SHAWORDS
Ramz Azimabadi

Ramz Azimabadi

Ramz Azimabadi

Ramz Azimabadi

poet
4Sher
4Shayari
6Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

8 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ye zindagi sazaa ke sivaa aur kuchh nahin

یہ زندگی سزا کے سوا اور کچھ نہیں ہر سانس بد دعا کے سوا اور کچھ نہیں بکھری ہیں راستوں پہ سفر کی کہانیاں دنیا نقوش پا کے سوا اور کچھ نہیں بچوں کی لاش چاک ردا اور بریدہ سر ہر شہر کربلا کے سوا اور کچھ نہیں زنبیل زندگی میں بڑوں کا دیا ہوا کچھ سکۂ دعا کے سوا اور کچھ نہیں یہ تجربہ مرا ہے کہ اک لمحۂ نشاط مٹی بھری غذا کے سوا اور کچھ نہیں عکس اور آئینہ میں اگر رابطہ نہ ہو یہ بھی غلط انا کے سوا اور کچھ نہیں ہر شے کو اس کے اصل کی تمثیل جانئے کونین میں خدا کے سوا اور کچھ نہیں اے رمزؔ کوئی دے دے مجھے زہر بے حسی یہ آگہی سزا کے سوا اور کچھ نہیں

غزل · Ghazal

hai samundar saamne pyaase bhi hain paani bhi hai

ہے سمندر سامنے پیاسے بھی ہیں پانی بھی ہے تشنگی کیسے بجھائیں یہ پریشانی بھی ہے ہم مسافر ہیں سلگتی دھوپ جلتی راہ کے وہ تمہارا راستہ ہے جس میں آسانی بھی ہے میں تو دل سے اس کی دانائی کا قائل ہو گیا دوستوں کی صف میں ہے اور دشمن جانی بھی ہے پڑھ نہ پاؤ تم تو یہ کس کی خطا ہے دوستو ورنہ چہرہ مصحف اعمال انسانی بھی ہے زندگی عنوان جس قصے کی ہے وہ آج بھی مختصر سے مختصر ہے اور طولانی بھی ہے رت جگے جو بانٹتا پھرتا ہے سارے شہر میں وہ فصیل خواب میں برسوں سے زندانی بھی ہے بے تحاشہ وہ تو ملتا ہے محبت سے مگر کچھ پریشانی بھی ہے اور خندہ پیشانی بھی ہے اپنا ہمسایہ ہے لیکن فاصلہ برسوں کا ہے ایسی قربت اتنی دوری جس میں حیرانی بھی ہے زندگی بھر ہم سرابوں کی طرف چلتے رہے اب جہاں تھک کر گرے ہیں اس جگہ پانی بھی ہے رمزؔ تیری تیرہ بختی کی یہ شب کٹ جائے گی رات کے دامن میں کوئی چیز نورانی بھی ہے

غزل · Ghazal

sadaf ke karb ko vo maantaa hai

صدف کے کرب کو وہ مانتا ہے اک اک موتی کی قیمت جانتا ہے نفاست سے بناتا ہے کھلونے پسینے سے جو مٹی سانتا ہے کہیں جاؤں وہ مجھ کو ڈھونڈ لے گا مجھے میرا عمل پہچانتا ہے میسر ہے ہوائے دشت اس کو ردائے گرد سے جو چھانتا ہے جو رہتا ہے ازل کی جستجو میں وہ دنیا میں کسے گردانتا ہے مرے قدموں سے وابستہ مسافت مجھے ہر راستہ پہچانتا ہے مبارک تجھ کو تیری بے ضمیری مجھے اس جرم میں کیوں سانتا ہے کثافت سے ہے توقیر لطافت اندھیرا روشنی کو چھانتا ہے جسے ہے یاد قوموں کی کہانی ہوا کے رخ کو وہ پہچانتا ہے ازل سے رمزؔ یہ زیب نظر ہے کہیں سلمیٰ کہیں وہ کانتا ہے

