"husn ko husn banane men mira haath bhi hai aap mujh ko nazar-andaz nahin kar sakte"

Rais Farogh
Rais Farogh
Rais Farogh
Sherشعر
See all 22 →husn ko husn banane men mira haath bhi hai
حسن کو حسن بنانے میں مرا ہاتھ بھی ہے آپ مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتے
mera bhi ek baap tha achchha sa ek baap
میرا بھی ایک باپ تھا اچھا سا ایک باپ وہ جس جگہ پہنچ کے مرا تھا وہیں ہوں میں
main ne kitne raste badle lekin har raste men 'farogh'
میں نے کتنے رستے بدلے لیکن ہر رستے میں فروغؔ ایک اندھیرا ساتھ رہا ہے روشنیوں کے ہجوم لیے
apne halat se main sulh to kar luun lekin
اپنے حالات سے میں صلح تو کر لوں لیکن مجھ میں روپوش جو اک شخص ہے مر جائے گا
ishq vo kar-e-musalsal hai ki ham apne liye
عشق وہ کار مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے
log achchhe hain bahut dil men utar jaate hain
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں
Popular Sher & Shayari
44 total"mera bhi ek baap tha achchha sa ek baap vo jis jagah pahunch ke mara tha vahin huun main"
"main ne kitne raste badle lekin har raste men 'farogh' ek andhera saath raha hai raushniyon ke hujum liye"
"apne halat se main sulh to kar luun lekin mujh men ru-posh jo ik shakhs hai mar ja.ega"
"ishq vo kar-e-musalsal hai ki ham apne liye ek lamha bhi pas-andaz nahin kar sakte"
"log achchhe hain bahut dil men utar jaate hain ik bura.i hai to bas ye hai ki mar jaate hain"
ham koi achchhe chor nahin par ek dafa to ham ne bhi
saaraa gahna luuT liyaa thaa aadhi raat ke mehmaan kaa
tez havaa ke saath chalaa hai zard musaafir mausam kaa
os ne daaman thaam liyaa to pal-do-pal ko rukaa bhi hai
mere aangan ki udaasi na gai
roz mehmaan bulaae main ne
meraa bhi ek baap thaa achchhaa saa ek baap
vo jis jagah pahunch ke maraa thaa vahin huun main
ishq vo kaar-e-musalsal hai ki ham apne liye
ek lamha bhi pas-andaaz nahin kar sakte
ThanDi chaae ki pyaali pi ke
raat ki pyaas bujhaai hai
Ghazalغزل
unchi unchi shahnaai hai
اونچی اونچی شہنائی ہے پاگل کو نیند آئی ہے ایک برہنہ پیڑ کے نیچے میں ہوں یا پروائی ہے میری ہنسی جنگل میں کسی نے دیر تلک دہرائی ہے روشنیوں کے جال سے باہر کوئی کرن لہرائی ہے خاموشی کی جھیل پہ شیاما کنکر لے کر آئی ہے دھیان کی ندیا بہتے بہتے ایک دفعہ تھرائی ہے کھیت پہ کس نے سبز لہو کی چادر سی پھیلائی ہے میرے اوپر جالا بننے پھر کوئی بدلی چھائی ہے ایک انگوٹھی کے پتھر میں آنکھوں کی گہرائی ہے دیواروں پر داغ لہو کے پتھریلی انگنائی ہے میں نے اپنے تنہا گھر کو آدھی بات بتائی ہے میں تو اس کا سناٹا ہوں وہ میری تنہائی ہے صبح ہوئی تو دل میں جیسے تھکی تھکی انگڑائی ہے ٹھنڈی چائے کی پیالی پی کے رات کی پیاس بجھائی ہے اپنے بادل کی کٹیا کو میں نے آگ لگائی ہے
kitni hi baarishein hon shikaayat zaraa nahin
