"ba-nam-e-ishq ik ehsan sa abhi tak hai vo sada-lauh hamen chahta abhi tak hai"

Shahram Sarmadi
Shahram Sarmadi
Shahram Sarmadi
Sherشعر
ba-nam-e-ishq ik ehsan sa abhi tak hai
بنام عشق اک احسان سا ابھی تک ہے وہ سادہ لوح ہمیں چاہتا ابھی تک ہے
mire alava sabhi log ab ye mante hain
مرے علاوہ سبھی لوگ اب یہ مانتے ہیں غلط نہیں تھی مری رائے اس کے بارے میں
faqat zaman o makan men zara sa farq aaya
فقط زمان و مکاں میں ذرا سا فرق آیا جو ایک مسئلۂ درد تھا ابھی تک ہے
Popular Sher & Shayari
6 total"mire alava sabhi log ab ye mante hain ghalat nahin thi miri raa.e us ke baare men"
"faqat zaman o makan men zara sa farq aaya jo ek mas.ala-e-dard tha abhi tak hai"
ba-naam-e-ishq ik ehsaan saa abhi tak hai
vo saada-lauh hamein chaahtaa abhi tak hai
mire alaava sabhi log ab ye maante hain
ghalat nahin thi miri raae us ke baare mein
faqat zamaan o makaan mein zaraa saa farq aayaa
jo ek masala-e-dard thaa abhi tak hai
Ghazalغزل
mujhe taslim be-chun-o-churaa tu haq-ba-jaanib thaa
مجھے تسلیم بے چون و چرا تو حق بہ جانب تھا مرے انفاس پر لیکن عجب پندار غالب تھا وگرنہ جو ہوا اس سے سوائے رنج کیا حاصل مگر ہاں مصلحت کی رو سے دیکھیں تو مناسب تھا میں تیرے بعد جس سے بھی ملا تیکھا رکھا لہجہ کہ اس بے لوث چاہت کے عوض اتنا تو واجب تھا میں کچھ پوچھوں بھی تو اکثر جواباً کچھ نہیں کہتا گزشتہ ایک عرصے سے جو بس مجھ سے مخاطب تھا میں عمر رفتہ کی بازی سے اتنا ہی سمجھتا ہوں شکست و فتح دو حرف اضافی کھیل جالب تھا
samundar tishnagi vahshat rasaai chashma-e-lab tak
سمندر تشنگی وحشت رسائی چشمۂ لب تک یہ سارا کھیل ان آنکھوں سے دیکھا تیرے کرتب تک تماشا گاہ دنیا میں تماشائی رہے ہم بھی سحر کی آرزو ہم نے بھی کی تھی جلوۂ شب تک نہ جانے وقت کا کیا فیصلہ ہے دیر کتنی ہے گھڑی کی سوئیاں بھی ہو چکی ہیں مضمحل اب تک کبھی فرصت ملی تو آسماں سے ہم یہ پوچھیں گے رہے گا تو ہمارے سر پہ یوں ہی مہرباں کب تک خدا جانے کہاں تک کامیابی ہاتھ آئی ہے کہ اپنی بات تو پہنچا چکا اپنے مخاطب تک
ham apne ishq ki baabat kuchh ehtimaal mein hain
ہم اپنے عشق کی بابت کچھ احتمال میں ہیں کہ تیری خوبیاں اک اور خوش خصال میں ہیں تمیز ہجر و وصال اس مقام پر بھی ہے حساب راہ محبت میں گرچہ حال میں ہیں کوئی بھی پاس نہیں تو ترا خیال نہ غم بقول پیر جہاں دیدہ ہم وصال میں ہیں بہت ضروری نہیں ہے کہ تو سبب ٹھہرے یہ بات اپنی جگہ ہم کسی ملال میں ہیں گزشتہ سال رہا جن پہ تنگ عرصۂ وقت وہ سارے خواب بہ تعبیر اب کے سال میں ہیں
yaad ki basti kaa yuun to har makaan khaali huaa
یاد کی بستی کا یوں تو ہر مکاں خالی ہوا بس گیا تھا جو خلا سا وہ کہاں خالی ہوا رات بھر اک آگ سی جلتی رہی تھی آنکھ میں اور پھر دن بھر مسلسل اک دھواں خالی ہوا خودبخود اک دشت نے تشکیل پائی اور پھر لمحہ بھر میں ایک شہر بیکراں خالی ہوا آج جب اس لطف سایہ کی ضرورت تھی ہمیں کم نصیبی یہ کہ دست مہرباں خالی ہوا رفتہ رفتہ بھر گیا ہر سود سے اپنا بھی جی رفتہ رفتہ دل سے احساس زیاں خالی ہوا آج سے ہم بھی اکیلے ہو گئے اس بھیڑ میں دھیان میں تھا جو بھرا سا آسماں خالی ہوا
mataa-e-paas-e-vafaa kho nahin sakungaa main
متاع پاس وفا کھو نہیں سکوں گا میں کسی کا تیرے سوا ہو نہیں سکوں گا میں سدا رہے گا تر و تازہ شاخ دل پر تو فضول رنج کہ کچھ بو نہیں سکوں گا میں تو آنکھیں موند لے تو نیند آئے مجھ کو بھی تو جانتا ہے کہ یوں سو نہیں سکوں گا میں مجھے وراثت غم سے بھی عاق کر ڈالا یہ کیسا لطف کہ اب رو نہیں سکوں گا میں بہت حسیں ہے جہاں، زندگی بھی خوب مگر مزید بار نفس ڈھو نہیں سکوں گا میں
mire sukhan pe ik ehsaan ab ke saal to kar
مرے سخن پہ اک احسان اب کے سال تو کر تو مجھ کو درد کی دولت سے مالا مال تو کر دل عزیز کو تیرے سپرد کر دیا ہے تو دل لگا کے ذرا اس کی دیکھ بھال تو کر کئی دنوں سے میں اک بات کہنا چاہتا ہوں تو لب ہلا تو سہی ہاں کوئی سوال تو کر میں اجنبی کی طرح تیرے پاس سے گزرا یہ کیا تعلق خاطر ہے کچھ خیال تو کر میں چاہ کر بھی ترے ساتھ رہ نہیں پاؤں تو میرے غم مری مجبوری پر ملال تو کر





