"apne jalne men kisi ko nahin karte hain sharik raat ho jaa.e to ham sham.a bujha dete hain"

Saba Akbarabadi
Saba Akbarabadi
Saba Akbarabadi
Sherشعر
See all 34 →apne jalne men kisi ko nahin karte hain sharik
اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک رات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں
samjhega aadmi ko vahan kaun aadmi
سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں
ik roz chhin legi hamin se zamin hamen
اک روز چھین لے گی ہمیں سے زمیں ہمیں چھینیں گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہم
bhiiD tanha.iyon ka mela hai
بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے آدمی آدمی اکیلا ہے
aap ke lab pe aur vafa ki qasam
آپ کے لب پہ اور وفا کی قسم کیا قسم کھائی ہے خدا کی قسم
jab ishq tha to dil ka ujala tha dahr men
جب عشق تھا تو دل کا اجالا تھا دہر میں کوئی چراغ نور بداماں نہیں ہے اب
Popular Sher & Shayari
68 total"samjhega aadmi ko vahan kaun aadmi banda jahan khuda ko khuda manta nahin"
"ik roz chhin legi hamin se zamin hamen chhinenge kya zamin ke khazane zamin se ham"
"bhiiD tanha.iyon ka mela hai aadmi aadmi akela hai"
"aap ke lab pe aur vafa ki qasam kya qasam khaa.i hai khuda ki qasam"
"jab ishq tha to dil ka ujala tha dahr men koi charagh nur-badaman nahin hai ab"
samjhegaa aadmi ko vahaan kaun aadmi
banda jahaan khudaa ko khudaa maantaa nahin
bhiiD tanhaaiyon kaa melaa hai
aadmi aadmi akelaa hai
aap aae hain so ab ghar mein ujaalaa hai bahut
kahiye jalti rahe yaa shama bujhaa di jaae
kab tak najaat paaeinge vahm o yaqin se ham
uljhe hue hain aaj bhi duniyaa o diin se ham
achchhaa huaa ki sab dar-o-divaar gir paDe
ab raushni to hai mire ghar mein havaa to hai
apne jalne mein kisi ko nahin karte hain sharik
raat ho jaae to ham shama bujhaa dete hain
Ghazalغزل
kasrat-e-jalva ko aaina-e-vahdat samjho
کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھو جس کی صورت نظر آئے وہی صورت سمجھو غم کو غم اور نہ مصیبت کو مصیبت سمجھو جو در دوست سے مل جائے غنیمت سمجھو جھک کے جو سینکڑوں فتنوں کو جگا سکتی ہیں وہ نگاہیں اگر اٹھیں تو قیامت سمجھو نہیں ہوتے ہیں ریاکاری کے سجدے مجھ سے میں اگر سر نہ جھکاؤں تو عبادت سمجھو رفتہ رفتہ مری خودداری سے واقف ہو گے ابھی کچھ دن مرے انداز محبت سمجھو جلوہ دیکھو گے کہاں دل کے علاوہ اپنا مرے ٹوٹے ہوئے آئینے کی قسمت سمجھو کم نہیں دور اسیری میں سہارا یہ بھی قید میں یاد نشیمن کو غنیمت سمجھو خوب سمجھایا ہے یہ کاتب قسمت نے ہمیں جو میسر ہو جہاں میں اسے قسمت سمجھو ہم جفاؤں کو بھی انداز عنایت سمجھیں اور تم شکر ستم کو بھی شکایت سمجھو میری آنکھوں میں ابھی اشک بہت باقی ہیں تم جو محفل میں چراغوں کی ضرورت سمجھو اے صباؔ کیوں ہو در غیر پہ توہین طلب اپنے ہی در کو ہمیشہ در دولت سمجھو
yagaana ban ke ho jaae vo begaana to kyaa hogaa
یگانہ بن کے ہو جائے وہ بیگانہ تو کیا ہوگا جو پہچانا تو کیا ہوگا نہ پہچانا تو کیا ہوگا کسی کو کیا خبر آنسو ہیں کیوں چشم محبت میں فغاں سے گونج اٹھے گا جو ویرانہ تو کیا ہوگا ہماری سی محبت تم کو ہم سے ہو تو کیا گزرے بنا دے شمع کو بھی عشق پروانہ تو کیا ہوگا یہی ہوگا کہ دنیا عقل کا انجام دیکھے گی حد وحشت سے بڑھ جائے گا دیوانہ تو کیا ہوگا تعصب درمیاں سے آپ کو واپس نہ لے آئے حرم کی راہ میں نکلا صنم خانہ تو کیا ہوگا تصور کیجئے اس آنے والے دور برہم کا گدا توڑیں گے جب پندار شاہانہ تو کیا ہوگا مٹا دو حسرت آبادئ دل بھی مرے دل سے یہ جتنا اب ہے اس سے اور ویرانہ تو کیا ہوگا نہ تم آؤ گے نہ آواز اپنی لوٹ پائے گی پکارے گا تمہیں صحرا میں دیوانہ تو کیا ہوگا فریب زندگی کی داستاں کہنے کو کیا کم ہے قیامت میں زباں پر اور افسانہ تو کیا ہوگا لہو کے داغ بڑھ جائیں گے کچھ دیوار زنداں پر خفا ہو جائے گا زنداں سے دیوانہ تو کیا ہوگا مداوا ہو نہیں سکتا ہے دل پر چوٹ کھانے کا مرے قدموں پہ رکھ دو تاج شاہانہ تو کیا ہوگا صباؔ جو زندگی بھیگی ہوئی ہے بارش گل سے بلائے گا کسی دن اس کو ویرانہ تو کیا ہوگا
