SHAWORDS
Shahryar

Shahryar

Shahryar

Shahryar

poet
105Shayari
49Ghazal

Popular Shayari

105 total

Ghazalغزل

See all 49
غزل · Ghazal

گرد کو کدورتوں کی دھو نہ پائے ہم دل بہت اداس ہے کہ رو نہ پائے ہم وجود کے چہار سمت ریگزار تھا کہیں بھی خواہشوں کے بیج بو نہ پائے ہم روح سے تو پہلے دن ہی ہار مان لی بوجھ اپنے جسم کا بھی ڈھو نہ پائے ہم دشت میں تو ایک ہم تھے اور کچھ نہ تھا شہر کے ہجوم میں بھی کھو نہ پائے ہم ایک خواب دیکھنے کی آرزو رہی اسی لیے تمام عمر سو نہ پائے ہم

gard ko kuduraton ki dho na paae ham

غزل · Ghazal

نشاط غم بھی ملا رنج شاد مانی بھی مگر وہ لمحے بہت مختصر تھے فانی بھی کھلی ہے آنکھ کہاں کون موڑ ہے یارو دیار خواب کی باقی نہیں نشانی بھی رگوں میں ریت کی اک اور تہ جمی دیکھو کہ پہلے جیسی نہیں خون میں روانی بھی بھٹک رہے ہیں تعاقب میں اب سرابوں کے ملا نہ جن کو سمندر سے بوند پانی بھی زمیں بھی ہم سے بہت دور ہوتی جاتی ہے ڈرا رہی ہے خلاؤں کی بیکرانی بھی طویل ہونے لگی ہیں اسی لیے راتیں کہ لوگ سنتے سناتے نہیں کہانی بھی

nashaat-e-gham bhi milaa ranj-e-shaad-maani bhi

غزل · Ghazal

طلسم ختم چلو آہ بے اثر کا ہوا وہ دیکھو جسم برہنہ ہر اک شجر کا ہوا سناؤں کیسے کہ سورج کی زد میں ہیں سب لوگ جو حال رات کو پرچھائیوں کے گھر کا ہوا صدا کے سائے میں سناٹوں کو پناہ ملی عجب کہ شہر میں چرچا نہ اس خبر کا ہوا خلا کی دھند ہی آنکھوں پہ مہربان رہی حریف کوئی افق کب مری نظر کا ہوا میں سوچتا ہوں مگر یاد کچھ نہیں آتا کہ اختتام کہاں خواب کے سفر کا ہوا

tilism khatm chalo aah-e-be-asar kaa huaa

غزل · Ghazal

یہ قافلے یادوں کے کہیں کھو گئے ہوتے اک پل بھی اگر بھول سے ہم سو گئے ہوتے اے شہر ترا نام و نشاں بھی نہیں ہوتا جو حادثے ہونے تھے اگر ہو گئے ہوتے ہر بار پلٹتے ہوئے گھر کو یہی سوچا اے کاش کسی لمبے سفر کو گئے ہوتے ہم خوش ہیں ہمیں دھوپ وراثت میں ملی ہے اجداد کہیں پیڑ بھی کچھ بو گئے ہوتے کس منہ سے کہیں تجھ سے سمندر کے ہیں حق دار سیراب سرابوں سے بھی ہم ہو گئے ہوتے

ye qaafile yaadon ke kahin kho gae hote

غزل · Ghazal

زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے خوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سے مدت ہوئی جینے کا احساس نہیں ہوتا دل ان سے تقاضا کر بیداد کریں پھر سے مجرم کے کٹہرے میں پھر ہم کو کھڑا کر دو ہو رسم کہن تازہ فریاد کریں پھر سے اے اہل جنوں دیکھو زنجیر ہوئے سائے ہم کیسے انہیں سوچو آزاد کریں پھر سے اب جی کے بہلنے کی ہے ایک یہی صورت بیتی ہوئی کچھ باتیں ہم یاد کریں پھر سے

zakhmon ko rafu kar lein dil shaad karein phir se

غزل · Ghazal

یہ جب ہے کہ اک خواب سے رشتہ ہے ہمارا دن ڈھلتے ہی دل ڈوبنے لگتا ہے ہمارا چہروں کے سمندر سے گزرتے رہے پھر بھی اک عکس کو آئینہ ترستا ہے ہمارا ان لوگوں سے کیا کہیے کہ کیا بیت رہی ہے احوال مگر تو تو سمجھتا ہے ہمارا ہر موڑ پہ پڑتا ہے ہمیں واسطہ اس سے دنیا سے الگ کہنے کو رستہ ہے ہمارا

ye jab hai ki ik khvaab se rishta hai hamaaraa

Similar Poets