SHAWORDS
Nushur Wahidi

Nushur Wahidi

Nushur Wahidi

Nushur Wahidi

poet
33Sher
33Shayari
16Ghazal

Sherشعر

See all 33

Popular Sher & Shayari

66 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

hama-girya silk-e-shabnam hama-ashk bazm-e-anjum

ہمہ گریہ سلک‌ شبنم ہمہ اشک بزم انجم جو نہ گل بھی مسکرائے تو کہاں رہے تبسم نہ خطا مری نظر کی نہ گنہ ترے کرم کا کہ نصیب عاشقاں ہے یہ شکست‌ بے تصادم تھی بھری بہار لیکن گل‌ و بوئے گل نے سمجھا نگہ چمن سے چھپ کر جو کبھی ملے ہیں ہم تم کہیں برق جگمگائی کہیں پھول مسکرائے جو ترے لبوں کو چھوکر ہوا منتشر تبسم کوئی راہ ہے محبت تو ہجوم ہے جوانی کہیں پاؤں ڈگمگائے کہیں زندگی ہوئی گم جسے غم سے کچھ ملا ہے وہی ہم نفس ہے میرا جو شکستہ ساز دل ہو تو سنو مرا ترنم یہ سمجھ لو زندگی ہے سفر ہزار جادہ غم کارواں سے چھوٹے تو نشورؔ کھو گئے تم

غزل · Ghazal

pairaahan-e-rangin se sho'la saa nikaltaa hai

پیراہن رنگیں سے شعلہ سا نکلتا ہے معصوم ہے کیا جانے دامن کہیں جلتا ہے میری مژۂ غم پر لرزاں ہے حقیقت سی ان کے لب لعلیں پر افسانہ مچلتا ہے اچھی ہے رہے تھوڑی یہ جلوہ طرازی بھی رقص مہ و انجم میں دیوانہ بہلتا ہے عنوان ترقی ہے یہ تیرہ فضائی بھی کچھ گرد بھی اٹھتی ہے جب قافلہ چلتا ہے ہے شام ابھی کیا ہے بہکی ہوئی باتیں ہیں کچھ رات ڈھلے ساقی مے خانہ سنبھلتا ہے بس دیکھ چکی دنیا یہ بزم فروزی بھی رکھا ہے چراغ ایسا بجھتا ہے نہ جلتا ہے اک سحر شبستاں ہے یہ فن جہاں رانی دنیا ہے کہ سوتی ہے جادو ہے کہ چلتا ہے افلاس کے آنسو سے طوفاں بھی لرزتے ہیں شعلوں کا جگر گویا شبنم سے دہلتا ہے مطرب بہ لب لعلیں ساقی بہ مے و مینا اس گرمئ محفل میں ایمان پگھلتا ہے

غزل · Ghazal

dil-o-dilbar sahi ab khvaab se bedaar hain donon

دل و دلبر سہی اب خواب سے بیدار ہیں دونوں شریک‌ مجلس آرائش گفتار ہیں دونوں چمن میں کیا ہوا گلچیں ہو با‌گلکار کیا جانے نظر آتا نہیں کچھ نرگس بیمار ہیں دونوں نگاہ اہل دنیا ہو کہ چشم نیم خواب ان کی کبھی اقرار ہیں دونوں کبھی انکار ہیں دونوں عبادت خانہ ہائے کفر و ایماں میں گیا لیکن ندا آئی کہ واپس جا یہاں غدار ہیں دونوں جدھر دولت کی کرنیں ہیں ادھر جاتا نہیں کوئی وہ عاشق ہو کہ شاعر سایۂ دیوار ہیں دونوں درون حلقۂ گنگ و جمن ہے شعر کی دنیا یہ دلی لکھنؤ بھی کچھ نہیں اس پار ہیں دونوں تغافل کی ادا ہو یا حکومت کی اداکاری برا کس کو کہوں میرے لیے سرکار ہیں دونوں

غزل · Ghazal

tez-tar lahja-e-guftaar kiyaa hai ham ne

تیز تر لہجۂ گفتار کیا ہے ہم نے برگ گل کو کبھی تلوار کیا ہے ہم نے شعلۂ تیغ کو آغوش نظر میں لے کر زیست میں موت کو بھی پیار کیا ہے ہم نے کتنے منصوروں کا خوں دے کے ترے کوچے میں احترام رسن و دار کیا ہے ہم نے مے کدہ والوں کو ساقی کا حوالہ دے کر ایک آواز پہ ہشیار کیا ہے ہم نے غیر کے خام ارادوں کو کیا ہے پسپا عزم کو آہنی دیوار کیا ہے ہم نے امن کہتے ہیں جسے روح ہے آزادی کی ایک عالم کو خبردار کیا ہے ہم نے غیر کو پہلے ہی پہچان لیا تھا لیکن ہوش میں آنے کو اک وار کیا ہے ہم نے خون کے داغ چٹانوں پہ جو پائے ہیں نشورؔ چوم کر لالۂ کہسار کیا ہے ہم نے

غزل · Ghazal

ek raat aati hai ek raat jaati hai

ایک رات آتی ہے ایک رات جاتی ہے گیسوؤں کے سائے میں کس کو نیند آتی ہے سلسلہ غم دل کا بے سبب نظر آیا شمع سے کوئی پوچھے کیوں لہو جلاتی ہے حسن سے بھی کچھ بڑھ کر بے نیاز ہے یہ غم داغ دل محبت بھی گن کے بھول جاتی ہے نام پڑ گیا اس کا کوچۂ حرم لیکن یہ گلی بھی اے زاہد میکدے کو جاتی ہے چلتے چلتے نبض غم ڈوبتی ہے یوں اکثر اک تھکے مسافر کو جیسے نیند آتی ہے ہاتھ رکھتی جاتی ہے یاس دل کے داغوں پر میں دیا جلاتا ہوں وہ دیا بجھاتی ہے مٹ گئے نشورؔ آ کر ذہن میں ہزاروں غم شعریت کا عالم بھی رمز بے ثباتی ہے

غزل · Ghazal

zaahid asir-e-gesu-e-jaanaan na ho sakaa

زاہد اسیر گیسوئے جاناں نہ ہو سکا جو مطمئن ہوا وہ پریشاں نہ ہو سکا قید خودی میں آدمی انساں نہ ہو سکا ذرہ سمٹ گیا تو بیاباں نہ ہو سکا دامن تک آ کے چاک گریباں بھی رہ گیا اندازۂ بہار گلستاں نہ ہو سکا خون دل و جگر نہ تبسم بنا نہ اشک مضمون‌ آرزو کوئی عنواں نہ ہو سکا مرنا تو ایک بار ہوا سہل بھی مگر جینا کسی طرح کبھی آساں نہ ہو سکا بڑھتا ہی جا رہا ہے زمانے کا اضطراب دنیا کے درد کا کوئی درماں نہ ہو سکا مستقبل حیات کے عرفاں سے میں نشورؔ اس دور پر فریب کا انساں نہ ہو سکا

Similar Poets