"kis ko dekha un ki surat dekh kar ji men aata hai ki sajda kijiye"

Aasi Ghazipuri
Aasi Ghazipuri
Aasi Ghazipuri
Sherشعر
See all 18 →kis ko dekha un ki surat dekh kar
کس کو دیکھا ان کی صورت دیکھ کر جی میں آتا ہے کہ سجدا کیجیے
bimar-e-gham ki charagari kuchh zarur hai
بیمار غم کی چارہ گری کچھ ضرور ہے وہ درد دل میں دے کہ مسیحا کہیں جسے
vo yahan tak jo aa nahin sakte
وہ یہاں تک جو آ نہیں سکتے کیا مجھے بھی بلا نہیں سکتے
ishq kahta hai do-alam se juda ho jaao
عشق کہتا ہے دو عالم سے جدا ہو جاؤ حسن کہتا ہے جدھر جاؤ نیا عالم ہے
sub.h tak vo bhi na chhoDi tu ne ai bad-e-saba
صبح تک وہ بھی نہ چھوڑی تو نے اے باد صبا یادگار رونق محفل تھی پروانے کی خاک
vo phir va.ada milne ka karte hain yaani
وہ پھر وعدہ ملنے کا کرتے ہیں یعنی ابھی کچھ دنوں ہم کو جینا پڑے گا
Popular Sher & Shayari
36 total"bimar-e-gham ki charagari kuchh zarur hai vo dard dil men de ki masiha kahen jise"
"vo yahan tak jo aa nahin sakte kya mujhe bhi bula nahin sakte"
"ishq kahta hai do-alam se juda ho jaao husn kahta hai jidhar jaao naya aalam hai"
"sub.h tak vo bhi na chhoDi tu ne ai bad-e-saba yadgar-e-raunaq-e-mahfil thi parvane ki khaak"
"vo phir va.ada milne ka karte hain yaani abhi kuchh dinon ham ko jiina paDega"
vo khat vo chehra vo zulf-e-siyaah to dekho
ki shaam subh ke baad aae subh shaam ke baad
dard-e-dil kitnaa pasand aayaa use
main ne jab ki aah us ne vaah ki
tabiat ki mushkil-pasandi to dekho
hasinon se tark-e-vafaa chaahtaa huun
meri aankhein aur didaar aap kaa
yaa qayaamat aa gai yaa khvaab hai
vo kahte hain main zindagaani huun teri
ye sach hai to un kaa bharosaa nahin hai
vo phir vaada milne kaa karte hain yaani
abhi kuchh dinon ham ko jiinaa paDegaa
Ghazalغزل
qatra vahi ki ru-kash-e-dariyaa kahein jise
قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسے یعنی وہ میں ہی کیوں نہ ہوں تجھ سا کہیں جسے وہ اک نگاہ اے دل مشتاق اس طرف آشوب گاہ حشر تمنا کہیں جسے بیمار غم کی چارہ گری کچھ ضرور ہے وہ درد دل میں دے کہ مسیحا کہیں جسے اے حسن جلوۂ رخ جاناں کبھی کبھی تسکین چشم شوق نظارا کہیں جسے اس ضعف میں تحمل حرف و صدا کہاں ہاں بات وہ کہوں کہ نہ کہنا کہیں جسے یہ بخشش اپنے بندۂ ناچیز کے لیے تھوڑی سی پونجی ایسی کہ دنیا کہیں جسے ہم بزم ہو رقیب تو کیونکر نہ چھیڑئیے آہنگ ساز درد کہ نالا کہیں جسے پیمانۂ نگاہ سے آخر چھلک گیا سر جوش ذوق وصل تمنا کہیں جسے آسیؔ جو گل سے گال کسی کے ہوئے تو کیا معشوق وہ کہ سب سے نرالا کہیں جسے
usi ke jalve the lekin visaal-e-yaar na thaa
اسی کے جلوے تھے لیکن وصال یار نہ تھا میں اس کے واسطے کس وقت بے قرار نہ تھا کوئی جہان میں کیا اور طرح دار نہ تھا تری طرح مجھے دل پر تو اختیار نہ تھا خرام جلوہ کے نقش قدم تھے لالہ و گل کچھ اور اس کے سوا موسم بہار نہ تھا وہ کون نالۂ دل تھا قفس میں اے صیاد کہ مثل تیر نظر آسماں شکار نہ تھا غلط ہے حکم جہنم کسے ہوا ہوگا کہ مجھ سے بڑھ کے تو کوئی گناہ گار نہ تھا وفور بے خودیٔ بزم مے نہ پوچھو رات کوئی بجز نگہ یار ہوشیار نہ تھا لحد کو کھول کے دیکھو تو اب کفن بھی نہیں کوئی لباس نہ تھا جو کہ مستعار نہ تھا تو محو گل بن و گلزار ہو گیا آسیؔ تری نظر میں جمال خیال یار نہ تھا
