main ro paDungaa bahut bhinch ke gale na lagaa
main pahle jaisaa nahin huun kisi kaa dukh hai mujhe

Qamar Abbas Qamar
Qamar Abbas Qamar
Qamar Abbas Qamar
Popular Shayari
22 totalkhizaan-ruton ke parindo! palaT ke aa jaao
darakht dene lage hain hari bhari aavaaz
mere maathe pe ubhar aate the vahshat ke nuqush
meri miTTi kisi sahraa se uThaai gai thi
pahaaD peD nadi saath de rahe hain miraa
ye teri or miraa aakhiri safar to nahin
yuun raat gae kis ko sadaa dete hain aksar
vo kaun hamaaraa thaa jo vaapas nahin aayaa
bahut ghurur thaa suraj ko apni shiddat par
so ek pal hi sahi baadalon se haar gayaa
ye ehtijaaj ajab hai khilaaf-e-tegh-e-sitam
zamin mein jazb nahin ho rahaa hai khuun meraa
sard raaton kaa taqaaza thaa badan jal jaae
phir vo ik aag jo siine se lagaai main ne
majnun se ye kahnaa ki mire shahar mein aa jaae
vahshat ke liye ek bayaabaan abhi hai
palaTne vaale parindon pe bad-havaasi hai
main is zamin kaa kahin aakhiri shajar to nahin
sab aa chuke hain jaanne vaale sab aa chuke
marte hue se jhuuT koi boltaa huaa
kai to miT gae kitne khanDar bane hue hain
makaan apne makinon ki sogvaari mein
Ghazalغزل
اس ٹھہراؤ سے پہلے بتائیں کیسے رہتے تھے ہم دریا تھے اپنی موج میں بہتے رہتے تھے اس کے غلط رویے پر چپ رہنا پڑتا تھا لڑ سکتے تھے اس سے مگر ہم سہتے رہتے تھے اس نے دھوکہ دے کے بتایا دنیا کیسی ہے ورنہ ہم کیا خاک سمجھتے جیسے رہتے تھے اس بستی میں ایک غضب کا میلہ لگتا تھا وہ آتی رہتی تھی ہم بھی آتے رہتے تھے ان آنکھوں میں خوابوں والے جگنو روشن تھے ان چہروں پہ اکثر پھول برستے رہتے تھے دل آزاری کرنا اپنا کام تھا دنیا میں جو کچھ بھی جی میں آ جاتا کہتے رہتے تھے
is Thahraav se pahle bataaein kaise rahte the
اکیلا میں ہی نہیں ہجر کی سواری میں کچھ اور لوگ بھی شامل ہیں شب گزاری میں ندی سے کہہ دو ادھر تشنگی بلا کی ہے یہ سوکھ جائے گی صحرا کی آبیاری میں سپاہ شام نگاہوں کو مت اٹھا لینا علی کا شیر ہے خیموں کی پاسداری میں کٹے درختوں کا میں احتجاج دیکھتا ہوں سفید خون لگا ہے تمہاری آری میں نکل کے آ جا پس پردۂ تصور سے یہ دو چراغ بھی ہیں سوز انتظاری میں کئی تو مٹ گئے کتنے کھنڈر بنے ہوئے ہیں مکان اپنے مکینوں کی سوگواری میں
akelaa main hi nahin hijr ki savaari mein
اپنے گرنے کی خبر تک نہیں پائی میں نے آخری دوڑ میں وہ جان لگائی میں نے سانس کو سانس ہی مرنے نہیں دیتی ہے یہاں کوششیں کر کے بہت دیکھ لیں بھائی میں نے وقت ہی وہ ہے کہ مجرم مجھے سمجھا جائے کچھ نہیں ہوگا اگر دی بھی صفائی میں نے تیری صبحوں کو تر و تازگی دینے کے لیے رات کی رات ان آنکھوں سے بہائی میں نے سرد راتوں کا تقاضا تھا بدن جل جائے پھر وہ اک آگ جو سینے سے لگائی میں نے تو مجھے گھورتی آنکھوں سے تکے جا رہا ہے جھوٹ بولا ہے کوئی بات بنائی میں نے
apne girne ki khabar tak nahin paai main ne
مزاج پوچھتے رہتے ہو مجھ سے کیوں میرا کہ جب سمجھ نہ سکے جذب اندرون میرا وہ دیکھ نوک سناں کی بلندیوں کی طرف سپاہ ظلم نہ کر پائی سر نگوں میرا یہ احتجاج عجب ہے خلاف تیغ ستم زمیں میں جذب نہیں ہو رہا ہے خوں میرا ابھی درخت کے سائے میں تھک کے بیٹھا ہے ہزار رات کا جاگا ہوا جنوں میرا میں لفظ وصل کے مفہوم تک کو بھول گیا کسی نے چھین لیا اس طرح سکوں میرا عجب نہیں ہے کہ تنہائی شعر پڑھتی ہے سیاہ رات پہ چلتا ہے جب فسوں میرا بس ایک حرف محبت کا ربط ہے تجھ سے وگرنہ کچھ نہیں لگتا ہے تو بھی یوں میرا
mizaaj puchhte rahte ho mujh se kyon meraa
جب رات کا آسیب بکھر جاتا ہے مجھ میں اندر کوئی بچہ سا ہے ڈر جاتا ہے مجھ میں دل پر کسی قدموں کے نشاں تک نہیں ملتے یہ کون ہے تیزی سے گزر جاتا ہے مجھ میں پھر خود ہی بجھا دیتا ہے قندیل شب غم پھر خود ہی اچانک کہیں مر جاتا ہے مجھ میں موجیں ہیں پریشاں مرے تالاب بدن کی تو کیسی تھکن لے کے اتر جاتا ہے مجھ میں اک زخم کو یہ رات بنا دیتی ہے سورج اک درد علی الصبح ابھر جاتا ہے مجھ میں مٹی کا گھڑا ہوں سو چٹخ جاؤں گا اک دن بہنے سے زیادہ کوئی بھر جاتا ہے مجھ میں اک لمس بنا دیتا ہے مجھ کو مرے جیسا جب اس کی حرارت کا اثر جاتا ہے مجھ میں
jab raat kaa aaseb bikhar jaataa hai mujh mein
یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گا لٹے ہوؤں کا قبیلہ یہیں سے گزرے گا مجھے بچا لے مرے یار سوز امشب سے کہ اک ستارۂ وحشت جبیں سے گزرے گا تمام سنگ بدستوں میں میرا شیشۂ دل خبر نہیں تھی کہ اتنے یقیں سے گزرے گا زمین تنگ سے ہفت آسماں کی وسعت تک میں ڈھونڈھ لاؤں گا تجھ کو کہیں سے گزرے گا دیار غیر ادھر آ کے اس کی وسعت ناپ اک آسمان مری سرزمیں سے گزرے گا جو ایک بار تری راہ سے گزر جائے پھر اس کی ضد ہے دوبارہ وہیں سے گزرے گا
ye rut azaa ki hai shahr-e-hazin se guzregaa





