"bichhaD kar aap se ye tajraba ho hi gaya akhir main aksar sochta tha log kaise Tuut jaate hain"

Wasim Nadir
Wasim Nadir
Wasim Nadir
Sherشعر
See all 34 →bichhaD kar aap se ye tajraba ho hi gaya akhir
بچھڑ کر آپ سے یہ تجربہ ہو ہی گیا آخر میں اکثر سوچتا تھا لوگ کیسے ٹوٹ جاتے ہیں
main khushbuon ke zikr pe khamosh hi raha
میں خوشبوؤں کے ذکر پہ خاموش ہی رہا حالانکہ ایک پھول مرے حافظے میں تھا
ham chahte the maut hi ham ko juda kare
ہم چاہتے تھے موت ہی ہم کو جدا کرے افسوس اپنا ساتھ وہاں تک نہیں ہوا
bahut tezab phaila hai gali-kuchon men nafrat ka
بہت تیزاب پھیلا ہے گلی کوچوں میں نفرت کا محبت پھر بھی اپنے کام سے باہر نکلتی ہے
tumhare baa'd ab jis ka bhi ji chahe mujhe rakh le
تمہارے بعد اب جس کا بھی جی چاہے مجھے رکھ لے جنازہ اپنی مرضی سے کہاں کندھا بدلتا ہے
dard vahin zanjir vahin divar vahin
درد وہیں زنجیر وہیں دیوار وہیں عشق سے آخر جھگڑا کیا ہے عالی جاہ
Popular Sher & Shayari
68 total"main khushbuon ke zikr pe khamosh hi raha halanki ek phuul mire hafize men tha"
"ham chahte the maut hi ham ko juda kare afsos apna saath vahan tak nahin hua"
"bahut tezab phaila hai gali-kuchon men nafrat ka mohabbat phir bhi apne kaam se bahar nikalti hai"
"tumhare baa'd ab jis ka bhi ji chahe mujhe rakh le janaza apni marzi se kahan kandha badalta hai"
"dard vahin zanjir vahin divar vahin 'ishq se akhir jhagDa kya hai 'aali jaah"
mohabbaton ko kahin se madad nahin milti
ye jang aisi hai jis mein rasad nahin milti
tire baghair bhi kahti hai mujh se jiine ko
ye zindagi bhi sahi mashvara nahin deti
main khushbuon ke zikr pe khaamosh hi rahaa
haalaanki ek phuul mire haafize mein thaa
bahut tezaab phailaa hai gali-kuchon mein nafrat kaa
mohabbat phir bhi apne kaam se baahar nikalti hai
tumhaare baa'd ab jis kaa bhi ji chaahe mujhe rakh le
janaaza apni marzi se kahaan kandhaa badaltaa hai
sab log jo hairat se tujhe dekh rahe hain
sar teraa bahut chhoTaa hai dastaar baDi hai
Ghazalغزل
nazar ke saamne guzre hue zamaane hain
نظر کے سامنے گزرے ہوئے زمانے ہیں نئی رتیں ہیں مگر پھول سب پرانے ہیں تمہارے ساتھ ٹھہر جاؤں اس جگہ کیسے مجھے تو اور کئی راستے بنانے ہیں جو رشتہ ٹوٹ گئے ان کو بھی نبھانا ہے ہمیں تو سوکھے ہوئے پھول بھی سجانے ہیں فقیر کب سے کھڑا ہے یہی بتانے کو کھنڈر میں دفن ابھی اور بھی خزانے ہیں کہاں سے لائیں وہ دکھ درد بانٹنے والے یہاں تو چاروں طرف صرف کارخانے ہیں
parinde ghonslon se kah ke ye baahar nikal aae
پرندے گھونسلوں سے کہہ کے یہ باہر نکل آئے ہمیں اڑنے دیا جائے ہمارے پر نکل آئے محبت سے کسی نے جب سفر کی مشکلیں پوچھیں کئی کانٹے ہمارے پاؤں سے باہر نکل آئے بہت سے راز بھی آئیں گے عالی جاہ پھر باہر خفا ہو کر حویلی سے اگر نوکر نکل آئے سفر میں زندگی کے میں ذرا سا لڑکھڑایا تھا مجھے ٹھوکر لگانے پھر کئی پتھر نکل آئے بظاہر ڈائری کے سارے ہی اوراق سادہ تھے انہیں جب غور سے دیکھا کئی منظر نکل آئے
mashaqqat kaa pasina khuun mein tahlil hotaa hai
مشقت کا پسینہ خون میں تحلیل ہوتا ہے اندھیرا روشنی میں تب کہیں تبدیل ہوتا ہے بچھڑتے ہی کسی سے ہو گیا احساس یہ ہم کو کہ رستا کس طرح اک میل کا سو میل ہوتا ہے یہ اونچے لوگ کھل کر مل نہیں سکتے کبھی تم سے سمندر بھی سمٹ کر کیا کہیں پر جھیل ہوتا ہے ہزاروں خون کی بوندیں فنا ہو جاتی ہیں جل کر تب اک آنسو کسی کی راہ کی قندیل ہوتا ہے مری حیرت میں ہوتا ہے اضافہ کس قدر نادرؔ وہ اک چہرہ کئی چہروں میں جب تحلیل ہوتا ہے
mere kaandhe pe kisi khvaab kaa sar rakkhaa rahaa
میرے کاندھے پہ کسی خواب کا سر رکھا رہا اور آنکھوں میں سحر ہونے کا ڈر رکھا رہا میں بھٹکتا ہی رہا بھوک کے صحراؤں میں میرے کمرے میں سجا میرا ہنر رکھا رہا کچھ ضرورت کے سبب مل تو گئے ہم دونوں دل پہ اک بوجھ بچھڑنے کا مگر رکھا رہا لو چراغوں کی ترے کپڑے جلا سکتی ہے چاند تاروں پہ ترا دھیان اگر رکھا رہا عمر بھر بھٹکے تمنا لیے نادرؔ گھر کی ایک کاغذ پہ مگر جیب میں گھر رکھا رہا
ik shahanshaah ke e'zaaz-o-laqab se aage
اک شہنشاہ کے اعزاز و لقب سے آگے عشق رہتا ہے ہر اک نام و نسب سے آگے کتنا کچھ چھوڑ کے آئے ہیں یہ معلوم کرو یہ نہ سوچو کہ کھڑے ہو گئے سب سے آگے میں زمانہ سے ملاقات تو کر لوں لیکن دل نکلتا ہی نہیں تیری طلب سے آگے اس قدر تیز نہ تھی آپ کی رفتار مگر ہو گئے آپ کسی اور سبب سے آگے یہ دعا کی تھی بھٹکنے سے بچا لے کوئی ایک آہٹ سی چلا کرتی ہے تب سے آگے
abhi yaqin ke mansab pe mat biThaao mujhe
ابھی یقین کے منصب پہ مت بٹھاؤ مجھے میں چاہتا ہوں ذرا اور آزماؤ مجھے کسے بتاؤں کہ اندر سے توڑ دیتا ہے کبھی کبھار یہ باہر کا رکھ رکھاؤ مجھے وہ جس کہانی کے آخر میں دونوں مل جائیں اگر ہو ذہن میں کوئی تو پھر سناؤ مجھے میں آئے دن کے خطابوں سے آ گیا ہوں تنگ جو ہو سکے تو مرے نام سے بلاؤ مجھے بہت سے خانوں میں تقسیم کر کے چھوڑے گا دل و دماغ کا نادرؔ یہ بھید بھاؤ مجھے





