SHAWORDS
Qadr Oraizi

Qadr Oraizi

Qadr Oraizi

Qadr Oraizi

poet
11Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

11 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

ضبط کر آہ بار بار نہ کر غم الفت کو شرمسار نہ کر جس کو خود اپنا اعتبار نہ ہو ایسے انساں کا اعتبار نہ کر اس کے فضل و کرم پہ رکھ نظریں اپنے سجدوں کا اعتبار نہ کر باغ اجڑنے کا غم ہی کیا کم ہے جانے بھی دے غم بہار نہ کر لوگ تجھ کو حقیر سمجھیں گے حد سے زائد بھی انکسار نہ کر وقت سے فائدہ اٹھا لیکن وقت کا کوئی اعتبار نہ کر لطف اٹھا بس نگاہ اول سے ہر نظر کو گناہ گار نہ کر جس سے فتنے بپا ہوں دنیا میں ایسے غافل کو ہوشیار نہ کر قدرؔ کو تو نے دی ہے جب عزت اے خدا اس کو بے وقار نہ کر

zabt kar aah baar baar na kar

غزل · Ghazal

تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربط میری سبک سری کو ہے بار گراں سے ربط دنیا کو ہم سے کام نہ دنیا سے ہم کو کام خاطر سے تیری رکھتے ہیں سارے جہاں سے ربط اڑتے ہی گرد جاتی ہے جو سوئے آسماں ہے کچھ نہ کچھ زمین کو بھی آسماں سے ربط اظہار حال کے لئے صورت سوال ہے ہے گفتگو سے کام نہ ہم کو زباں سے ربط چشمے کی طرح رہتی ہیں جاری مدام یہ آنکھوں کو ہو گیا ہے جو آب رواں سے ربط بے ربطیوں نے قدرؔ مٹائی جو ربط کی ہے گوشت کو بھی اپنے نہ اب استخواں سے ربط

tegh-e-jafaa ko teri nahin imtihaan se rabt

غزل · Ghazal

خاموش اس طرح سے نہ جل کر دھواں اٹھا اے شمع کچھ تو بول کبھی تو زباں اٹھا بت بن کے چپکے فتنے نہ یوں میری جاں اٹھا منہ میں اگر زباں ہے تو لطف زباں اٹھا ہے کوسوں دور منزل انجام گفتگو تیزی کے ساتھ اپنے قدم اے زباں اٹھا ڈر ہے یہی کہ کشتی مضموں نہ ڈوب جائے رہ رہ کے اتنی موجیں نہ بحر زباں اٹھا اب دور میں ہے رندوں کے پیمانۂ کلام پھر آ گئی بہار پھر ابر زباں اٹھا کر اس قدر نہ ذوق تکلم کو شرمسار اپنا سر نیاز کبھی تو زباں اٹھا کہتا ہے قدرؔ دیکھ کے تیرے سکوت کو کچھ فائدہ کلام سے بھی اے زباں اٹھا

khaamosh is tarah se na jal kar dhuaan uThaa

غزل · Ghazal

اس پہ دھبہ نہ لگا نام کو رسوائی کا آج تک پاک ہے دامن مری بینائی کا یاد ہے کس کو سبب اس کی شناسائی کا وہ بھی اک ہوگا کرشمہ اسی بینائی کا گرمیٔ ذوق نظارہ سے نہیں اشک رواں اصل میں ہے یہ پسینہ مری بینائی کا ٹھوکروں سے مری نظروں کو الٰہی تو بچا اب قدم بڑھنے لگا ہے مری بینائی کا ہوں گے طے بعد تقرب کے مراحل سارے دیکھ لینا ہی بڑا کام ہے بینائی کا اس میں ہر وقت بھری رہتی ہے نظروں کی شراب آنکھ پیمانہ ہے مے خانۂ بینائی کا آ گئی چشم کرم حضرت زیرک کی جو یاد قدرؔ نے قید کیا قافیہ بینائی کا

is pe dhabba na lagaa naam ko rusvaai kaa

غزل · Ghazal

رنگ ظلم دست وحشت جب نمایاں ہو گیا منظر قوس قزح چاک گریباں ہو گیا اوج و پستی دیکھ کر وحشت کی حیراں ہو گیا جب گریباں دامن اور دامن گریباں ہو گیا ہو گیا ہے اب تو بے آزار جینا ناگزیر درد سمجھا تھا جسے ہم نے وہ درماں ہو گیا پائے وحشت کو مرے بڑھنے نہیں دیتا کبھی اب تو کوتاہی میں دامن بھی گریباں ہو گیا ہے تحیر کے لیے جب میری آنکھوں کا وجود کیا خطا کی دیکھ کر تم کو جو حیراں ہو گیا ہو گیا ہے چیرہ دستیٔ جنوں سے چاک چاک اب گریباں واقعی میرا گریباں ہو گیا ہو گیا ہے قدرؔ سا ضابط پریشاں حال اب مختصر قصہ یہ اے زلف پریشاں ہو گیا

rang-e-zulm-e-dast-e-vahshat jab numaayaan ho gayaa

غزل · Ghazal

دست جنوں نے مجھ کو پریشاں بنا دیا جو چیز ہاتھ آئی گریباں بنا دیا آخر مرے جنون سلیقہ شعار نے کانٹے کو پھول گل کو گلستاں بنا دیا اے حسن لا یزال یہ افضال تھے ترے جو ذوق عشق نے مجھے انساں بنا دیا تو اے خیال گل صد و سی سال زندہ باد تو نے مرے قفس کو گلستاں بنا دیا حسن تجلیات نے انداز خاص سے آئینۂ خیال کو حیراں بنا دیا کھینچے وہ بیل بوٹے اتارے وہ پھول پھل دامن کو اشک خوں نے گلستاں بنا دیا دل کو ہمارے وحشت عاشق نواز نے سرمایۂ خیال پریشاں بنا دیا پھولے پھلے نہال حیات اس کا اے خدا جس نے مری لحد کو گلستاں بنا دیا آ آ کے قدرؔ زلف پریشاں کی یاد نے اپنے کرم سے مجھ کو پریشاں بنا دیا

dast-e-junun ne mujh ko pareshaan banaa diyaa

Similar Poets