bujhne nahin diyaa ise furqat ke baa'd bhi
yaadon se teri dil ko farozaan rakhaa sadaa
Zyesha Usmaan
Zyesha Usmaan
Zyesha Usmaan
Popular Shayari
13 totallog aaeinge bahut chhoD ke jaaeinge bahut
har kisi ko na kaleje se lagaa kar rakhiye
baDi viraani hai dil ke shajar par
mohabbat ke parinde uD gae kyaa
muflisi paanv ki zanjir thi aur
ru-ba-ru aa ke zarurat Thahri
kaisaa ye marhala hai ki ik dusre se ham
kahne ko aashnaa hain magar aashnaa nahin
har baat dil ki lab pe nahin laanaa laazmi
kuchh guftugu mein bhi adab aadaab chaahiye
Ghazalغزل
tire hi rahm-o-karam pe zinda tujhi se ghaafil the 'umr bhar ham
ترے ہی رحم و کرم پہ زندہ تجھی سے غافل تھے عمر بھر ہم ہمیں نے یارب یہ رہ چنی تھی تو کیوں نہ ہوتے یوں در بدر ہم جہاں نے ٹھکرا دیا ہو جس کو وہ پھر بھلا کس کے در پہ جاتے تری ہی جانب تھا لوٹ آنا سو آ گئے ہیں جھکائے سر ہم جو یاد آئیں خطائیں اپنی قصور اپنے گناہ اپنے جبیں ندامت سے جھک گئی ہے ہوئے ہیں اشکوں سے تربتر ہم نہ ہم کو فریاد کا سلیقہ نہ التجا کا شعور مولیٰ تو اپنے منگتوں کی لاج رکھ لے ہیں سر بہ سجدہ اس آس پر ہم
kis samt baDh rahe hain qadam kuchh pataa nahin
کس سمت بڑھ رہے ہیں قدم کچھ پتا نہیں تنہا سفر کا مجھ کو کوئی تجربہ نہیں اے دل دیار غیر سے واپس چلے چلو اس شہر میں ملے گا کوئی ہم نوا نہیں کیسا یہ مرحلہ ہے کہ اک دوسرے سے ہم کہنے کو آشنا ہیں مگر آشنا نہیں ہم کو ہی تیرے بعد نہ کچھ راس آ سکا دنیا میں دل لگانے کو ورنہ تھا کیا نہیں ایسے تو ٹوٹتے نہیں چاہت کے سلسلے پیہم بھلانے سے تو کوئی بھولتا نہیں اے خواب خوش نما تری حسرت بجا مگر آنکھوں کا خوش نمائی پہ اب حق رہا نہیں دل اک خزاں رسیدہ چمن ہے کہ جس میں پھر تا عمر آرزو کا کوئی گل کھلا نہیں
aankh mein ashk kaa jis tarh sitaara chamke
آنکھ میں اشک کا جس طرح ستارہ چمکے کاش اس طرح مقدر بھی ہمارا چمکے کوئی حسرت کوئی خواہش نہ ادھوری رہ جائے خواب چمکے جو اگر سارے کا سارا چمکے بجھ گئے جو بھی دیے وقت کی اس آندھی میں ان کی قسمت کا ستارہ بھی دوبارہ چمکے داغ جتنے بھی ملے تم سے مجھے الفت میں ہے دعا میری وہ ہر داغ تمہارا چمکے وہ ہو گلشن میں تو گلشن کی فضا روشن ہو وہ ہو منظر میں تو ہر ایک نظارہ چمکے زندگی تو نے دئے صرف خسارے ہم کو ہم خساروں کا مگر لے کے سہارا چمکے آنکھ ایسے ہی نہیں ہوتی ہے نم ہر لحظہ اس نے چاہا تھا کہ دریا کا کنارہ چمکے منتظر ہوں میں کسی روز دعاؤں کے عوض میرے دامن میں بھی قدرت کا اشارہ چمکے
koi na ham-safar na koi rahnumaa milaa
کوئی نہ ہم سفر نہ کوئی رہنما ملا جس سمت بھی گیا میں فقط نقش پا ملا اسرار اپنی ذات کے مجھ پر کھلے تمام جب آپ ہی میں اپنے مقابل کھڑا ملا پوچھا جو شمع سے تو اسے چپ سی لگ گئی بدلے میں روشنی کے تجھے کیا صلہ ملا دیکھا جو دل میں جھانک کے اس کے نشاں ملے اک آئنے میں اور بھی اک آئنہ ملا وہ مجھ سے مختلف تھا میں اس سے تھا مختلف پھر اس کے دل سے کیسے مرا دل یہ جا ملا کچھ خواہشیں تھیں شوق تھے تھوڑے سے خواب تھے کیا چاہیے تھا ہم کو مگر کیا سے کیا ملا شاید یہ زندگی کے ہی صدمات تھے کہ جو ہر شخص اپنے آپ سے بے حد خفا ملا
kyaa bataaun ki kyaa thaa aankhon mein
کیا بتاؤں کہ کیا تھا آنکھوں میں قہر کوئی بپا تھا آنکھوں میں ایک سناٹا سا تھا آنکھوں میں جیسے طوفاں چھپا تھا آنکھوں میں دل میں آتش فشاں تھا زخم کوئی اور دھواں اٹھ رہا تھا آنکھوں میں جس کے دم سے تھی روشنی وہ ہی خواب چبھنے لگا تھا آنکھوں میں درد ڈھلنے لگے تھے اشکوں میں ضبط ٹوٹا ملا تھا آنکھوں میں گزرے وقتوں کی ہر مسرت کا عکس دھندلا گیا تھا آنکھوں میں خوف مایوسی بے بسی وحشت کرب کا سلسلہ تھا آنکھوں میں





