SHAWORDS
Seemab Akbarabadi

Seemab Akbarabadi

Seemab Akbarabadi

Seemab Akbarabadi

poet
46Sher
46Shayari
37Ghazal

Sherشعر

See all 46

Popular Sher & Shayari

92 total

Ghazalغزل

See all 37
غزل · Ghazal

ab kyaa bataaun main tire milne se kyaa milaa

اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا عرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملا جب دور تک نہ کوئی فقیر آشنا ملا تیرا نیاز مند ترے در سے جا ملا منزل ملی مراد ملی مدعا ملا سب کچھ مجھے ملا جو ترا نقش پا ملا خود بین و خود شناس ملا خود نما ملا انساں کے بھیس میں مجھے اکثر خدا ملا سرگشتۂ جمال کی حیرانیاں نہ پوچھ ہر ذرے کے حجاب میں اک آئنہ ملا پایا تجھے حدود تعین سے ماورا منزل سے کچھ نکل کے ترا راستہ ملا کیوں یہ خدا کے ڈھونڈنے والے ہیں نامراد گزرا میں جب حدود خودی سے خدا ملا یہ ایک ہی تو نعمت انساں نواز تھی دل مجھ کو مل گیا تو خدائی کو کیا ملا یا زخم دل کو چھیل کے سینے سے پھینک دے یا اعتراف کر کہ نشان وفا ملا سیمابؔ کو شگفتہ نہ دیکھا تمام عمر کم بخت جب ملا ہمیں غم آشنا ملا

غزل · Ghazal

anjaam har ik shai kaa ba-juz khaak nahin hai

انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہے کیا ہے جو یہ عالم خس و خاشاک نہیں ہے کہہ دو وہ ستا کر مجھے بے فکر نہ بیٹھیں میرے ہی لئے گردش افلاک نہیں ہے آنکھوں سے ہر اک پردۂ موہوم ہٹا دے اتنی نگہ شوق ابھی چالاک نہیں ہے کر چاک گریباں سے نہ اندازۂ وحشت دیوانے ابھی دامن دل چاک نہیں ہے سیمابؔ دعا کیجئے کیا صبر و سکوں کی شائستۂ تسکیں دل غم ناک نہیں ہے

غزل · Ghazal

vus'atein mahdud hain idraak-e-insaan ke liye

وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئے ورنہ ہر ذرہ ہے دنیا چشم عرفاں کے لئے اے خزاں تو شوق کے سارا چمن برباد کر چند پھانسیں چھوڑ جا میری رگ جاں کے لئے دور پہونچیں شہرتیں رفتار سحر آثار کی کھل گئے رستے ترے حسن خراماں کے لئے پھول گلشن کے نہیں تو خاک صحرا ہی سہی کچھ نہ کچھ تو چاہئے تسکین داماں کے لئے اس لئے دیتا ہوں دل تم کو کہ لو اور بھول جاؤ میں نے اک تصویر دی ہے طاق نسیاں کے لئے دھجیاں اڑنے کو اے سیمابؔ وسعت چاہئے ہے کوئی میدان آشوب گریباں کے لئے

غزل · Ghazal

jaras hai kaarvaan-e-ahl-e-aalam mein fughaan meri

جرس ہے کاروان اہل عالم میں فغاں میری جگا دیتی ہے دنیا کو صدائے الاماں میری تصور میں وہ کچھ برہم سے ہیں کچھ مہرباں سے ہیں انہیں شاید سنائی جا رہی ہے داستاں میری ہر اک ذرہ ہے صحرا اور ہر صحرا ہے اک دنیا مگر اس وسعت عالم میں گنجائش کہاں میری مری حیرت پہ وہ تنقید کی تکلیف کرتے ہیں جنہیں یہ بھی نہیں معلوم نظریں ہیں کہاں میری مسلسل تھا فریب خواب گاہ عالم فانی مگر سوتا رہا چلتی رہی عمر رواں میری وہی لمحہ ورود ناگہاں کا ان کے ہو شاید جتا کر آئے جب بھی آئے مرگ ناگہاں میری مذاق ہم زبانی کو نہ ترسوں باغ جنت میں کوئی سیمابؔ حوروں کو سکھا دیتا زباں میری

غزل · Ghazal

ab ai be-dard kyaa is ke liye irshaad hotaa hai

اب اے بے درد کیا اس کے لئے ارشاد ہوتا ہے پھر اپنی خاک سے پیدا دل برباد ہوتا ہے تصور جب انیس خاطر ناشاد ہوتا ہے جہان دل تری تصویر سے آباد ہوتا ہے اسیران وفا گھبرائیں کیوں تجویز زنداں سے یہیں تو امتحان فطرت آزاد ہوتا ہے جگہ ملتی نہیں جس کو شب غم محشر دل میں وہ ہنگامہ لب خاموش میں آباد ہوتا ہے بہار آئی ہے استقبال کرنے باب زنداں تک نہیں معلوم سیمابؔ آج کون آزاد ہوتا ہے

غزل · Ghazal

mahfil-e-ishq mein jab naam tiraa lete hain

محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیں پہلے ہم ہوش کو دیوانہ بنا لیتے ہیں روز اک درد تمنا سے نیا لیتے ہیں ہم یونہی زندگیٔ عشق بڑھا لیتے ہیں دیکھتے رہتے ہیں چھپ چھپ کے مرقع تیرا کبھی آتی ہے ہوا بھی تو چھپا لیتے ہیں رنگ بھرتے ہیں وفا کا جو تصور میں ترے تجھ سے اچھی تری تصویر بنا لیتے ہیں دے ہی دیتے ہیں کسی طرح تسلی سیمابؔ خوش رہیں وہ جو مرے دل کی دعا لیتے ہیں

Similar Poets