SHAWORDS
Wasim Nadir

Wasim Nadir

Wasim Nadir

Wasim Nadir

poet
34Sher
34Shayari
31Ghazal

Sherشعر

See all 34

Popular Sher & Shayari

68 total

Ghazalغزل

See all 31
غزل · Ghazal

nazar ke saamne guzre hue zamaane hain

نظر کے سامنے گزرے ہوئے زمانے ہیں نئی رتیں ہیں مگر پھول سب پرانے ہیں تمہارے ساتھ ٹھہر جاؤں اس جگہ کیسے مجھے تو اور کئی راستے بنانے ہیں جو رشتہ ٹوٹ گئے ان کو بھی نبھانا ہے ہمیں تو سوکھے ہوئے پھول بھی سجانے ہیں فقیر کب سے کھڑا ہے یہی بتانے کو کھنڈر میں دفن ابھی اور بھی خزانے ہیں کہاں سے لائیں وہ دکھ درد بانٹنے والے یہاں تو چاروں طرف صرف کارخانے ہیں

غزل · Ghazal

parinde ghonslon se kah ke ye baahar nikal aae

پرندے گھونسلوں سے کہہ کے یہ باہر نکل آئے ہمیں اڑنے دیا جائے ہمارے پر نکل آئے محبت سے کسی نے جب سفر کی مشکلیں پوچھیں کئی کانٹے ہمارے پاؤں سے باہر نکل آئے بہت سے راز بھی آئیں گے عالی جاہ پھر باہر خفا ہو کر حویلی سے اگر نوکر نکل آئے سفر میں زندگی کے میں ذرا سا لڑکھڑایا تھا مجھے ٹھوکر لگانے پھر کئی پتھر نکل آئے بظاہر ڈائری کے سارے ہی اوراق سادہ تھے انہیں جب غور سے دیکھا کئی منظر نکل آئے

غزل · Ghazal

mashaqqat kaa pasina khuun mein tahlil hotaa hai

مشقت کا پسینہ خون میں تحلیل ہوتا ہے اندھیرا روشنی میں تب کہیں تبدیل ہوتا ہے بچھڑتے ہی کسی سے ہو گیا احساس یہ ہم کو کہ رستا کس طرح اک میل کا سو میل ہوتا ہے یہ اونچے لوگ کھل کر مل نہیں سکتے کبھی تم سے سمندر بھی سمٹ کر کیا کہیں پر جھیل ہوتا ہے ہزاروں خون کی بوندیں فنا ہو جاتی ہیں جل کر تب اک آنسو کسی کی راہ کی قندیل ہوتا ہے مری حیرت میں ہوتا ہے اضافہ کس قدر نادرؔ وہ اک چہرہ کئی چہروں میں جب تحلیل ہوتا ہے

غزل · Ghazal

mere kaandhe pe kisi khvaab kaa sar rakkhaa rahaa

میرے کاندھے پہ کسی خواب کا سر رکھا رہا اور آنکھوں میں سحر ہونے کا ڈر رکھا رہا میں بھٹکتا ہی رہا بھوک کے صحراؤں میں میرے کمرے میں سجا میرا ہنر رکھا رہا کچھ ضرورت کے سبب مل تو گئے ہم دونوں دل پہ اک بوجھ بچھڑنے کا مگر رکھا رہا لو چراغوں کی ترے کپڑے جلا سکتی ہے چاند تاروں پہ ترا دھیان اگر رکھا رہا عمر بھر بھٹکے تمنا لیے نادرؔ گھر کی ایک کاغذ پہ مگر جیب میں گھر رکھا رہا

غزل · Ghazal

ik shahanshaah ke e'zaaz-o-laqab se aage

اک شہنشاہ کے اعزاز و لقب سے آگے عشق رہتا ہے ہر اک نام و نسب سے آگے کتنا کچھ چھوڑ کے آئے ہیں یہ معلوم کرو یہ نہ سوچو کہ کھڑے ہو گئے سب سے آگے میں زمانہ سے ملاقات تو کر لوں لیکن دل نکلتا ہی نہیں تیری طلب سے آگے اس قدر تیز نہ تھی آپ کی رفتار مگر ہو گئے آپ کسی اور سبب سے آگے یہ دعا کی تھی بھٹکنے سے بچا لے کوئی ایک آہٹ سی چلا کرتی ہے تب سے آگے

غزل · Ghazal

abhi yaqin ke mansab pe mat biThaao mujhe

ابھی یقین کے منصب پہ مت بٹھاؤ مجھے میں چاہتا ہوں ذرا اور آزماؤ مجھے کسے بتاؤں کہ اندر سے توڑ دیتا ہے کبھی کبھار یہ باہر کا رکھ رکھاؤ مجھے وہ جس کہانی کے آخر میں دونوں مل جائیں اگر ہو ذہن میں کوئی تو پھر سناؤ مجھے میں آئے دن کے خطابوں سے آ گیا ہوں تنگ جو ہو سکے تو مرے نام سے بلاؤ مجھے بہت سے خانوں میں تقسیم کر کے چھوڑے گا دل و دماغ کا نادرؔ یہ بھید بھاؤ مجھے

Similar Poets