nishaan raahi ke raahon pe ho na ho lekin
nishaan raahon ke aksar mileinge raahi pe

Navin Joshi
Navin Joshi
Navin Joshi
Popular Shayari
20 totalis dafa to zindagi jaldi mein thi
kah do agli baar fursat mein mile
ki haasil yahi mausamon kaa rahaa
bahaaron ke patte khizaan tak gae
kuchh vaqt zaraa aur nahar duudh ki legi
farhaad ko tesha nahin manzur huaa hai
vo niind mili hai ki jo puuri nahin hoti
vo khvaab milaa hai ki jo maazur huaa hai
ranj yuun raah-e-masaafat mein mile
kuchh kamaae kuchh viraasat mein mile
pyaar aankhon se chhalaktaa hi hai
dil ke paimaane mein saaraa na rahe
na jazbaat se ye safar tai huaa
na dil se kabhi ye zabaan tak gae
andheron ujaalon ki hai ye laDaai
bujhaaoge tum ham jalaayaa kareinge
rah gae kitne kirdaar bhitar mire
mere bhitar miraa qaafila rah gayaa
faaslon mein rahaa qurbaton kaa gumaan
qurbaton mein kahin faasla rah gayaa
kyaa zaruri hai ye iqraar ki muhtaaj rahe
ham mohabbat ko yuun laachaar karein bhi ki nahin
Ghazalغزل
بات نکلی تو مری ذات پر آ کر ٹھہری ذات سے نکلی تو اوقات پر آ کر ٹھہری اپنے حق میں کبھی اثبات نہیں دے پایا بے گناہی مری اس بات پر آ کر ٹھہری جب بھی اٹھی کبھی چہروں کے لیے میری نظر ہر دفعہ صرف حجابات پر آ کر ٹھہری وہ جو اک بات کہ جس پر نہ کبھی میں ٹھہرا سب کی ہر بات اسی بات پر آ کر ٹھہری مختصر ہی رہی چاہت کی بغاوت مجھ میں جب بھی سرکش ہوئی حالات پر آ کر ٹھہری اس شناسائی کو کیسے میں شناسائی کہوں ہر ملاقات ملاقات پر آ کر ٹھہری کچھ ادھورے سے جوابات کی نادانی سے میری ہستی ہی سوالات پر آ کر ٹھہری ساری دنیا میں اجالوں کی منادی کر کے آج پھر ایک سحر رات پر آ کر ٹھہری
baat nikli to miri zaat par aa kar Thahri
1 views
ذات کا میری جو چہرہ ہوتا میرے گھر میں نہیں شیشہ ہوتا یہ کنواں اتنا نہ گہرا ہوتا جو کسی نے کبھی جھانکا ہوتا تم نے پودے کو تھا سائے میں رکھا دھوپ میں رکھتے تو زندہ ہوتا جو اندھیروں میں اجالے پلتے تو اجالوں سے اندھیرا ہوتا تو حقیقت تھا نظر آیا نہیں خواب بن جاتا تو دیکھا ہوتا تو جو آنسو نہ بنا ہوتا اگر آنکھ سے میری نہ ٹپکا ہوتا اس کے ماں باپ نہیں ہے شاید ورنہ اس میں کہیں بچہ ہوتا تیری محفل یہ نہ ہوتی جو نواؔ تو کہیں کونے میں بیٹھا ہوتا
zaat kaa meri jo chehra hotaa
1 views
دھوپ بڑھنے کے جو آثار ہوئے کتنے سائے کے طرف دار ہوئے تپ کے کندن وہ بنیں گے کیسے جو جھلسنے کو نہ تیار ہوئے ہے دوا عشق تو بیماری بھی ہم دوا کے لیے بیمار ہوئے جو نہ جسموں کے طلب گار ہوئے صرف وہ وصل کے حق دار ہوئے قید سے ان کو چھڑائے کیسے اپنے ہاتھوں جو گرفتار ہوئے نہ ہوئے غم زدہ جو غم سے مرے وہ بڑے خوش ہے کہ غم خوار ہوئے بات کرتے ہیں جو اقدار کی وہ جب بھی موقع ملا بازار ہوئے آئنے ڈھونڈتے ہو تم ہر سو اور ہم چہرے سے بیزار ہوئے تب تلک تھے بڑے نقاد نواؔ جب تلک خود سے نہ دو چار ہوئے
dhuup baDhne ke jo aasaar hue
دل کے در پر کسی دستک کی سدا آنے سے میں بھی کچھ دیر نکل آیا ہوں تہہ خانے سے میری بستی پہ مسلط ہوئی تب خاموشی جب کوئی شور اٹھا تھا مرے ویرانے سے مجھے غیروں میں بھی اپنوں سے ملے ہیں کچھ لوگ میرے اپنوں میں بھی کچھ لوگ ہیں بیگانے سے کسی انجان اجالے میں انہیں جب دیکھا میرے پہچانے بدن بھی لگے انجانے سے چاہ کر بھی کبھی پاؤ گے نہ ایسا کوئی جو بھی چاہا ہے وہ مل جائے جسے پانے سے بات یہ سن کے بڑی خوش ہے مری بے چینی روح مرتی نہیں ہے جسم کے مر جانے سے کچھ بھی ملنا نہیں ہے اور مجھے الجھا کر نہ ہی ملنا ہے تمہیں کچھ مجھے سلجھانے سے
dil ke dar par kisi dastak ki sadaa aane se
دھیان میرا ٹنگا ہے کھونٹی پر جانے کیا کیا ٹنگا ہے کھونٹی پر نیند آنے پر آنکھ پہنے گی وہ جو سپنا ٹنگا ہے کھونٹی پر دھوپ کی راہ دیکھتا ہوں میں میرا سایا ٹنگا ہے کھونٹی پر ایک بستہ ٹنگا ہے البم کا اک زمانہ ٹنگا ہے کھونٹی پر اس کے چہرے پہ ایک کھونٹی ہے اور مکھوٹا ٹنگا ہے کھونٹی پر تم نے وعدے کو ٹانگ کر رکھا اب بھروسہ ٹنگا ہے کھونٹی پر کام کھونٹی سے کیا اتارو گے جب ارادہ ٹنگا ہے کھونٹی پر یاد کھونٹی ہے وقت پیراہن جو اتارا ٹنگا ہے کھونٹی پر
dhyaan meraa Tangaa hai khunTi par
ایک ہی پل میں بدلتا ہے نظارہ سارا اور اس پل کے لیے باقی تماشا سارا زندگی نے نہ کسی امتحاں کو دہرایا تجربہ کام ہی آیا نہیں اپنا سارا دھوپ میں جلنا ہے اس کو جو شجر بن کے جیے اس کے سائے میں رہے خوش یہ زمانہ سارا اس کی رحمت کا خزانہ وہ لٹائے ایسے جس نے مانگا نہیں جو اس نے وہ پایا سارا بخش مجھ کو نہ ادھوری کوئی نعمت مولیٰ یا تو دریا ہی دے پورا یا تو صحرا سارا میں نے بازار میں پورا ہی رکھا تھا خود کو کوئی ایسا نہ ملا جس نے خریدا سارا عکس ثابوت تو ہے ٹوٹے ہوئے شیشے میں مگر ایک ٹکڑا بھی گنوایا تو گنوایا سارا ہوتا ہے بھیڑ کی فطرت سے مداری واقف جب تلک ختم نہ ہو کھیل ہے مجمع سارا اتنی وسعت نہیں دامن میں نواؔ کے یاروں پیار کیسے وہ سمیٹے کہو اتنا سارا
ek hi pal mein badaltaa hai nazaara saaraa





