un jhiil si gahri aankhon mein
ik lahar si har dam rahti hai

Rasa Chughtai
Rasa Chughtai
Rasa Chughtai
Popular Shayari
34 totalaahaTein sun rahaa huun yaadon ki
aaj bhi apne intizaar mein gum
uTh rahaa hai dhuaan mire ghar mein
aag divaar se udhar ki hai
ishq mein bhi siyaasatein niklin
qurbaton mein bhi faasla niklaa
aur kuchh yuun huaa ki bachchon ne
chhinaa-jhapTi mein toD Daalaa mujhe
huiin aankhein ajab behaal ab ke
ye baarish kar gai kangaal ab ke
tujh se milne ko be-qaraar thaa dil
tujh se mil kar bhi be-qaraar rahaa
baarhaa ham pe qayaamat guzri
baarhaa ham tire dar se guzre
is ghar ki saari divaarein shishe ki hain
lekin is ghar kaa maalik khud ik patthar hai
tire nazdik aa kar sochtaa huun
main zinda thaa ki ab zinda huaa huun
dil dhaDaktaa hai sar-e-raah-e-khayaal
ab ye aavaaz jahaan tak pahunche
jin aankhon se mujhe tum dekhte ho
main un aankhon se duniyaa dekhtaa huun
Ghazalغزل
کہاں جاتے ہیں آگے شہر جاں سے یہ بل کھاتے ہوئے رستے یہاں سے وہاں اب خواب گاہیں بن گئی ہیں اٹھے تھے آب دیدہ ہم جہاں سے زمیں اپنی کہانی کہہ رہی ہے الگ اندیشۂ سود و زیاں سے انہیں بنتے بگڑتے دائروں میں وہ چہرہ کھو گیا ہے درمیاں سے اٹھا لایا ہوں سارے خواب اپنے تری یادوں کے بوسیدہ مکاں سے میں اپنے گھر کی چھت پر سو رہا ہوں کہ باتیں کر رہا ہوں آسماں سے وہ ان آنکھوں کی محرابوں میں ہر شب ستارے ٹانک جاتا ہے کہاں سے رساؔ اس آبنائے روز و شب میں دمکتے ہیں کنول فانوس جاں سے
kahaan jaate hain aage shahr-e-jaan se
اس سے پہلے نظر نہیں آیا اس طرح چاند کا یہ ہالا مجھے آدمی کس کمال کا ہوگا جس نے تصویر سے نکالا مجھے میں تجھے آنکھ بھر کے دیکھ سکوں اتنا کافی ہے بس اجالا مجھے اس نے منظر بدل دیا یکسر چاہیے تھا ذرا سنبھالا مجھے اور کچھ یوں ہوا کہ بچوں نے چھینا جھپٹی میں توڑ ڈالا مجھے یاد ہیں آج بھی رساؔ وہ ہاتھ اور روٹی کا وہ نوالہ مجھے
is se pahle nazar nahin aayaa
مٹی جب تک نم رہتی ہے خوشبو تازہ دم رہتی ہے اپنی رو میں مست و غزل خواں موج ہوائے غم رہتی ہے ان جھیل سی گہری آنکھوں میں اک لہر سی ہر دم رہتی ہے ہر ساز جدا کیوں ہوتا ہے کیوں سنگت باہم رہتی ہے کیوں آنگن ٹیڑھا لگتا ہے کیوں پایل برہم رہتی ہے اب ایسے سرکش قامت پر کیوں تیغ مژہ خم رہتی ہے کیوں آپ پریشاں رہتے ہیں کیوں آنکھ رساؔ نم رہتی ہے
miTTi jab tak nam rahti hai
جب بھی تیری یادوں کا سلسلہ سا چلتا ہے اک چراغ بجھتا ہے اک چراغ جلتا ہے شرط غم گساری ہے ورنہ یوں تو سایہ بھی دور دور رہتا ہے ساتھ ساتھ چلتا ہے سوچتا ہوں آخر کیوں روشنی نہیں ہوتی داغ بھی ابھرتے ہیں چاند بھی نکلتا ہے کیسے کیسے ہنگامے اٹھ کے رہ گئے دل میں کچھ پتہ مگر ان کا آنسوؤں سے چلتا ہے وہ سرود کیف آگیں سوز غم جسے کہیے زندگی کے نغموں میں ڈھلتے ڈھلتے ڈھلتا ہے
jab bhi teri yaadon kaa silsila saa chaltaa hai
سر اٹھایا تو سر رہے گا کیا خوف یہ عمر بھر رہے گا کیا اس نے زنجیر کر کے رکھا ہے ہم سے وہ بے خبر رہے گا کیا پاؤں رہتے نہیں زمیں پہ ترے ہاتھ دستار پر رہے گا کیا وہ جو اک خواب ہم نے دیکھا تھا خواب ہی عمر بھر رہے گا کیا مر رہے ہیں فراق میں تیرے تو ہمیں مار کر رہے گا کیا عشق خانہ خراب تیرے بعد کوئی آباد گھر رہے گا کیا ہم نہ ہوں گے تو یہ جہان طلسم یہ فریب نظر رہے گا کیا تیرا اپنا نہیں ترا سایا تیرے زیر اثر رہے گا کیا موج اپنی جگہ کنارا ہے یہ کنارا مگر رہے گا کیا ڈوبنا تھا جسے وہ ڈوب گیا تو بھی اب ڈوب کر رہے گا کیا آج کیا بے افق رہے گی شام بے ستارہ سفر رہے گا کیا دیکھ کر ان پری نژادوں کو آئنہ خود نگر رہے گا کیا اپنے بس میں رہے گی کیا آندھی اپنے بل پر شجر رہے گا کیا شہر میں وہ جدھر رہے گا رسا شہر سارا ادھر رہے گا کیا
sar uThaayaa to sar rahegaa kyaa





