"zamin uThegi nahin asman jhukega nahin ana-parast hain donon ke khandan bahut"

Wafa Naqvi
Wafa Naqvi
Wafa Naqvi
Sherشعر
See all 18 →zamin uThegi nahin asman jhukega nahin
زمیں اٹھے گی نہیں آسماں جھکے گا نہیں انا پرست ہیں دونوں کے خاندان بہت
ek hi rang men jiine ka hunar sikha hai
ایک ہی رنگ میں جینے کا ہنر سیکھا ہے ہم سے ہر بات پہ چہرہ نہیں بدلا جاتا
is bhiiD men duniya ki ham tum na bichhaD jaa.en
اس بھیڑ میں دنیا کی ہم تم نہ بچھڑ جائیں میں تم پہ نظر رکھوں تم مجھ پہ نظر رکھنا
ab ye khvahish hai karen log hamari ghibat
اب یہ خواہش ہے کریں لوگ ہماری غیبت پھیل جائیں تری گلیوں میں خبر کی صورت
ab un se paa.i hai taklif to shikayat kya
اب ان سے پائی ہے تکلیف تو شکایت کیا ہمیں نے سر پہ چڑھایا تھا کچھ کمینوں کو
aaya na phir bhi chand utar kar zamin par
آیا نہ پھر بھی چاند اتر کر زمین پر کرتے رہے درخت اشارے تمام رات
Popular Sher & Shayari
36 total"ek hi rang men jiine ka hunar sikha hai ham se har baat pe chehra nahin badla jaata"
"is bhiiD men duniya ki ham tum na bichhaD jaa.en main tum pe nazar rakkhun tum mujh pe nazar rakhna"
"ab ye khvahish hai karen log hamari ghibat phail jaa.en tiri galiyon men khabar ki surat"
"ab un se paa.i hai taklif to shikayat kya hamin ne sar pe chaDhaya tha kuchh kaminon ko"
"aaya na phir bhi chand utar kar zamin par karte rahe darakht ishare tamam raat"
ek hi rang mein jiine kaa hunar sikhaa hai
ham se har baat pe chehra nahin badlaa jaataa
is bhiiD mein duniyaa ki ham tum na bichhaD jaaein
main tum pe nazar rakkhun tum mujh pe nazar rakhnaa
aaya na phir bhi chaand utar kar zamin par
karte rahe darakht ishaare tamaam raat
ab ye khvaahish hai karein log hamaari ghibat
phail jaaein tiri galiyon mein khabar ki surat
ab un se paai hai taklif to shikaayat kyaa
hamin ne sar pe chaDhaayaa thaa kuchh kaminon ko
zamin uThegi nahin aasmaan jhukegaa nahin
anaa-parast hain donon ke khaandaan bahut
Ghazalغزل
ghurub hote hue surajon ke paas rahe
غروب ہوتے ہوئے سورجوں کے پاس رہے اداس شام کی مانند ہم اداس رہے کھنڈر سا ایک مکاں تاکتا ہے رستوں کو نہ جانے آج کہاں اس کے غم شناس رہے بہار آئی تو سج دھج کے ہو گئے تیار درخت صرف خزاؤں میں بے لباس رہے یہ کہہ کے ہو گئے تھوڑے سے بے وفا ہم بھی ہمیشہ کون محبت میں دیوداس رہے مرے خیال میں توہین ہے عقیدت کی سمندروں میں رہوں اور لبوں پہ پیاس رہے
yaadon se mahakti hui is raat mein kyaa hai