کتنی ہی بارشیں ہوں شکایت ذرا نہیں سیلانیوں کو خطرۂ سیل بلا نہیں میں نے بھی ایک حرف بہت زور سے کہا وہ شور تھا مگر کہ کسی نے سنا نہیں لاکھوں ہی بار بجھ کے جلا درد کا دیا سو ایک بار اور بجھا پھر جلا نہیں ویسے تو یار میں بھی تغیر پسند ہوں چھوٹا سا ایک خواب مجھے بھولتا نہیں سوتے ہیں سب مراد کا سورج لیے ہوئے راتوں کو اب یہ شہر دعا مانگتا نہیں اس دن ہوائے صبح یہ کہتی ہوئی گئی یوسف میاں کے سانولے بیٹے میں کیا نہیں
uupar baadal niche parbat biich mein khvaab ghazaalaan kaa
اوپر بادل نیچے پربت بیچ میں خواب غزالاں کا دیکھو میں نے حرف جما کے نگر بنایا جاناں کا پاگل پنچھی بعد میں چہکے پہلے میں نے دیکھا تھا اس جمپر کی شکنوں میں ہلکا سا رنگ بہاراں کا بستی یونہی بیچ میں آئی اصل میں جنگ تو مجھ سے تھی جب تک میرے باغ نہ ڈوبے زور نہ ٹوٹا طوفاں کا ہم املاک پرست نہیں ہیں پر یوں ہے تو یوں ہی سہی اک ترے دل میں گھر ہے اپنا باقی ملک سلیماں کا رنج کا اپنا ایک جہاں ہے اور تو جس میں کچھ بھی نہیں یا گہراؤ سمندر کا ہے یا پھیلاؤ بیاباں کا ہم کوئی اچھے چور نہیں پر ایک دفعہ تو ہم نے بھی سارا گہنہ لوٹ لیا تھا آدھی رات کے مہماں کا
hama-vaqt jo mire saath hain ye ubharte Dubte saae se
ہمہ وقت جو مرے ساتھ ہیں یہ ابھرتے ڈوبتے سائے سے کسی روشنی کے سراب ہیں کہ ملے ہر اپنے پرائے سے خم جادہ سے میں پیادہ پا کبھی دیکھ لیتا ہوں خواب سا کہیں دور جیسے دھواں اٹھا کسی بھولی بسری سرائے سے اٹھی موج درد تو یک بہ یک مرے آس پاس بکھر گئے مہ نیم شب کے ادھر ادھر جو لرز رہے تھے کنائے سے ملا مجھ کو راہ میں اک نگر جہاں کوئی شخص نہ تھا مگر وہ زمیں شگفتہ شگفتہ سی وہ مکاں نہائے نہائے سے مرے کار زار حیات میں رہے عمر بھر یہ مقابلے کبھی سایہ دب گیا دھوپ سے کبھی دھوپ دب گئی سائے سے
jangal se aage nikal gayaa
جنگل سے آگے نکل گیا وہ دریا کتنا بدل گیا کل میرے لہو کی رم جھم میں سورج کا پہیا پھسل گیا چہروں کی ندی بہتی ہے مگر وہ لہر گئی وہ کنول گیا اک پیڑ ہوا کے ساتھ چلا پھر گرتے گرتے سنبھل گیا اک آنگن پہلے چھینٹے میں بادل سے اونچا اچھل گیا اک اندھا جھونکا آیا تھا اک عید کا جوڑا مسل گیا اک سانولی چھت کے گرنے سے اک پاگل سایہ کچل گیا ہم دور تلک جا سکتے تھے تو بیٹھے بیٹھے بہل گیا جھوٹی ہو کہ سچی آگ تری میرا پتھر تو پگھل گیا مٹی کے کھلونے لینے کو میں بالک بن کے مچل گیا گھر میں تو ذرا جھانکا بھی نہیں اور نام کی تختی بدل گیا سب کے لیے ایک ہی رستہ ہے ہیڈیگر سے آگے رسل گیا
galiyon mein aazaar bahut hain ghar mein ji ghabraataa hai
گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے ہنگامے سے سناٹے تک اپنا حال تماشا ہے بوجھل آنکھیں کب تک آخر نیند کے وار بچائیں گی پھر وہی سب کچھ دیکھنا ہوگا صبح سے جو کچھ دیکھا ہے دھوپ مسافر چھاؤں مسافر آئے کوئی کوئی جائے گھر میں بیٹھا سوچ رہا ہوں آنگن ہے یا رستہ ہے آدھی عمر کے پس منظر میں شانہ بہ شانہ گام بہ گام تو ہے کہ تیری پرچھائیں ہے میں ہوں کہ میرا سایہ ہے ہم ساحل کی سرد ہوا میں خوابوں سے الجھے ہیں فروغؔ اور ہمارے نام کا دریا صحرا صحرا بہتا ہے