us kaa vaada taa-qayaamat kam se kam
اس کا وعدہ تا قیامت کم سے کم اور یہاں مرنے کی فرصت کم سے کم سہ سکے درد محبت کم سے کم دل میں اتنی تو ہو طاقت کم سے کم اس کی یادوں سے کہاں ہے دشمنی شمع جلتی شام فرقت کم سے کم اس کے ملنے سے نہ ہوتی روشنی گھٹ تو جاتی غم کی ظلمت کم سے کم دیکھنے سے ان کے یہ حاصل ہوا ہو گئی اپنی زیارت کم سے کم اس کے خط میں اور سب کچھ تھا مگر صرف مطلب کی عبارت کم سے کم درد دینے کے وہاں ساماں بہت اور تڑپنے کی اجازت کم سے کم کیوں غم دوراں زیادہ مل گیا تھی ہمیں جس کی ضرورت کم سے کم خیر تم سے دوستی مشکل سہی رہنے دو صاحب سلامت کم سے کم دیکھ کر ان کو یہ اندازہ ہوا ہوگی ایسی ہی قیامت کم سے کم دولت غم کی فراوانی سہی دامن دل میں ہے وسعت کم سے کم غم نہیں جو چند یادیں ساتھ تھیں کر تو لی دل کی حفاظت کم سے کم سینہ چاکی عمر بھر کی ہے صباؔ زخم سلنے کی تھی مدت کم سے کم
aaina ban jaaiye jalva-asar ho jaaiye
آئینہ بن جائیے جلوہ اثر ہو جائیے سامنے وہ ہوں تو سر تا پا نظر ہو جائیے سوز دل سے گوشۂ تنہائی میں کیا فائدہ اس طرح جلیے چراغ رہ گزر ہو جائیے اس اداسی کا دھندلکا ختم ہو شاید کبھی شام سے پہلے ہی عنوان سحر ہو جائیے منزل الفت پہ دل تنہا پہنچ سکتا نہیں آپ اگر چاہیں تو میرے ہم سفر ہو جائیے خود بخود سارے زمانے کو خبر ہو جائے گی ہوشیاری ہے کہ سب سے بے خبر ہو جائیے شوق کہتا ہے کہ سجدوں میں تسلسل چاہئے دل یہ کہتا ہے کہ جذب سنگ در ہو جائیے جب کسی سے پیش قدمی ظلم کی رکتی نہ ہو اس جگہ لازم ہے خود سینہ سپر ہو جائیے اک عذاب مستقل ہے فکر تعمیر مکاں ساکن صحرائے بے دیوار و در ہو جائیے کشمکش میں انفرادیت ضروری ہے صباؔ جس طرف کوئی نہیں ہوتا ادھر ہو جائیے
tujh se daaman-kashaan nahin huun main
تجھ سے دامن کشاں نہیں ہوں میں اے زمیں آسماں نہیں ہوں میں کارواں میرے بعد آئے گا گرد ہوں کارواں نہیں ہوں میں پھیل سکتا ہوں چھا نہیں سکتا روشنی ہوں دھواں نہیں ہوں میں ناز ہے مجھ پہ میرے صانع کو زحمت رائیگاں نہیں ہوں میں جزو ہوں ایک جاوداں کل کا ہاں اگر جاوداں نہیں ہوں میں اپنی تقدیر پر یقین نہیں آپ سے بد گماں نہیں ہوں میں در و بست چمن کو کیا جانوں پھول ہوں باغباں نہیں ہوں میں زندگی پر بہار ہے مجھ سے زندگی کی خزاں نہیں ہوں میں یا نگاہ طلب ہوں یا جلوہ پردۂ درمیاں نہیں ہوں میں سوچنے دیجیے مآل وفا آپ سے سرگراں نہیں ہوں میں موت سے چھیڑ چھاڑ جاری ہے زیست کا نوحہ خواں نہیں ہوں میں آشیاں کیا بناؤں گلشن میں قابل آشیاں نہیں ہوں میں اے غم صبر آزما سن لے قابل امتحاں نہیں ہوں میں یوسفوں کا ہے کارواں مرے ساتھ یوسف کارواں نہیں ہوں میں میں صباؔ آہ بھی نہیں کرتا آشنائے فغاں نہیں ہوں میں
tum ne rasm-e-jafaa uThaa di hai
تم نے رسم جفا اٹھا دی ہے ہمیں کس جرم کی سزا دی ہے شمع امید کیوں جلا دی ہے عشق تاریکیوں کا عادی ہے آپ نے خود مجھے صدا دی ہے یا مری قوت ارادی ہے ہم تو مدت کے مر گئے ہوتے موت نے زندگی بڑھا دی ہے اب دعا پر بھی اعتماد نہیں نا مرادی سی نا مرادی ہے تجھ سا بیداد گر کہاں ہوگا لب ہر زخم نے دعا دی ہے مختلف ہیں تصورات جمال یہ عقیدہ بھی انفرادی ہے دیکھ فطرت کی بزم آرائی خاک پر چاندنی بچھا دی ہے یہ جو چھوٹی سی ہے کلی سر شاخ باغ کی باد شاہزادی ہے لب تصویر دوست کچھ تو بتا کس نے یہ خامشی سکھا دی ہے اے صباؔ کیمیائے غم کے لئے زندگی خاک میں ملا دی ہے