یادوں سے مہکتی ہوئی اس رات میں کیا ہے یہ راز کھلا آج کہ جذبات میں کیا ہے اک تجھ سے ہی امید لگا رکھی ہے ورنہ یہ مجھ کو خبر ہے کہ مری ذات میں کیا ہے یہ کہہ کے پرندوں نے بھری آج اڑانیں شہروں کی طرف چلتے ہیں دیہات میں کیا ہے یوں غور سے ہاتھوں کی لکیریں نہ پڑھا کر بگڑیں گے سنور جائیں گے حالات میں کیا ہے کھنچتے ہی چلے آتے ہیں دل شہر ہوس میں جادو تری آنکھوں میں تری بات میں کیا ہے پہلے تو درختوں سے نکلتی تھیں کراہیں اس بار ذرا دیکھیے برسات میں کیا ہے
pattharon se na kabhi TuuT ke ulfat karnaa
پتھروں سے نہ کبھی ٹوٹ کے الفت کرنا جسم شیشے کا نہیں پھر بھی حفاظت کرنا اب نہ چھو لینا کبھی پھول سے رخساروں کو انگلیاں اپنی جلانے کی نہ زحمت کرنا جھکنے دینا نہ کسی پیڑ کی شاخوں کا غرور ڈھلتے سورج سے ذرا سی تو مروت کرنا اب جو بکھرے ہیں در و بام تو حیرت کیسی ہم نے سیکھا ہی نہ تھا گھر کی حفاظت کرنا لاکھ موجیں ہوں مخالف کہ ہوا ہو ناراض پار اس بار بھی دریا کسی صورت کرنا
bahte hue dariyaa ke kinaaron ki tarah thaa
بہتے ہوئے دریا کے کناروں کی طرح تھا تجھ سے مرا رشتہ کبھی خوابوں کی طرح تھا بستر پہ اتر آئی تھیں مہتاب کی کرنیں لہجہ ترا کل رات اجالوں کی طرح تھا میں اس کو پڑھا کرتا تھا ہر رات بہت دیر وہ شخص مرے پاس کتابوں کی طرح تھا کیا لمس تھا کیا زلف تھی کیا سرخیٔ لب تھی ہر رنگ ترا جیسے شرابوں کی طرح تھا کچھ دیر کو خوش کر کے چلے سارے جہاں کو کیا اپنا تعلق بھی تماشوں کی طرح تھا دنیا نے بہت چاہا کہ نام اس کا بتا دوں وہ دفن تھا مجھ میں مرے رازوں کی طرح تھا کھونے نہیں دیتا تھا مجھے بھیڑ میں احساس جکڑے ہوئے مجھ کو تری بانہوں کی طرح تھا
ye Thiik hai vo ham ko mayassar nahin huaa
یہ ٹھیک ہے وہ ہم کو میسر نہیں ہوا لیکن کہاں کہاں وہ منور نہیں ہوا لوٹا جو شام کو تو کوئی منتظر نہ تھا اس بار بے قرار مرا گھر نہیں ہوا کیا جانے کب اترنے لگے وہ دماغ پر کوئی جنوں کا وقت مقرر نہیں ہوا سب جیتنے کی ضد پہ یہاں ہارنے لگے صدیوں سے کوئی شخص سکندر نہیں ہوا بازو تو کٹ کے جڑ گئے میری حیات سے لیکن ابھی نصیب مجھے سر نہیں ہوا پھل توڑ لیتا آج میں اپنی حیات کا اچھا ہوا کہ ہاتھ میں پتھر نہیں ہوا صحرا سے لاکھوں بار نچوڑی گئی ہے پیاس پھر بھی سمندروں کا گلا تر نہیں ہوا
us kaa koi mujhe pata hi nahin
اس کا کوئی مجھے پتہ ہی نہیں وہ مرے شہر میں رہا ہی نہیں اس کی آنکھیں عجیب آنکھیں تھیں خواب جن میں کبھی سجا ہی نہیں تیرا انکار کیا قیامت ہے لوگ کہنے لگے خدا ہی نہیں وہ خیالوں میں گھر میں رہتا ہے وہ سفر پر کبھی گیا ہی نہیں عمر بھر تیرا ذکر کرنا ہے ایک دن کا یہ سلسلہ ہی نہیں چاند شب بھر اداس رہتا ہے وہ دریچے سے جھانکتا ہی نہیں فاصلہ کچھ نہ کچھ رکھا اس نے ٹوٹ کر وہ کبھی ملا ہی نہیں





