zindagi kashmakash-e-vaqt mein guzri apni
din ne jiine na diyaa raat ne marne na diyaa

Ram Riyaz
Ram Riyaz
Ram Riyaz
Popular Shayari
7 totalab kahaan vo pahli si fursatein mayassar hain
saaraa din safar karnaa saari raat gham karnaa
ham os ke qatre hain ki bikhre hue moti
dhokaa nazar aae to hamein rol ke dekho
tire intizaar mein is tarah miraa ahad-e-shauq guzar gayaa
sar-e-shaam jaise bisaat-e-dil koi khasta-haal sameT le
aansu jo bahein surkh to ho jaati hain aankhein
dil aisaa sulagtaa hai dhuaan tak nahin aataa
zindagi to sapnaa hai kaun 'raam' apnaa hai
kyaa kisi ko dukh denaa kyaa kisi kaa gham karnaa
jo tere gham mein jale hain vo phir bujhe hi nahin
jab in ki raakh kuredo sharaare zinda hain
Ghazalغزل
مسکراتی آنکھوں کو دوستوں کی نم کرنا رام ایسے افسانے چھوڑ دو رقم کرنا اب کہاں وہ پہلی سی فرصتیں میسر ہیں سارا دن سفر کرنا ساری رات غم کرنا میں گناہ گاروں میں صاحب طریقت ہوں داخلی شہادت پر میرا سر قلم کرنا زندگی تو سپنا ہے کون رامؔ اپنا ہے کیا کسی کو دکھ دینا کیا کسی کا غم کرنا
muskuraati aankhon ko doston ki nam karnaa
یادوں کے دریچوں کو ذرا کھول کے دیکھو ہم لوگ وہی ہیں کہ نہیں بول کے دیکھو ہم اوس کے قطرے ہیں کہ بکھرے ہوئے موتی دھوکا نظر آئے تو ہمیں رول کے دیکھو کانوں میں پڑی دیر تلک گونج رہے گی خاموش چٹانوں سے کبھی بول کے دیکھو ذرے ہیں مگر کم نہیں پاؤ گے کسی سے پھر جانچ کے دیکھو ہمیں پھر تول کے دیکھو سقراط سے انسان ابھی ہیں کہ نہیں رامؔ تھوڑا سا کبھی جام میں وش گھول کے دیکھو
yaadon ke darichon ko zaraa khol ke dekho
کہیں جنگل کہیں دربار سے جا ملتا ہے سلسلہ وقت کا تلوار سے جا ملتا ہے میں جہاں بھی ہوں مگر شہر میں دن ڈھلتے ہی میرا سایہ تری دیوار سے جا ملتا ہے تیری آواز کہیں روشنی بن جاتی ہے تیرا لہجہ کہیں مہکار سے جا ملتا ہے چودھویں رات تری زلف میں ڈھل جاتی ہے چڑھتا سورج ترے رخسار سے جا ملتا ہے گرد پھر وسعت صحرا میں سمٹ جاتی ہے راستہ کوچہ و بازار سے جا ملتا ہے رامؔ ہر چند کئی لوگ بچھڑ جاتے ہیں قافلہ قافلہ سالار سے جا ملتا ہے
kahin jangal kahin darbaar se jaa miltaa hai
لفظ بے جاں ہیں مرے روح معانی مجھے دے اپنی تخلیق سے تو کوئی نشانی مجھے دے تیرا بھی نام رہے میں بھی امر ہو جاؤں ایسا عنوان کوئی ایسی کہانی مجھے دے چل رہی ہے بڑی شدت سے یہاں سرد ہوا مجھ کو بجھنے سے بچا سوز نہانی مجھے دے یہ حسیں پیڑ یہ خوشبو مری کمزوری ہے دن کا سب مال ترا رات کی رانی مجھے دے میرا مشکل ہے سفر تیرے سہارے کے بغیر رکنے لگ جاؤں اگر میں تو روانی مجھے دے اس قدر دھاندلی اچھی نہیں عمر رفتہ میرا بچپن نہ سہی میری جوانی مجھے دے مجھے اندیشہ ہے اس بھیڑ میں اوروں کی طرح تو بھی کھو جائے گا اپنا کوئی ثانی مجھے دے رامؔ ہر اک کے مالک سے گزارش ہے تو یہ صاف لہجہ مجھے دے سادہ بیانی مجھے دے
lafz be-jaan hain mire ruh-e-maaani mujhe de
روح میں گھور اندھیرے کو اترنے نہ دیا ہم نے انسان میں انسان کو مرنے نہ دیا تیرے بعد ایسی بھی تنہائی کی منزل آئی کہ مرا ساتھ کسی راہ گزر نے نہ دیا کون تھا کس نے یہاں دھوپ کے بادل برسائے اور ترے حسن کی چاندی کو نکھرنے نہ دیا پیاس کی آگ لگی بھوک کی آندھی اٹھی ہم نے پھر جسم کا شیرازہ بکھرنے نہ دیا زندگی کشمکش وقت میں گزری اپنی دن نے جینے نہ دیا رات نے مرنے نہ دیا اشک برسائے کبھی خون بہایا ہم نے غم کا دریا کسی موسم میں اترنے نہ دیا
ruuh mein ghor andhere ko utarne na diyaa