tire kuche kaa rahnumaa chaahtaa huun
ترے کوچے کا رہ نما چاہتا ہوں مگر غیر کا نقش پا چاہتا ہوں جہاں تک ہو تجھ سے جفا چاہتا ہوں کہ میں امتحان وفا چاہتا ہوں خدا سے ترا چاہنا چاہتا ہوں میرا چاہنا دیکھ کیا چاہتا ہوں کہاں رنگ وحدت کہاں ذوق وصلت میں اپنے کو تجھ سے جدا چاہتا ہوں برابر رہی حد یار و محبت کسی کو میں بے انتہا چاہتا ہوں کہاں ہے تری برق جوش تجلی کہ میں ساز و برگ فنا چاہتا ہوں وہ جب کھو چکے مجھ کو ہستی سے اپنی تو کہتے ہیں اب میں ملا چاہتا ہوں جنون محبت میں پند عدو کیا بھلا میں کسی کا برا چاہتا ہوں طبیعت کی مشکل پسندی تو دیکھو حسینوں سے ترک وفا چاہتا ہوں جو دل میں نے چاہا تو کیا خاک چاہا کہ دل بھی تو بے مدعا چاہتا ہوں یہ حسرت کی لذت یہ ذوق تمنا شب وصل ان سے حیا چاہتا ہوں سوا اس کے میں کیا کہوں تم سے آسیؔ کہ درویش ہو تم دعا چاہتا ہوں
kuchh kahun kahnaa jo meraa kijiye
کچھ کہوں کہنا جو میرا کیجیے چاہنے والے کو چاہا کیجیے حوصلہ تیغ جفا کا رہ نہ جائے آئیے خون تمنا کیجیے فتنۂ روز قیامت ہے وہ چال آج وہ آتے ہیں دیکھا کیجیے کس کو دیکھا ان کی صورت دیکھ کر جی میں آتا ہے کہ سجدا کیجیے فتنے سب برپا کئے ہیں حسن نے میری الفت کو نہ رسوا کیجیے حور جنت ان سے کچھ بڑھ کر سہی ایک دل کیا کیا تمنا کیجیے کر دیا حیرت نے مجھ کو آئنہ بے تکلف منہ دکھایا کیجیے جوش میں آ جائے رحمت کی طرح ایک اک قطرہ کو دریا کیجیے نام اگر درکار ہے مثل نگیں ایک گھر میں جم کے بیٹھا کیجیے مل چکے اب ملنے والے خاک کے قبر پر جا جا کے رویا کیجیے کون تھا کل باعث بے پردگی آپ مجھ سے آج پردا کیجیے کل کی باتوں میں تو کچھ نرمی سی ہے آج پھر قاصد روانا کیجیے راہ تکتے تکتے آسیؔ چل بسا کیوں کسی سے آپ وعدا کیجیے
na mere dil na jigar par na dida-e-tar par
نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پر کرم کرے وہ نشان قدم تو پتھر پر تمہارے حسن کی تصویر کوئی کیا کھینچے نظر ٹھہرتی نہیں عارض منور پر کسی نے لی رہ کعبہ کوئی گیا سوئے دیر پڑے رہے ترے بندے مگر ترے در پر گناہ گار ہوں میں واعظو تمہیں کیا فکر مرا معاملہ چھوڑو شفیع محشر پر ان ابروؤں سے کہو کشتنی میں جان بھی ہے اسی کے واسطے خنجر کھنچا ہے خنجر پر پلا دے آج کہ مرتے ہیں رند اے ساقی ضرور کیا کہ یہ جلسہ ہو حوض کوثر پر صلاحیت بھی تو پیدا کر اے دل مضطر پڑا ہے نقش کف پائے یار پتھر پر وفور جوش ضیا اور ان کے دانتوں کا حباب گنبد گردوں ہے آب گوہر پر اخیر وقت ہے آسیؔ چلو مدینے کو نثار ہو کے مرو تربت پیمبر پر
vo kyaa hai tiraa jis mein jalva nahin hai
وہ کیا ہے ترا جس میں جلوا نہیں ہے نہ دیکھے تجھے کوئی اندھا نہیں ہے کہاں دامن حسن عاشق سے اٹکا گل داغ الفت میں کانٹا نہیں ہے کیا ہے وہاں اس نے پیمان فردا یہاں ہے وہ شب جس کو فردا نہیں ہے وہ کہتے ہیں میں زندگانی ہوں تیری یہ سچ ہے تو ان کا بھروسا نہیں ہے مری زیست کیوں کر نہ ہو جاودانی جو مرتا ہے اس پر وہ مرتا نہیں ہے وہی خاک اڑانا وہی گردشیں ہیں یہ مانا کہ عاشق بگولا نہیں ہے گلو گیر ہے ان بھوؤں کا تصور گریبان میں اپنے کنٹھا نہیں ہے ان آنکھوں کو جب سے بصارت ملی ہے سوا تیرے کچھ میں نے دیکھا نہیں ہے مری حسرتیں اس قدر بھر گئی ہیں کہ اب تیرے کوچے میں رستا نہیں ہے وہ دل کیا جو دلبر کی صورت نہ پکڑے وہ مجنوں نہیں ہے جو لیلیٰ نہیں ہے کمال ظہور تجلی سے جانا جو پنہاں نہیں ہے وہ پیدا نہیں ہے