غزل · Ghazal

parda rukh-e-fitrat se haTaa kar nahin dekhaa

پردہ رخ فطرت سے ہٹا کر نہیں دیکھا منظر پہ نظر تھی پس منظر نہیں دیکھا انصار کے خنجر پہ مہاجر کا لہو ہے تاریخ نے ایسا کبھی منظر نہیں دیکھا پتھر کی سیاست سے جو محفوظ رہا ہو ایسا کسی شیشے کا مقدر نہیں دیکھا تھی دسترس فکر میں وہ ساعت خوش رنگ خوشبو کا بدن تھا اسے چھو کر نہیں دیکھا وہ شہر کے ہنگاموں میں خاموش کھڑی ہے شاید شب ہجراں نے مرا گھر نہیں دیکھا ترشے تو صنم پگھلے تو شیشے کی نزاکت اے کم نظرو تم نے وہ پتھر نہیں دیکھا جھکنے نہیں دیتی ہے انا تشنہ لبی کو دریا کی طرف میں نے پلٹ کر نہیں دیکھا ہے اس کو بہت قوت بازو پہ بھروسا دریا کے شناور نے سمندر نہیں دیکھا ہے غم ہی سے لبریز تو پھر کیسی مسرت کیا تو نے مرا ظرف مقدر نہیں دیکھا

غزل · Ghazal

qatra huun main vusat de dariyaa kar de

قطرہ ہوں میں وسعت دے دریا کر دے تو چاہے تو ساگر کو صحرا کر دے تلخی کا احساس مٹا دے دنیا سے یارب تو ہر پیڑ کا پھل میٹھا کر دے یہ خواہش تو صدیوں سے ہے نسلوں کی خود ظاہر ہو یا مجھ کو افشا کر دے زرد چٹانیں کاٹ رہا ہوں صحرا میں گرد کی چادر پھیلا کر سایہ کر دے لاج بچا لے میری کج دستاری کی بونوں کی بستی میں قد اونچا کر دے زنجیروں پر اتنا بھروسا مت کرنا جوش جنوں میں وحشی جانے کیا کر دے انساں خود ہے خالق اپنی ضرورت کا چلتے چلتے پگڈنڈی پیدا کر دے ابر بنے تو کھاری پانی میٹھا ہو تیری مشیت جب چاہے جیسا کر دے میری محبت ضامن ہے شادابی کی تیری چاہت پتوں کو پیلا کر دے رونے والو یہ بھی تو ہو سکتا ہے خون کا چھینٹا قاتل کو رسوا کر دے اتنی دوری رمزؔ ہے کیوں گھر والوں میں نفرت کی دیوار گرا رستہ کر دے

غزل · Ghazal

tum pasina mat kaho hai jaan-fishaani kaa libaas

تم پسینہ مت کہو ہے جانفشانی کا لباس دھوپ میں چلتے ہوئے رکھتے ہیں پانی کا لباس پردہ پوشی کم سے کم ہوتی ہے ہر کردار کی پیرہن لفظوں کا بنتا ہے کہانی کا لباس پھر اجالے سے سفر ہوگا اندھیرے کی طرف جب اتاریں گے بدن سے عمر فانی کا لباس ساتھ چلتے ہیں چہکتے بولتے الزام بھی بے شکن ہوتا نہیں یارو جوانی کا لباس انقلاب وقت کا یہ بھی کرشمہ دیکھیے ہے نمائش کے لیے اب آنجہانی کا لباس مفلسی نے کر دیا ہے اس کی خودداری کا خون وہ پہنتا ہے کسی کی مہربانی کا لباس حکمراں تو دفن ہیں تاریخ کے اوراق میں درس عبرت دے رہا ہے حکمرانی کا لباس جگمگاتا ہے غزل کے جسم پر ہر دور میں میلا ہوتا ہی نہیں جادو بیانی کا لباس چند ساعت بھی خوشی کی اپنی قسمت میں کہاں راس کب آیا ہے مجھ کو شادمانی کا لباس رمزؔ وہ عہد غلامی ہو کہ دور حریت اشتہار مفلسی ہندوستانی کا لباس

Similar Poets