tu khvaab hi mein sahi aa ke khud javaab to de
bujhi bujhi si miri aarzu ko aab to de

A. D. Azhar
A. D. Azhar
A. D. Azhar
Popular Shayari
7 totalna chheD ai shaikh ham yunhi bhale chal raah lag apni
tujhe to biviyaan sujhi hain ham bezaar baiThe hain
vo bulaate to hain mujh ko magar ai jazba-e-dil
shauq itnaa bhi na baDh jaae ki jaae na bane
thaa jis pe naaz kabhi ab vo aarzu na rahi
niyaaz-e-'ishq ki pahli si aabru na rahi
miri 'aashiqi sahi be-asar tiri dilbari ne bhi kyaa kiyaa
vahi main rahaa vahi be-dili vahi rang-e-lail-o-nahaar hai
vo kahte hain kuchh der hai faisle mein
ki 'ushshaaq ki 'arziyaan aur bhi hain
tujh se judaa hue to tiri yaad baDh gai
aazaad ho ke qaid ki mi'aad baDh gai
Ghazalغزل
ہمیں دعویٰ تھا دیکھیں گے وہ کیونکر یاد آتے ہیں رگ جاں بن گئے ہیں اب فزوں تر یاد آتے ہیں خفا تو مجھ سے رہتے ہیں مگر رہتے ہیں دل میں بھی میں اکثر بھولتا ہوں اور وہ اکثر یاد آتے ہیں بتوں کی بندگی ہے شکریہ صانع کی صنعت کا وہ کافر کیوں ہوا جس کو یہ دلبر یاد آتے ہیں مرا ماضی نظر آیا مجھے حال حسیں ہو کر جو ان کے ساتھ دیکھے تھے وہ منظر یاد آتے ہیں میں گلچیں تھا بہار زندگی کے گلستانوں کا جو دن پھولوں میں بیتے تھے وہ اکثر یاد آتے ہیں نشہ اترا مگر اب بھی تمہاری مست آنکھوں سے پیے تھے جو مئے الفت کے ساغر یاد آتے ہیں دیار دور میں میں تو نہیں آتا ہوں یاد ان کو نہ جانے وہ مجھے پھر کیوں برابر یاد آتے ہیں بس اب رہنے بھی دے سب بے نیازی دیکھ لی تیری تجھے اب تو وہ ہر مظہر میں اظہرؔ یاد آتے ہیں
hamein daa'vaa thaa dekheinge vo kyunkar yaad aate hain
41 views
کچھ بھی ان پر اثر نہیں دیکھا عشق سا بے ہنر نہیں دیکھا ان کے جوبن کو دیکھ لے جس نے سرو کو بارور نہیں دیکھا ایک بجلی نظر میں کوند گئی ان کو دیکھا مگر نہیں دیکھا جو کسی دوسرے کے ساتھ چلے ہم نے وہ ہم سفر نہیں دیکھا خاک چھانی جہان کی کیا کیا کوئی اہل نظر نہیں دیکھا ہم نے اظہرؔ کو لاکھ سمجھایا پھر بھی اس پر اثر نہیں دیکھا
kuchh bhi un par asar nahin dekhaa
41 views
یہ بات ان کی طبیعت پہ بار گزری ہے کہ زندگی مری کیوں خوشگوار گزری ہے خوشی سے زندگیٔ غم گزارنے والو خزاں تمہارے ہی دم سے بہار گزری ہے نہیں اٹھائے ہیں اپنوں کے بھی کبھی احساں ہزار شکر کہ بیگانہ وار گزری ہے دل غریب کو گھر کا ہوا نہ چین نصیب اسے تو عمر سر رہ گزار گزری ہے نشیمن اپنا ہے پھر برق و باد سے سرشار نئی بہار بھی کیا سازگار گزری ہے کوئی مسرت لذت مجھے نہ درد کا غم مری تو زیست ہی مستانہ وار گزری ہے یہ سادگی تو ذرا دیکھیے وہ پوچھتے ہیں کہ زندگی تری کیوں بے قرار گزری ہے میں اپنے دعوائے الفت سے آج باز آیا گزر گئی ہے مگر شرمسار گزری ہے
ye baat un ki tabi'at pe baar guzri hai
41 views





