SHAWORDS
Nazeer Baaqri

Nazeer Baaqri

Nazeer Baaqri

Nazeer Baaqri

poet
13Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

13 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کچھ دیر سادگی کے تصور سے ہٹ کے دیکھ لکھا ہوا ورق ہوں مجھے پھر الٹ کے دیکھ مانا کہ تجھ سے کوئی تعلق نہیں مگر اک بار دشمنوں کی طرح ہی پلٹ کے دیکھ پھر پوچھنا کہ کیسے بھٹکتی ہے زندگی پہلے کسی پتنگ کی مانند کٹ کے دیکھ تا عمر پھر نہ ہوگی اجالوں کی آرزو تو بھی کسی چراغ کی لو سے لپٹ کے دیکھ سجدے تجھے کرے گی کسی روز خود حیات بانہوں میں حادثات جہاں کی سمٹ کے دیکھ تنہائیوں میں سیکڑوں ساتھی بھی ہیں نظیرؔ ہے شرط اپنی ذات کے حصوں میں بٹ کے دیکھ

kuchh der saadgi ke tasavvur se haT ke dekh

غزل · Ghazal

اپنی آنکھوں کے سمندر میں اتر جانے دے تیرا مجرم ہوں مجھے ڈوب کے مر جانے دے اے نئے دوست میں سمجھوں گا تجھے بھی اپنا پہلے ماضی کا کوئی زخم تو بھر جانے دے زخم کتنے تری چاہت سے ملے ہیں مجھ کو سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے آگ دنیا کی لگائی ہوئی بجھ جائے گی کوئی آنسو مرے دامن پہ بکھر جانے دے ساتھ چلنا ہے تو پھر چھوڑ دے ساری دنیا چل نہ پائے تو مجھے لوٹ کے گھر جانے دے زندگی میں نے اسے کیسے پرویا تھا نہ سوچ ہار ٹوٹا ہے تو موتی بھی بکھر جانے دے ان اندھیروں سے ہی سورج کبھی نکلے گا نظیرؔ رات کے سائے ذرا اور نکھر جانے دے

apni aankhon ke samundar mein utar jaane de

غزل · Ghazal

دھواں بنا کے فضا میں اڑا دیا مجھ کو میں جل رہا تھا کسی نے بجھا دیا مجھ کو ترقیوں کا فسانہ سنا دیا مجھ کو ابھی ہنسا بھی نہ تھا اور رلا دیا مجھ کو میں ایک ذرہ بلندی کو چھونے نکلا تھا ہوا نے تھم کے زمیں پر گرا دیا مجھ کو سفید سنگ کی چادر لپیٹ کر مجھ پر فصیل شہر پہ کس نے سجا دیا مجھ کو کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو نہ جانے کون سا جذبہ تھا جس نے خود ہی نظیرؔ مری ہی ذات کا دشمن بنا دیا مجھ کو

dhuaan banaa ke fazaa mein uDaa diyaa mujh ko

غزل · Ghazal

یاد نہیں کیا کیا دیکھا تھا سارے منظر بھول گئے اس کی گلیوں سے جب لوٹے اپنا بھی گھر بھول گئے خوب گئے پردیس کے اپنے دیوار و در بھول گئے شیش محل نے ایسا گھیرا مٹی کے گھر بھول گئے تجھ کو بھی جب اپنی قسمیں اپنے وعدے یاد نہیں ہم بھی اپنے خواب تری آنکھوں میں رکھ کر بھول گئے مجھ کو جنھوں نے قتل کیا ہے کوئی انہیں بتلائے نذیرؔ میری لاش کے پہلو میں وہ اپنا خنجر بھول گئے

yaad nahin kyaa kyaa dekhaa thaa saare manzar bhuul gae

غزل · Ghazal

روز خوابوں میں نئے رنگ بھرا کرتا تھا کون تھا جو مری آنکھوں میں رہا کرتا تھا انگلیاں کاٹ کے وہ اپنے لہو سے اکثر پھول پتوں پہ مرا نام لکھا کرتا تھا کیسا قاتل تھا جو ہاتھوں میں لیے تھا خنجر چپکے چپکے مرے جینے کی دعا کرتا تھا ہائے قسمت کہ یہی چھوڑ کے جانے والا عمر بھر ساتھ نباہیں گے کہا کرتا تھا پھول سا جسم سلگتے ہوئے صندل کی طرح دل کے مندر میں سر شام جلا کرتا تھا وہ جو اک لمحہ کسی یاد میں کٹتا تھا نظیرؔ دل کے جلتے ہوئے شعلوں کو ہوا کرتا تھا

roz khvaabon mein nae rang bharaa kartaa thaa

Similar Poets