"shayad kisi ki yaad ka mausam phir aa gaya pahlu men dil ki tarah dhaDakne lagi hai shaam"

Owais Ahmad Dauran
Owais Ahmad Dauran
Owais Ahmad Dauran
Sherشعر
See all 12 →shayad kisi ki yaad ka mausam phir aa gaya
شاید کسی کی یاد کا موسم پھر آ گیا پہلو میں دل کی طرح دھڑکنے لگی ہے شام
kuchh dard ke maare hain kuchh naaz ke hain paale
کچھ درد کے مارے ہیں کچھ ناز کے ہیں پالے کچھ لوگ ہیں ہم جیسے کچھ لوگ ہیں تم جیسے
bahti nahin hai mard ki a.ankhon se ju-e-ashk
بہتی نہیں ہے مرد کی آنکھوں سے جوئے اشک لیکن ہمیں بتاؤ کہ ہم کس لئے ہنسیں
ye sehn-e-gulistan nahin maqtal hai rafiqo!
یہ صحن گلستاں نہیں مقتل ہے رفیقو! ہر شاخ ہے تلوار یہاں، جاگتے رہنا
un makanon men bhi insan hi rahte honge
ان مکانوں میں بھی انسان ہی رہتے ہوں گے رونقیں جن میں نہیں آپ کی محفل کی سی
sab mastiyon men phenko na patthar idhar udhar
سب مستیوں میں پھینکو نہ پتھر ادھر ادھر دیوانو! اس دیار میں شیشے کے گھر بھی ہیں
Popular Sher & Shayari
24 total"kuchh dard ke maare hain kuchh naaz ke hain paale kuchh log hain ham jaise kuchh log hain tum jaise"
"bahti nahin hai mard ki a.ankhon se ju-e-ashk lekin hamen batao ki ham kis liye hansen"
"ye sehn-e-gulistan nahin maqtal hai rafiqo! har shakh hai talvar yahan, jagte rahna"
"un makanon men bhi insan hi rahte honge raunaqen jin men nahin aap ki mahfil ki si"
"sab mastiyon men phenko na patthar idhar udhar divano! is dayar men shishe ke ghar bhi hain"
bahti nahin hai mard ki aaankhon se ju-e-ashk
lekin hamein bataao ki ham kis liye hansein
ye sehn-e-gulistaan nahin maqtal hai rafiqo!
har shaakh hai talvaar yahaan, jaagte rahnaa
un makaanon mein bhi insaan hi rahte honge
raunaqein jin mein nahin aap ki mahfil ki si
paivand ki tarah nazar aataa hai bad-numaa
pukhta makaan kachche gharon ke hujum mein
shaayad kisi ki yaad kaa mausam phir aa gayaa
pahlu mein dil ki tarah dhaDakne lagi hai shaam
kuchh dard ke maare hain kuchh naaz ke hain paale
kuchh log hain ham jaise kuchh log hain tum jaise
Ghazalغزل
chup rahoge to zamaana is se bad-tar aaegaa
چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گا آنے والا دن لئے ہاتھوں میں خنجر آئے گا وہ لہو پی کر بڑے انداز سے کہتا ہے یہ غم کا ہر طوفان اس کے گھر کے باہر آئے گا کیا تماشا ہے ڈرے سہمے ہوئے ہیں سارے لوگ کیا مری بستی میں کوئی ظالم افسر آئے گا لوٹ کر پیچھے کبھی جاتی نہیں رفتار وقت زندگی کو اب مٹانے کون خود سر آئے گا میں ہوں اس بزم حسیں کا مدتوں سے منتظر سب کے ہاتھوں میں جہاں لبریز ساغر آئے گا تم اسی وادی میں ٹھہرو انتظار اس کا کرو وہ تمہارے پاس اک پیغام لے کر آئے گا کوچہ کوچہ سے اٹھے گی غم زدوں کی ایک لہر قریہ قریہ سے بہی خواہوں کا لشکر آئے گا ہاتھ میں مشعل لیے ہر سمت پہرے پر رہو رات کی چادر لپیٹے حملہ آور آئے گا دیکھ اے سیاح میرے دیس کی اجڑی بہار اس سے بڑھ کر بھی کوئی غمگین منظر آئے گا میری سرخیٔ تصور سے ہیں کیوں ناراض آپ کیا ہرا پیڑ آپ تک بھی پھول لے کر آئے گا ڈھل چلی دوراںؔ جوانی کی چمکتی دوپہر اب بھلا پہلو میں میرے کون دلبر آئے گا
in jhilmilaate chaand sitaaron ki chhaanv mein
ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میں دھیمے سروں میں گائے جو بابل تو ہم سنیں آنگن میں تیرے پھول رہی ہوگی کامنی! جی چاہتا ہے آج بسیرا وہیں کریں یہ چاند آج اگا ہے بڑی آرزو کے بعد آؤ مئے نشاط پئیں غم غلط کریں اپنی سہاگ رات کبھی بھولتیں نہیں میرے حسیں دیار کی شرمیلی عورتیں رنگ حنا سے سرخ رہیں ان کی انگلیاں اے کاش ساری عمر وہ دولہن بنی رہیں پیارے ہیں آج ہم بھی بہت دیر سے نڈھال تم بھی تھکے ہوئے ہو چلو آؤ سو رہیں جانے ہے کون محو سفر آدھی رات کو جانے یہ کس کی دور سے آتی ہیں آہٹیں ہم کو بلا لیا کرو باتیں کیا کرو دل میں تمہارے درد کے طوفان جب اٹھیں افتادگان راہ کے دل پر لگے گی چوٹ منزل پہ جا کے قافلے آواز یوں نہ دیں تم نے تمام باغ کو ویران کر دیا ایندھن کے تاجرو یہ پپیہے کہاں رہیں ہر مرحلہ پہ دوراںؔ ہمیں ان کی ہو تلاش ہر منزل حیات پہ ان کا ہی نام لیں
ai ham-nafaso! shab hai giraan jaagte rahnaa
اے ہم نفسو! شب ہے گراں جاگتے رہنا ہر لحظہ ہے یاں خطرۂ جاں جاگتے رہنا ایسا نہ ہو یہ رات کوئی حشر اٹھا دے اٹھتا ہے ستاروں سے دھواں جاگتے رہنا اب حسن کی دنیا میں بھی آرام نہیں ہے ہے شور سر کوئے بتاں جاگتے رہنا یہ صحن گلستاں نہیں مقتل ہے رفیقو! ہر شاخ ہے تلوار یہاں جاگتے رہنا بے داروں کی دنیا کبھی لٹتی نہیں دوراںؔ اک شمع لئے تم بھی یہاں جاگتے رہنا
har saans ko mahkaaiye ab der na kiije
ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجے اک پھول سا کھل جائیے اب دیر نہ کیجے اک جام محبت سے مسرت سے بھرا جام چھلکائیے چھلکائیے اب دیر نہ کیجے سچ کہتا ہوں اک عمر سے پیاسی ہے یہ محفل پیمانہ بکف آئیے اب دیر نہ کیجے ساون کی گھٹا بن کے سلگتی ہوئی رت میں دنیا پہ برس جائیے اب دیر نہ کیجے زنجیر میں جکڑے ہوئے دیوانوں کو اپنے سولی سے اتروائیے اب دیر نہ کیجے سناٹا ہر اک روح کو اب ڈسنے لگا ہے اک گیت کوئی گائیے اب دیر نہ کیجے اس عہد شرر بار پہ پھر امن کی شبنم برسائیے برسائیے اب دیر نہ کیجے تلواروں نے چمکایا ہے مقتل کی زمیں کو تلواروں کو دفنائیے اب دیر نہ کیجے اک اور حسیں خواب کہ مٹ جائے شب غم دوراںؔ کو بھی دکھلائیے اب دیر نہ کیجے
is daur ne bakhshe hain duniyaa ko ajab tohfe
اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفے گھبرائے ہوئے پیکر اکتائے ہوئے چہرے کچھ درد کے مارے ہیں کچھ ناز کے ہیں پالے کچھ لوگ ہیں ہم جیسے کچھ لوگ ہیں تم جیسے ہر گاؤں سہانا ہو ہر شہر چمک اٹھے دل کی یہ تمنا ہے پوری ہو مگر کیسے بپھری ہوئی دنیا نے پتھر تو بہت پھینکے یہ شیش محل لیکن اے دوست کہاں ٹوٹے یوں ہی تو نہیں بہتی یہ دھار لہو جیسی اس بار فضاؤں سے خنجر ہی بہت برسے کیوں آگ بھڑک اٹھی شاعر کے خیالوں کی یہ راز کی باتیں ہیں نادان تو کیا جانے سو بار سنا ہم نے سو بار ہنسی آئی وہ کہتے ہیں پتھر کو ہم موم بنا دیں گے پھر گوش تصور میں ابا کی صدا آئی پھر اس نے در دل پہ آواز دی چپکے سے اس خاک پہ بکھرا ہے اک پھول ہمارا بھی جب باد صبا آئے کچھ دیر یہاں ٹھہرے افسانہ نما کوئی روداد نہیں میری جھانکا نہ کبھی میں نے خوابوں کے دریچے سے مشکل ہے یہ دوراںؔ اس بھیڑ کو سمجھانا مڑ مڑ کے جو رہزن سے منزل کا پتہ پوچھے
khazaane bhi milein is ke evaz to ham na becheinge
خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے ہمارا غم ہے مظلوموں کا غم یہ غم نہ بیچیں گے کہستانوں سے پتھر کاٹ کر لائیں گے ہم لیکن کسی ظالم کے ہاتھوں زخم کا مرہم نہ بیچیں گے بلا سے دھول پھانکیں یا پرانے چیتھڑے پہنیں مگر یارو متاع علم و دانش ہم نہ بیچیں گے کسی دربار میں جا کر ادب اور فن کی صورت میں تمہاری عنبریں زلفوں کے پیچ و خم نہ بیچیں گے ہمارا انقلاب آئے گا جب تو کام آئے گا ابھی اپنی تمنا کا اجالا ہم نہ بیچیں گے گلستاں بیچ کر کھانا ہوس کاروں کا شیوہ ہے چمن والو پپیہوں کا ترنم ہم نہ بیچیں گے بھری محفل میں دوراںؔ آج ہم پھر عہد کرتے ہیں جو ہے انسانیت کی آس وہ پرچم نہ بیچیں گے





