"vasl hua par dil men tamanna jaisi thi vaisi rakkhi hai"

Shuja Khaavar
Shuja Khaavar
Shuja Khaavar
Sherشعر
See all 36 →vasl hua par dil men tamanna
وصل ہوا پر دل میں تمنا جیسی تھی ویسی رکھی ہے
ya to jo na-fahm hain vo bolte hain in dinon
یا تو جو نافہم ہیں وہ بولتے ہیں ان دنوں یا جنہیں خاموش رہنے کی سزا معلوم ہے
hazar rang men mumkin hai dard ka iz.har
ہزار رنگ میں ممکن ہے درد کا اظہار ترے فراق میں مرنا ہی کیا ضروری ہے
rind khaDe hain mimbar mimbar
رند کھڑے ہیں منبر منبر اور واعظ نے پی رکھی ہے
aap idhar aa.e udhar diin aur iman ga.e
آپ ادھر آئے ادھر دین اور ایمان گئے عید کا چاند نظر آیا تو رمضان گئے
'shuja' vo khairiyat puchhen to hairat men na paD jaana
شجاعؔ وہ خیریت پوچھیں تو حیرت میں نہ پڑ جانا پریشاں کرنے والے خیر خواہوں میں بھی ہوتے ہیں
Popular Sher & Shayari
72 total"ya to jo na-fahm hain vo bolte hain in dinon ya jinhen khamosh rahne ki saza ma.alum hai"
"hazar rang men mumkin hai dard ka iz.har tire firaq men marna hi kya zaruri hai"
"rind khaDe hain mimbar mimbar aur vaa.iz ne pi rakkhi hai"
"aap idhar aa.e udhar diin aur iman ga.e iid ka chand nazar aaya to ramzan ga.e"
"'shuja' vo khairiyat puchhen to hairat men na paD jaana pareshan karne vaale khair-khvahon men bhi hote hain"
us ke bayaan se hue har-dil-aziz ham
gham ko samajh rahe the chhupaane ki chiiz ham
tangi-e-haiat se Takraataa huaa josh-e-mavaad
shaaeri kaa lutf aa jaataa hai chhoTi bahr mein
yaa to jo naa-fahm hain vo bolte hain in dinon
yaa jinhein khaamosh rahne ki sazaa maalum hai
hazaar rang mein mumkin hai dard kaa izhaar
tire firaaq mein marnaa hi kyaa zaruri hai
aap idhar aae udhar diin aur imaan gae
iid kaa chaand nazar aayaa to ramzaan gae
chaaragari ki baat kisi aur se karo
ab ho gae hain yaaro puraane mariz ham
Ghazalغزل
is e'tibaar se be-intihaa zaruri hai
اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے پکارنے کے لیے اک خدا ضروری ہے ہزار رنگ میں ممکن ہے درد کا اظہار ترے فراق میں مرنا ہی کیا ضروری ہے شعور شہر کے حالات کا نہیں سب کو بیان شہر کے حالات کا ضروری ہے کچھ ایسے شعر ہیں یارو جو ہم نہیں کہتے ہر ایک بات کا اظہار کیا ضروری ہے شجاعؔ موت سے پہلے ضرور جی لینا یہ کام بھول نہ جانا بڑا ضروری ہے
takalluf chhoD kar mere baraabar baiTh jaaegaa
تکلف چھوڑ کر میرے برابر بیٹھ جائے گا تصور میں ابھی وہ پاس آ کر بیٹھ جائے گا در و دیوار پر اتنا پڑا ہے سارے دن پانی اگر کل دھوپ بھی نکلے گی تو گھر بیٹھ جائے گا اڑے گا خود تو لائے گا خبر سات آسمانوں کی اڑایا تو پرندہ چھت کے اوپر بیٹھ جائے گا نہ منزل کو پتا ہوگا نہ رستوں کو خبر ہوگی مسافر ایک دن آرام سے گھر بیٹھ جائے گا خیال اچھا ہوا تو شعر بن کر آئے گا باہر بہت اچھا ہوا تو دل کے اندر بیٹھ جائے گا
sardi bhi khatm ho gai barsaat bhi gai
سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی اور اس کے ساتھ گرمئ جذبات بھی گئی اس نے مری کتاب کا دیباچہ پڑھ لیا اب تو کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئی میں آسماں پہ جا کے بھی تارے نہ لا سکا تم بھی گئے اداس مری بات بھی گئی ہم صوفیوں کا دونوں طرف سے زیاں ہوا عرفان ذات بھی نہ ہوا رات بھی گئی ملنے لگی ہے عام تو پینا بھی کم ہوا قلت کے ختم ہوتے ہی بہتات بھی گئی
dost kaa ghar aur dushman kaa pata maalum hai
دوست کا گھر اور دشمن کا پتہ معلوم ہے زندگی ہم کو ترا یہ سلسلہ معلوم ہے زندگی جا ہم بھی کوئے آرزو تک آ گئے اس کے آگے ہم کو سارا راستہ معلوم ہے کیا منجم سے کریں ہم اپنے مستقبل کی بات حال کے بارے میں ہم کو کون سا معلوم ہے یا تو جو نافہم ہیں وہ بولتے ہیں ان دنوں یا جنہیں خاموش رہنے کی سزا معلوم ہے شعر پر تو آپ کی قدرت مسلم ہے شجاعؔ اس زمانے کا بھی کچھ اچھا برا معلوم ہے
pahle huaa jo karte the ham vo nahin rahe
پہلے ہوا جو کرتے تھے ہم وہ نہیں رہے دیکھو شب فراق ہے اور رو نہیں رہے ایسی بھی رو رہے ہیں انہیں جو نہیں رہے پہلے سے معجزے تو کہیں ہو نہیں رہے یارو دکھاؤ پھر کوئی ایسا ہنر کہ بس غیروں کی کوئی فکر ہی ہم کو نہیں رہے اشعار سے عیاں ہیں تو اشعار مت پڑھو ہم دل کے داغ تم کو دکھا تو نہیں رہے تدبیر بھی ہے جان بھی ہے مصلحت بھی ہے رہنا نہ تھا بس ایک ہمیں سو نہیں رہے ہم غیر اور وہ سبھی اپنی جگہ پہ ہیں بس یوں کہو میاں کہ غزل گو نہیں رہے
jo tum se pahle aae the un ki kaaristaani dekho
جو تم سے پہلے آئے تھے ان کی کارستانی دیکھو گاؤں سے نکلے ہو تو اب شہروں کی ویرانی دیکھو سوتے میں مرنے کا موقع مل جاتا ہے سب لوگوں کو پھر بھی زندہ اٹھ جاتے ہیں لوگوں کی نادانی دیکھو روکو گے تو پھٹ جاؤں گا یارو تم بس اتنا کرنا کچھ مت کہنا مجھ سے جب میری آنکھوں میں پانی دیکھو ساتوں عالم سر کرنے کے بعد اک دن کی چھٹی لے کر گھر میں چڑیوں کے گانے پر بچوں کی حیرانی دیکھو اتنے فرعونوں کو مارو گے تو کیا تم بچ جاؤ گے موسیٰ جی یہ غصہ چھوڑو اور اپنی آسانی دیکھو





