SHAWORDS
Owais Ahmad Dauran

Owais Ahmad Dauran

Owais Ahmad Dauran

Owais Ahmad Dauran

poet
12Sher
12Shayari
6Ghazal

Sherشعر

See all 12

Popular Sher & Shayari

24 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

chup rahoge to zamaana is se bad-tar aaegaa

چپ رہوگے تو زمانہ اس سے بد تر آئے گا آنے والا دن لئے ہاتھوں میں خنجر آئے گا وہ لہو پی کر بڑے انداز سے کہتا ہے یہ غم کا ہر طوفان اس کے گھر کے باہر آئے گا کیا تماشا ہے ڈرے سہمے ہوئے ہیں سارے لوگ کیا مری بستی میں کوئی ظالم افسر آئے گا لوٹ کر پیچھے کبھی جاتی نہیں رفتار وقت زندگی کو اب مٹانے کون خود سر آئے گا میں ہوں اس بزم حسیں کا مدتوں سے منتظر سب کے ہاتھوں میں جہاں لبریز ساغر آئے گا تم اسی وادی میں ٹھہرو انتظار اس کا کرو وہ تمہارے پاس اک پیغام لے کر آئے گا کوچہ کوچہ سے اٹھے گی غم زدوں کی ایک لہر قریہ قریہ سے بہی خواہوں کا لشکر آئے گا ہاتھ میں مشعل لیے ہر سمت پہرے پر رہو رات کی چادر لپیٹے حملہ آور آئے گا دیکھ اے سیاح میرے دیس کی اجڑی بہار اس سے بڑھ کر بھی کوئی غمگین منظر آئے گا میری سرخیٔ تصور سے ہیں کیوں ناراض آپ کیا ہرا پیڑ آپ تک بھی پھول لے کر آئے گا ڈھل چلی دوراںؔ جوانی کی چمکتی دوپہر اب بھلا پہلو میں میرے کون دلبر آئے گا

غزل · Ghazal

in jhilmilaate chaand sitaaron ki chhaanv mein

ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میں دھیمے سروں میں گائے جو بابل تو ہم سنیں آنگن میں تیرے پھول رہی ہوگی کامنی! جی چاہتا ہے آج بسیرا وہیں کریں یہ چاند آج اگا ہے بڑی آرزو کے بعد آؤ مئے نشاط پئیں غم غلط کریں اپنی سہاگ رات کبھی بھولتیں نہیں میرے حسیں دیار کی شرمیلی عورتیں رنگ حنا سے سرخ رہیں ان کی انگلیاں اے کاش ساری عمر وہ دولہن بنی رہیں پیارے ہیں آج ہم بھی بہت دیر سے نڈھال تم بھی تھکے ہوئے ہو چلو آؤ سو رہیں جانے ہے کون محو سفر آدھی رات کو جانے یہ کس کی دور سے آتی ہیں آہٹیں ہم کو بلا لیا کرو باتیں کیا کرو دل میں تمہارے درد کے طوفان جب اٹھیں افتادگان راہ کے دل پر لگے گی چوٹ منزل پہ جا کے قافلے آواز یوں نہ دیں تم نے تمام باغ کو ویران کر دیا ایندھن کے تاجرو یہ پپیہے کہاں رہیں ہر مرحلہ پہ دوراںؔ ہمیں ان کی ہو تلاش ہر منزل حیات پہ ان کا ہی نام لیں

غزل · Ghazal

ai ham-nafaso! shab hai giraan jaagte rahnaa

اے ہم نفسو! شب ہے گراں جاگتے رہنا ہر لحظہ ہے یاں خطرۂ جاں جاگتے رہنا ایسا نہ ہو یہ رات کوئی حشر اٹھا دے اٹھتا ہے ستاروں سے دھواں جاگتے رہنا اب حسن کی دنیا میں بھی آرام نہیں ہے ہے شور سر کوئے بتاں جاگتے رہنا یہ صحن گلستاں نہیں مقتل ہے رفیقو! ہر شاخ ہے تلوار یہاں جاگتے رہنا بے داروں کی دنیا کبھی لٹتی نہیں دوراںؔ اک شمع لئے تم بھی یہاں جاگتے رہنا

