہیں دخت رز پہ شیدا جو حلال کر کے رکھ دیں گے حرام کر کے دیکھو تم اسی لئے بنے ہو کہ بناؤ باتیں واعظ کسی کام کے اگر ہو تو وہ کام کر کے دیکھو یہ ہمیں بھی دیکھنا ہے تمہیں کیا کہے گی دنیا جو کرم ہے خاص ہم پر اسے عام کر کے دیکھو جو نصیب آزمانا ہے تو رات کیسی دن کیا کہیں صبح کر کے دیکھو کہیں شام کر کے دیکھو غم زیست کو نہ دیکھو کہ فریب زندگی ہے یہ مسرتوں کے ارماں تو تمام کر کے دیکھو کوئی جنس دل کا شاید تمہیں مل بھی جائے گاہک کہیں لے کے جاؤ ناطقؔ کبھی دام کر کے دیکھو

vo mizaaj puchh lete hain salaam kar ke dekho

غزل · Ghazal

عالم کون و مکاں نام ہے ویرانے کا پاس وحشت نہیں گھر دور ہے دیوانے کا زہر واعظ کے لئے نام ہے پیمانے کا یہ بھی کیا مرد خدا چور ہے مے خانے کا کبھی فرصت ہو مصیبت سے تو اٹھ کر دیکھوں کون سے گوشے میں آرام ہے کاشانے کا بے خود شوق ہوں آتا ہے خدا یاد مجھے راستہ بھول کے بیٹھا ہوں صنم خانے کا دل کی جولاں گہہ وحشت ہے ابد سے موسوم نام ازل ہے مرے بھولے ہوئے افسانے کا دل جو اپنا بھی ہے ناطقؔ تو یہ اپنا نہیں کچھ ہے جو اپنا بھی تو ہوگا کسی بیگانے کا

aalam-e-kaun-o-makaan naam hai viraane kaa

غزل · Ghazal

کر دیا دہر کو اندھیر کا مسکن کیسا ہر طرف نام کیا آپ نے روشن کیسا لگ گئی ایک جھڑی جب مرا جی بھر آیا لوگ ساون کو لئے پھرتے ہیں ساون کیسا دختر رز سے الجھتے ہو یہ کیا حضرت شیخ بندہ پرور یہ بڑھاپے میں لڑکپن کیسا دوست ہی تھا جسے ناطقؔ نہ ہوئی کچھ پروا ورنہ رویا ہے مرے حال پہ دشمن کیسا

kar diyaa dahr ko andher kaa maskan kaisaa

غزل · Ghazal

مجنوں سے جو نفرت ہے دیوانی ہے تو لیلیٰ وہ خاک اڑاتا ہے لیکن نہیں دل میلا غل شور کہاں کا ہے سن تو سہی او ظالم کیا ہے ترے کوچہ میں کیسا ہے یہ واویلا اب گردش دوراں کو لے آتے ہیں قابو میں ہم دور چلاتے ہیں ساقی سے کہو مے لا ہم ہیں تو نہ رکھیں گے اتنا تجھے افسردہ چل نغمۂ ناطقؔ سن صحرائے جنوں نے لا

majnun se jo nafrat hai divaani hai tu lailaa

Similar Poets