SHAWORDS
Rahi Masoom Raza

Rahi Masoom Raza

Rahi Masoom Raza

Rahi Masoom Raza

poet
5Sher
5Shayari
19Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

agar us ki na meri ho rahi hai

اگر اس کی نہ میری ہو رہی ہے تو یارو بات کس کی ہو رہی ہے کہیں سورج ملے تو اس سے کہنا ہماری رات لمبی ہو رہی ہے میں جس کی چھاؤں میں بیٹھا ہوا ہوں وہی دیوار ٹیڑھی ہو رہی ہے کہاں سے آ رہی ہے گرد اتنی شب مہتاب میلی ہو رہی ہے کوئی سورج مکھی آیا چمن میں ہواے گل سنہری ہو رہی ہے

غزل · Ghazal

raatein pardes ki Dartaa thaa kaTeingi kaise

راتیں پردیس کی ڈرتا تھا کٹیں گی کیسے یہ ستارے تو وہی ہیں مرے آنگن والے سولیاں نصب رہیں قحط جنوں ہے بھی تو کیا کچھ نہ کچھ اب بھی نکل آئیں گے گردن والے بجلیاں ڈھونڈھ رہی ہیں کوئی گرنے کی جگہ اتنے محفوظ نہیں آج نشیمن والے شاید اب پھوٹے گریباں سے جنوں کا انکر آج جھونکے تو ہواؤں کے ہیں ساون والے

غزل · Ghazal

ek din ghar se nikal ai bambai

ایک دن گھر سے نکل اے بمبئی آ ہمارے گاؤں چل اے بمبئی سرد ہیں دن سرد ہیں لفظوں کے ہاتھ تو بھی میرے ساتھ جل اے بمبئی تیری چوکھٹ پر ہے ساگر سوچ مت غسل کر کپڑے بدل اے بمبئی بن کے کوئی پھول یا جاڑے کی دھوپ دل کے آنگن میں نکل اے بمبئی جاگ اور دامان وحشت چاک کر صرف آنکھیں ہی نہ مل اے بمبئی بیٹھے بیٹھے سو گیا ہوگا بدن کسمسا پہلو بدل اے بمبئی

غزل · Ghazal

mujh se ye mat puchho kyaa in aankhon ki bimaari hai

مجھ سے یہ مت پوچھو کیا ان آنکھوں کی بیماری ہے چمپے جیسی رنگت والی وہ اک سندر ناری ہے ململ کی ساری ہے تن پر ہاتھوں میں پچکاری ہے ہم نے سنا ہے اس کی گلی میں ہولی کی تیاری ہے اس کے گلابی رخساروں پر پھیلی بوند پسینے کی یا کچنار کے دامن پر یہ اوس کی ہلکی دھاری ہے ہونٹوں میں سورج بیٹھا ہے رات اتری ہے بالوں میں آنکھوں میں گہرا کاجل ہے پاؤں میں پایل بھاری ہے یا یہ سمجھ لو نیند میں ہے خوشبو کا کوئی چنچل جھونکا یا پھر اس کا جسم یہ سمجھو جوہی کی اک کیاری ہے چاند ستاروں میں بھٹکے ہیں صحراؤں میں گزاری ہے ہم نے بڑی مشکل سے یارو تب یہ زمیں اتاری ہے کل کی جانب دیکھیں کیسے ایک بڑی دشواری ہے آنکھ اٹھانا سہل نہیں ہے سپنا اتنا بھاری ہے اس نیچے آکاش تلے تو سر بھی اٹھانا ہے مشکل ایسے میں جی لینا بھی آسان نہیں فن کاری ہے

غزل · Ghazal

dosto jaan pe ban aai hai

دوستو جان پہ بن آئی ہے یہ بڑے شہر کی تنہائی ہے سر ہتھیلی پر اگا ہی لے گا جس نے جینے کی قسم کھائی ہے مارنا بھی نہیں آتا جن کو ان کو بھی شوق مسیحائی ہے سچ اگر بولوں تو کٹتی ہے زبان اور چپ رہنے میں رسوائی ہے اب کی برسات میں برسے گی خزاں کس قیامت کی گھٹا چھائی ہے

غزل · Ghazal

jaisi miTTi hogi vaisaa paudaa niklegaa

جیسی مٹی ہوگی ویسا پودا نکلے گا اس امروز کو دیکھو جس سے فردا نکلے گا یہ کس نے سوچا تھا ملے گا دامن قاتل صاف خون شہیداں رنگ کا اتنا کچا نکلے گا مجھ سے بھی کتنوں نے کہا ہے گرم ہے یہ افواہ تیری گلی سے مقتل تک اک رستہ نکلے گا دشت میں جس دیوانے سے پوچھو گے اس کا حال موج صبا اور نکہت گل کا قصہ نکلے گا سارا شہر ڈرا بیٹھا ہے اپنی رات کے اندر سورج لانے کو دیوانہ تنہا نکلے گا میں اک گھائل بوڑھا برگد میری بات سنو لگتا ہے کل ہر وادی سے صحرا نکلے گا

Similar Poets