SHAWORDS
Sahir Dehlavi

Sahir Dehlavi

Sahir Dehlavi

Sahir Dehlavi

poet
23Sher
23Shayari
10Ghazal

Sherشعر

See all 23

Popular Sher & Shayari

46 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

darmiyaan-e-jism-o-jaan hai ik ajab surat ki aaD

درمیان جسم و جاں ہے اک عجب صورت کی آڑ مجھ کو دل کی دل کو ہے میری انانیت کی آڑ آ گیا ترک خودی کا گر کبھی بھولے سے دھیان دل نے پیدا کی ہر ایک جانب سے ہر صورت کی آڑ دیتے ہیں دل کے عوض وہ درد بہر امتحاں لیتے ہیں نام خدا اپنی طمانیت کی آڑ نفس پرور کرتے ہیں بدنام نام مے کشی پردۂ پندار میں لیتے ہیں کیفیت کی آڑ پردہ داری چشم نا محرم سے تھی مد نظر درمیاں میں ڈال دی ہے نور نے حیرت کی آڑ دیدنی جو کچھ ہے جلوہ دیکھ چشم پاک میں نور نے وحدت میں رہ کر لی ہے کیوں کثرت کی آڑ جب نہان و آشکارا جلوۂ جانانہ ہے سب ریاکاری ہے ساحر خلوت و جلوت کی آڑ

غزل · Ghazal

but-parasti ke sanam-khaane kaa aasaar na toD

بت پرستی کے صنم خانے کا آثار نہ توڑ کعبۂ دل مرا مست مئے پندار نہ توڑ عہد‌ میثاق کا لازم ہے ادب اے واعظ ہے یہ پیمان وفا رشتۂ زنار نہ توڑ محتسب سنگ پہ تو شیشۂ مے کو نہ پٹک دل رندان مے آشام کو زنہار نہ توڑ رحم کر رحم کہ یہ چشم چمن کا ہے چراغ جلوۂ گل سے ہے زینت اسے اے یار نہ توڑ توبہ کرنی تجھے واجب ہی نہ تھی اے ساحرؔ وہ جو ہونا تھا ہوا اب اسے بے کار نہ توڑ

غزل · Ghazal

jalaa hai kis qadar dil zauq-e-kaavish-haa-e-mizhgaan par

جلا ہے کس قدر دل ذوق کاوش ہائے مژگاں پر کہ سو سو نشتروں کی نوک ہے اک اک رگ جاں پر پڑا ہوگا مگر عکس عذار لالہ گوں ورنہ یہ گستاخی ہمارا خون اور قاتل کے داماں پر طریق عشق میں ہے رنج پہلے اور خوشی پیچھے مدار صبح روز وصل ہے اک شام ہجراں پر مری دیوانگی روز قیامت میرے کام آئی قلم رحمت کا کھینچا اس نے آخر میرے عصیاں پر اگر ان کے تغافل کو ہے دعویٰ اپنی تمکیں کا ہماری خود فراموشی کو ہے ناز اپنے نسیاں پر

غزل · Ghazal

fazaa-e-aalam-e-qudsi mein hai nashv-o-numaa meri

فضائے عالم قدسی میں ہے نشو و نما میری مکافات عمل سے دور ہے بیم و رجا میری شریعت ہے ازل سے مہر پیمان وفا میری طریقت خاتم احرام تسلیم و رضا میری حقیقت ہے سواد خاطر بے مدعا میری حریم معرفت دع ما کدر خود نا صفا میری تری ذات‌ مقدس ہے مبرا شرک غیری سے کہ نور ذات میں سایہ‌ صفت ہستی ہے لا میری جمال لا یزالی شش جہت سے رونما دیکھا بنی آئینہ دار‌ حسن چشم حق نما میری کسی کا حسن طور افروز محو لن ترانی ہے دلیل نیستی ہے ہستی عشق و فنا میری شہود حق ہے ما بین غیوب اک جلوۂ‌ قدرت حیات جاوداں ہے ابتدا اور انتہا میری ازل سے محو دیدار جمال جلوہ آرا ہوں نظر با لغیر ہو گر ہو نظر میں ماسوا میری حدیث عشق بالاتر ہے حرف و صوت سے ساحرؔ کہاں میں اور کہاں تقدیر فکر نارسا میری

غزل · Ghazal

ayaan ho rang mein aur misl-e-bu gul mein nihaan bhi ho

عیاں ہو رنگ میں اور مثل بو گل میں نہاں بھی ہو جہان جاں ہوئے گل پیرہن جان جہاں بھی ہو مکیں کونین میں ہو فی الحقیقت لا مکاں بھی ہو ازل سے تا ابد قائم عیاں بھی ہو نہاں بھی ہو پر پرواز عنقا لائیں گے گر لا مکاں بھی ہو تمہیں ہم ڈھونڈ لائیں گے کہیں بھی ہو جہاں بھی ہو کہاں ہیں حضرت عیسیٰ کہاں ہیں حضرت موسیٰ عیاں اعجاز میں ہو اور تجلی میں نہاں بھی ہو غشی ہو اور غشی میں ہوش بھی کچھ کچھ رہے باقی وہ حسن لایزالی کچھ عیاں بھی کچھ نہاں بھی ہو جلانا مارنا اعجاز ہے اس چشم پر فن کا حیات جاوداں ہو اور مرگ ناگہاں بھی ہو جو آنکھیں ہوں تو حسن و عشق کی صورت نظر آئے عیاں ہو رنگ گل میں صوت بلبل میں نہاں بھی ہو یہاں دیر و حرم میں ہو وہاں مے خانہ میں ساحرؔ برہمن ہو جناب شیخ ہو پیر مغاں بھی ہو

غزل · Ghazal

rusvaa-e-ishq mein tiraa shaidaa kahein jise

رسوائے عشق میں ترا شیدا کہیں جسے عشاق میں مثال ہے رسوا کہیں جسے سینہ چمن ہے غنچۂ دل ہے شگفتہ دل تیری نگاہ ہے چمن آرا کہیں جسے غم پروریدہ ہے دل شوریدگان عشق فرقت کی ایک رات ہے دنیا کہیں جسے منسوب کفر دیر سے ایماں حرم سے ہے اک رہ گیا ہوں میں کہ تمہارا کہیں جسے ہم غیر معتبر سہی اور غیر معتبر کہنا بجا ہے آپ کا جیسا کہیں جسے ساحرؔ نفس وہ دام ہے جس میں کہ ہے اسیر موج دم خیال کہ عنقا کہیں جسے

Similar Poets