vaqt achchhaa zarur aataa hai
par kabhi vaqt par nahin aataa

Parvez Sahir
Parvez Sahir
Parvez Sahir
Popular Shayari
6 totalitnaa be-aasraa nahin huun main
aadmi huun khudaa nahin huun main
meri fitrat hi mein shaamil hai mohabbat karnaa
aur fitrat kabhi tabdil nahin ho sakti
puchhaa thaa main ne jab use kyaa mujh se ishq hai?
us ko mire savaal pe hairat nahin hui
'saahir' ye meraa dida-e-giryaan hai aur main
sahraa mein koi dusraa jharnaa to hai nahin
bas ek dhyaan ki main ungli thaam rakhi hai
ki bhiiD mein kahin khud se judaa na ho jaaun
Ghazalغزل
نیرنگئ خیال پہ حیرت نہیں ہوئی مجھ کو کسی کمال پہ حیرت نہیں ہوئی میری تباہ حالی کو بھی دیکھ کر اسے حیرت ہے میرے حال پہ حیرت نہیں ہوئی پوچھا تھا میں نے جب اسے کیا مجھ سے عشق ہے؟ اس کو مرے سوال پہ حیرت نہیں ہوئی دیکھا جو ایک عمر کے بعد اس نے آئنا خود اپنے خد و خال پہ حیرت نہیں ہوئی اک عمر سے میں رفتۂ رفتار یار ہوں مجھ کو رم غزال پہ حیرت نہیں ہوئی آخر غروب ہونا ہی تھا آفتاب عمر مجھ کو مرے زوال پہ حیرت نہیں ہوئی وہ شخص اس جہان کا تھا ہی نہیں کبھی ساحرؔ کے انتقال پہ حیرت نہیں ہوئی
nairangi-e-khayaal pe hairat nahin hui
بزعم خود کہیں خود سے ورا نہ ہو جاؤں خدا نخواستہ میں بھی خدا نہ ہو جاؤں بس ایک دھیان کی میں انگلی تھام رکھی ہے کہ بھیڑ میں کہیں خود سے جدا نہ ہو جاؤں یہ سوچتا ہوں کسی دل میں گھر کروں میں بھی اور اس سے پہلے یہاں بے ٹھکانہ ہو جاؤں یہ جی میں آتا ہے میرے کہ رفتگاں کی طرح میں آج ملک عدم کو روانہ ہو جاؤں سب اہل دہر مجھے ڈھونڈتے نہ رہ جائیں میں اپنی ذات ہی میں لاپتا نہ ہو جاؤں کوئی تو ہو جو مجھے زندگی ہی میں پائے کسی کے ہاتھ میں آیا خزانہ ہو جاؤں جو ہو سکے تو مرے جیتے جی ہی قدر کرو مبادا میں کوئی گزرا زمانہ ہو جاؤں بس ایک تجربہ میرے لئے بہت ہے دلا اک اور عشق میں پھر مبتلا نہ ہو جاؤں میں اک چراغ سر رہ گزار ہوں ساحرؔ ہوا کے ساتھ بالآخر ہوا نہ ہو جاؤں
ba-zom-e-khud kahin khud se varaa na ho jaaun
عدل کو بھی میزان میں رکھنا پڑتا ہے ہر احسان احسان میں رکھنا پڑتا ہے یوں ہی گیان کی دولت ہاتھ نہیں آتی بے دھیانی کو دھیان میں رکھنا پڑتا ہے جب بھی سفر پر جانے لگو تو یاد رہے خود کو بھی سامان میں رکھنا پڑتا ہے اپنے ہونے اور نہ ہونے کا امکان ہونی کے امکان میں رکھنا پڑتا ہے اس نیلے آکاش کو چھو لینے کے لئے خود کو اونچی اڑان میں رکھنا پڑتا ہے یوں ہی جنگ کبھی جیتی نہیں جا سکتی قدم اپنا میدان میں رکھنا پڑتا ہے تھوڑی دیر تلاوت کر چکنے کے بعد مور کا پر قرآن میں رکھنا پڑتا ہے کبھی کبھی تو نفع کے لالچ میں ساحرؔ! خود کو کسی نقصان میں رکھنا پڑتا ہے
adl ko bhi mizaan mein rakhnaa paDtaa hai
کوئی نظر نہ پڑ سکے مجھ حال مست پر بیٹھا ہوا ہوں اس لیے پچھلی نشست پر اک موج آتشیں رگ و پے میں اتر گئی رکھا ہے اس نے جوں ہی کف دست، دست پر کب راس آئی مجھ کو مری فتح کی خوشی میں دل شکستہ ہو گیا اس کی شکست پر ہے یاد مجھ کو آج بھی پہلا مکالمہ قایم ہوں میں تو آج بھی عہد الست پر کیسے سنبھال رکھا ہے اک ذات نے اسے ششدر ہوں کائنات کے کل بند و بست پر طے مرحلہ کیا ہے عدم سے وجود کا پہنچا ہوں تب میں منزل نا ہست و ہست پر ساحرؔ! میں اپنے آپ سے آگے نکل گیا حیرت زدہ ہیں سب مری روحانی جست پر
koi nazar na paD sake mujh haal-mast par
چشم خوش آب کی تمثیل نہیں ہو سکتی ایسی شفاف کوئی جھیل نہیں ہو سکتی میری فطرت ہی میں شامل ہے محبت کرنا اور فطرت کبھی تبدیل نہیں ہو سکتی اس کے دل میں مجھے اک جوت جگانا پڑے گی خود ہی روشن کوئی قندیل نہیں ہو سکتی سکہ داغ و زر غم سے بھرا ہے مرا دل دیکھ خالی مری زنبیل نہیں ہو سکتی اس لیے شدت صدمات میں رو دیتا ہوں مجھ سے جذبات کی تشکیل نہیں ہو سکتی دکھ تو یہ ہے، وہ مرے دکھ کو سمجھتا ہی نہیں اس تک احساس کی ترسیل نہیں ہو سکتی چھوڑ آیا ہوں ترا دفتر دربار نما اب ترے حکم کی تعمیل نہیں ہو سکتی اس کثافت کی لطافت سے بھلا کیا نسبت؟ تیرگی نور میں تحلیل نہیں ہو سکتی لازمی تو نہیں ساحرؔ! وہ مجھے مل جائے یعنی ہر خواب کی تکمیل نہیں ہو سکتی
chashm-e-khush-aab ki tamsil nahin ho sakti