غزل · Ghazal

har saans ko mahkaaiye ab der na kiije

ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجے اک پھول سا کھل جائیے اب دیر نہ کیجے اک جام محبت سے مسرت سے بھرا جام چھلکائیے چھلکائیے اب دیر نہ کیجے سچ کہتا ہوں اک عمر سے پیاسی ہے یہ محفل پیمانہ بکف آئیے اب دیر نہ کیجے ساون کی گھٹا بن کے سلگتی ہوئی رت میں دنیا پہ برس جائیے اب دیر نہ کیجے زنجیر میں جکڑے ہوئے دیوانوں کو اپنے سولی سے اتروائیے اب دیر نہ کیجے سناٹا ہر اک روح کو اب ڈسنے لگا ہے اک گیت کوئی گائیے اب دیر نہ کیجے اس عہد شرر بار پہ پھر امن کی شبنم برسائیے برسائیے اب دیر نہ کیجے تلواروں نے چمکایا ہے مقتل کی زمیں کو تلواروں کو دفنائیے اب دیر نہ کیجے اک اور حسیں خواب کہ مٹ جائے شب غم دوراںؔ کو بھی دکھلائیے اب دیر نہ کیجے

غزل · Ghazal

is daur ne bakhshe hain duniyaa ko ajab tohfe

اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفے گھبرائے ہوئے پیکر اکتائے ہوئے چہرے کچھ درد کے مارے ہیں کچھ ناز کے ہیں پالے کچھ لوگ ہیں ہم جیسے کچھ لوگ ہیں تم جیسے ہر گاؤں سہانا ہو ہر شہر چمک اٹھے دل کی یہ تمنا ہے پوری ہو مگر کیسے بپھری ہوئی دنیا نے پتھر تو بہت پھینکے یہ شیش محل لیکن اے دوست کہاں ٹوٹے یوں ہی تو نہیں بہتی یہ دھار لہو جیسی اس بار فضاؤں سے خنجر ہی بہت برسے کیوں آگ بھڑک اٹھی شاعر کے خیالوں کی یہ راز کی باتیں ہیں نادان تو کیا جانے سو بار سنا ہم نے سو بار ہنسی آئی وہ کہتے ہیں پتھر کو ہم موم بنا دیں گے پھر گوش تصور میں ابا کی صدا آئی پھر اس نے در دل پہ آواز دی چپکے سے اس خاک پہ بکھرا ہے اک پھول ہمارا بھی جب باد صبا آئے کچھ دیر یہاں ٹھہرے افسانہ نما کوئی روداد نہیں میری جھانکا نہ کبھی میں نے خوابوں کے دریچے سے مشکل ہے یہ دوراںؔ اس بھیڑ کو سمجھانا مڑ مڑ کے جو رہزن سے منزل کا پتہ پوچھے

غزل · Ghazal

khazaane bhi milein is ke evaz to ham na becheinge

خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے ہمارا غم ہے مظلوموں کا غم یہ غم نہ بیچیں گے کہستانوں سے پتھر کاٹ کر لائیں گے ہم لیکن کسی ظالم کے ہاتھوں زخم کا مرہم نہ بیچیں گے بلا سے دھول پھانکیں یا پرانے چیتھڑے پہنیں مگر یارو متاع علم و دانش ہم نہ بیچیں گے کسی دربار میں جا کر ادب اور فن کی صورت میں تمہاری عنبریں زلفوں کے پیچ و خم نہ بیچیں گے ہمارا انقلاب آئے گا جب تو کام آئے گا ابھی اپنی تمنا کا اجالا ہم نہ بیچیں گے گلستاں بیچ کر کھانا ہوس کاروں کا شیوہ ہے چمن والو پپیہوں کا ترنم ہم نہ بیچیں گے بھری محفل میں دوراںؔ آج ہم پھر عہد کرتے ہیں جو ہے انسانیت کی آس وہ پرچم نہ بیچیں گے

Similar Poets