kuchh is adaa se mohabbat-shanaas honaa hai
khushi ke baab mein mujh ko udaas honaa hai

Rahul Jha
Rahul Jha
Rahul Jha
Popular Shayari
6 totalye aashiqi tire bas ki nahin so rahne de
ki teraa kaam to bas naa-sipaas honaa hai
tumhaari guftugu se bhi aziiz hai mujh ko
akele baiThnaa aur khud pe tabsira karnaa
us ne ik baar to jhaankaa bhi thaa mujh mein lekin
us se dekhi na gai vusat-e-tanhaai miri
azal se meri hifaazat kaa farz hai un par
sabhi dukhon ko mere aas-paas honaa hai
main aaj sog manaanaa sikhaane vaalaa huun
idhar ko aaein jinhein mahv-e-yaas honaa hai
Ghazalغزل
رنگ لاتی بھی تو کس طور جبیں سائی مری جب خود اس کو نہ تھی درکار شناسائی مری یہ مری چیز ہے سو اس کا بھروسہ ہے مجھے خود مرے کام نہ آئے گی مسیحائی مری اس نے اک بار تو جھانکا بھی تھا مجھ میں لیکن اس سے دیکھی نہ گئی وسعت تنہائی مری تم یہ کیا سوچ کے گزری تھی مرے ماضی سے تم یہ کیا سوچ کے شادابی اٹھا لائی مری بحر پایاب سمجھ کے یہاں اترو نہ ابھی میرا دل خود بھی نہیں جانتا گہرائی مری تیری خوشبو تری تاثیر جدا ہے مجھ سے تیری مٹی سے نہ ہو پائے گی بھرپائی مری
rang laati bhi to kis taur jabin-saai miri
عشق کے باب میں یوں خود کو تمہارا کر کے ہاتھ ملتا ہوں میں اپنا ہی خسارہ کر کے اب مرے ذہن میں بس لذت دنیا ہے رواں تھک چکا ہوں تری الفت پہ گزارہ کر کے ہم ابھی صحبت دنیا میں ہیں مصروف مگر کوئی شب تم کو بھی دیکھیں گے گوارہ کر کے ہم سے خاموش طبیعت بھی ہیں دنیا میں کہ جو اس کو ہی چاہتے ہیں اس سے کنارہ کر کے دیر تک کوئی نہ تھا راہ بتانے والا اور پھر لے گئی اک موج اشارہ کر کے
ishq ke baab mein yuun khud ko tumhaaraa kar ke
آخری وقت تری راہ سے ہٹ جائیں گے تو اگر ہو گیا راضی تو پلٹ جائیں گے تیری نظروں کے تقاضوں کو تو سہہ لیں گے مگر ہم ترے لمس کی شمشیر سے کٹ جائیں گے لوٹتے وقت وہ مانگے گا خوشی سے رخصت اور ہم روتے ہوئے اس سے لپٹ جائیں گے
aakhiri vaqt tiri raah se haT jaaeinge
اتنا تو زندگی پہ مجھے اختیار ہو اپنا چڑھاؤ ذہن پہ اپنا اتار ہو ہے کون جو وفا کرے مجھ سے مرے سوا سو مجھ کو عشق آپ ہی سے بار بار ہو تا عمر خامشی ہی رہے ہم نوا مری تنہائی کے سوا نہ کوئی غم گسار ہو اس کے سوا کسی سے مجھے کیا ہی چاہیئے حسرت کی پالکی کا کوئی دل کہار ہو جو پہلے آئے ہیں وہی دنیا سے جائیں بھی مٹنے کا سارا کام یہ ترتیب وار ہو شاعر وہ ساری عمر اکیلا رہا بہت بانیؔ کے آس پاس ہی اپنا مزار ہو کہہ دیں کہ حسن اتنی بڑی چیز بھی نہیں سر پہ جو کوئی روز صداقت سوار ہو کھڑکی سے دیکھتے رہیں ان پربتوں کا حسن ٹیبل پہ کارواں بجے لب پہ سگار ہو باقی دکھوں کے واسطے بھی کھول رکھ کواڑ راہلؔ نہ ایک درد پہ یوں انحصار ہو
itnaa to zindagi pe mujhe ikhtiyaar ho
ساتھ الفت کے ملے تھوڑی سی رسوائی بھی وصل کے باد مجھے چاہیے تنہائی بھی تنگ ہو میرے جنوں سے کہیں چھپ بیٹھی تھی عقل اور اسے ڈھونڈھنے میں کھو گئی دانائی بھی عمر جب روٹھی تو اپنا دیا سب کچھ لے چلی زور بھی ضبط بھی رفتار بھی رعنائی بھی میں نے چاہا تھا کہ بالکل ہی اکیلا ہو جاؤں سو گیا غم گئی عشرت گئی تنہائی بھی
saath ulfat ke mile thoDi si rusvaai bhi





