SHAWORDS
Shuja Khaavar

Shuja Khaavar

Shuja Khaavar

Shuja Khaavar

poet
36Sher
36Shayari
15Ghazal

Sherشعر

See all 36

Popular Sher & Shayari

72 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

is e'tibaar se be-intihaa zaruri hai

اس اعتبار سے بے انتہا ضروری ہے پکارنے کے لیے اک خدا ضروری ہے ہزار رنگ میں ممکن ہے درد کا اظہار ترے فراق میں مرنا ہی کیا ضروری ہے شعور شہر کے حالات کا نہیں سب کو بیان شہر کے حالات کا ضروری ہے کچھ ایسے شعر ہیں یارو جو ہم نہیں کہتے ہر ایک بات کا اظہار کیا ضروری ہے شجاعؔ موت سے پہلے ضرور جی لینا یہ کام بھول نہ جانا بڑا ضروری ہے

غزل · Ghazal

takalluf chhoD kar mere baraabar baiTh jaaegaa

تکلف چھوڑ کر میرے برابر بیٹھ جائے گا تصور میں ابھی وہ پاس آ کر بیٹھ جائے گا در و دیوار پر اتنا پڑا ہے سارے دن پانی اگر کل دھوپ بھی نکلے گی تو گھر بیٹھ جائے گا اڑے گا خود تو لائے گا خبر سات آسمانوں کی اڑایا تو پرندہ چھت کے اوپر بیٹھ جائے گا نہ منزل کو پتا ہوگا نہ رستوں کو خبر ہوگی مسافر ایک دن آرام سے گھر بیٹھ جائے گا خیال اچھا ہوا تو شعر بن کر آئے گا باہر بہت اچھا ہوا تو دل کے اندر بیٹھ جائے گا

غزل · Ghazal

sardi bhi khatm ho gai barsaat bhi gai

سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی اور اس کے ساتھ گرمئ جذبات بھی گئی اس نے مری کتاب کا دیباچہ پڑھ لیا اب تو کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئی میں آسماں پہ جا کے بھی تارے نہ لا سکا تم بھی گئے اداس مری بات بھی گئی ہم صوفیوں کا دونوں طرف سے زیاں ہوا عرفان ذات بھی نہ ہوا رات بھی گئی ملنے لگی ہے عام تو پینا بھی کم ہوا قلت کے ختم ہوتے ہی بہتات بھی گئی

غزل · Ghazal

dost kaa ghar aur dushman kaa pata maalum hai

دوست کا گھر اور دشمن کا پتہ معلوم ہے زندگی ہم کو ترا یہ سلسلہ معلوم ہے زندگی جا ہم بھی کوئے آرزو تک آ گئے اس کے آگے ہم کو سارا راستہ معلوم ہے کیا منجم سے کریں ہم اپنے مستقبل کی بات حال کے بارے میں ہم کو کون سا معلوم ہے یا تو جو نافہم ہیں وہ بولتے ہیں ان دنوں یا جنہیں خاموش رہنے کی سزا معلوم ہے شعر پر تو آپ کی قدرت مسلم ہے شجاعؔ اس زمانے کا بھی کچھ اچھا برا معلوم ہے

غزل · Ghazal

pahle huaa jo karte the ham vo nahin rahe

پہلے ہوا جو کرتے تھے ہم وہ نہیں رہے دیکھو شب فراق ہے اور رو نہیں رہے ایسی بھی رو رہے ہیں انہیں جو نہیں رہے پہلے سے معجزے تو کہیں ہو نہیں رہے یارو دکھاؤ پھر کوئی ایسا ہنر کہ بس غیروں کی کوئی فکر ہی ہم کو نہیں رہے اشعار سے عیاں ہیں تو اشعار مت پڑھو ہم دل کے داغ تم کو دکھا تو نہیں رہے تدبیر بھی ہے جان بھی ہے مصلحت بھی ہے رہنا نہ تھا بس ایک ہمیں سو نہیں رہے ہم غیر اور وہ سبھی اپنی جگہ پہ ہیں بس یوں کہو میاں کہ غزل گو نہیں رہے

غزل · Ghazal

jo tum se pahle aae the un ki kaaristaani dekho

جو تم سے پہلے آئے تھے ان کی کارستانی دیکھو گاؤں سے نکلے ہو تو اب شہروں کی ویرانی دیکھو سوتے میں مرنے کا موقع مل جاتا ہے سب لوگوں کو پھر بھی زندہ اٹھ جاتے ہیں لوگوں کی نادانی دیکھو روکو گے تو پھٹ جاؤں گا یارو تم بس اتنا کرنا کچھ مت کہنا مجھ سے جب میری آنکھوں میں پانی دیکھو ساتوں عالم سر کرنے کے بعد اک دن کی چھٹی لے کر گھر میں چڑیوں کے گانے پر بچوں کی حیرانی دیکھو اتنے فرعونوں کو مارو گے تو کیا تم بچ جاؤ گے موسیٰ جی یہ غصہ چھوڑو اور اپنی آسانی دیکھو

Similar Poets