SHAWORDS
Abdul Majeed Hairat

Abdul Majeed Hairat

Abdul Majeed Hairat

Abdul Majeed Hairat

poet
7Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

7 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کس نے ان کا شباب دیکھا ہے جس نے دیکھا ہے خواب دیکھا ہے آسماں پر ابھی تو دنیا نے ایک ہی آفتاب دیکھا ہے دیکھنے کو تو حسن ہم نے بھی اک سے اک انتخاب دیکھا ہے چند ذی قلب تھے جنہیں ہم نے صرف صد اضطراب دیکھا ہے سننے والے بھی جس کو سن نہ سکیں ہم نے وہ انقلاب دیکھا ہے جب سے بدلی ہے وہ نگاہ کرم ہر نظر میں عتاب دیکھا ہے ایک دنیا کو ہم نے اپنے خلاف برسر احتساب دیکھا ہے پھر جواب الجواب دے نہ سکا جس نے ان کا جواب دیکھا ہے اس طرف ان کا التفات تو کیا ہاں مگر اجتناب دیکھا ہے ہم نے دل دادگان الفت کا حال اکثر خراب دیکھا ہے ہم نے اپنا تو جذب دل حیرتؔ شاذ ہی کامیاب دیکھا ہے

kis ne un kaa shabaab dekhaa hai

41 views

غزل · Ghazal

مرہم زخم جگر ہو جائے ایک ایسی بھی نظر ہو جائے اک اشارہ بھی اگر ہو جائے اس شب غم کی سحر ہو جائے صبح یہ فکر کہ ہو جائے شام شام کو یہ کہ سحر ہو جائے ہو نہ اتنا بھی پریشاں کوئی کہ زمانے کو خبر ہو جائے یوں تو جو کچھ بھی کسی پر گزرے دل نہ افسردہ مگر ہو جائے فکر فردا بھی کریں گے حیرتؔ پہلے یہ شب تو بسر ہو جائے

marham-e-zakhm-e-jigar ho jaae

41 views

غزل · Ghazal

ایماں نواز گردش پیمانہ ہو گئی ہم سے بھی ایک لغزش مستانہ ہو گئی کوئی تو بات شمع کے جلنے میں تھی ضرور جس پر نثار ہستیٔ پروانہ ہو گئی صد شکر آج ہو تو گئی ان سے گفتگو یہ اور بات ہے کہ حریفانہ ہو گئی اللہ رے اشک بارئ شمع شب فراق جو صبح ہوتے ہوتے اک افسانہ ہو گئی حیرتؔ کے غم کدے میں خوشی کا گزر کہاں آپ آ گئے تو رونق کاشانہ ہو گئی

imaan-navaaz gardish-e-paimaana ho gai

41 views

غزل · Ghazal

عہد رفاقت کس نے توڑا کس نے کس کو پیچھے چھوڑا بگڑی بات بنائی کس نے ٹوٹا رشتہ کس نے جوڑا مضموں یہ بھی غور طلب ہے کس نے کس کا خون نچوڑا ظالم ہی ظالم تھا جس نے دل سا نازک شیشہ توڑا دل پر تھا اک ناز سو وہ بھی بن گیا دکھتے دکھتے پھوڑا لفظ ہی گل پاشی کرتے ہیں لفظ ہی بن جاتے ہیں کوڑا ان کی منطق کا کیا کہنا آگے گاڑی پیچھے گھوڑا چلتی گاڑی میں کیا کہیے جب کوئی اٹکائے روڑا آبادی کو ہوش نہ آیا بربادی نے لاکھ جھنجھوڑا اپنوں کی بے راہروی پر جتنا بھی ماتم ہو تھوڑا یہ الزام غلط ہے حیرتؔ ہم نے وفا سے کب منہ موڑا

‘ahd-e-rifaaqat kis ne toDaa

41 views

غزل · Ghazal

وہ جسے دیدہ وری کہتے ہیں ہم اسے بے بصری کہتے ہیں نام اس کا ہے اگر با خبری پھر کسے بے خبری کہتے ہیں یہ اگر لطف و کرم ہے تو کسے جور و بے دادگری کہتے ہیں کیا اسی کار‌ نظر بندی کو حسن کی جلوہ گری کہتے ہیں گل کے اوراق پہ کانٹوں کا گماں کیا اسے خوش نظری کہتے ہیں بہر بیمار دوا ہے نہ دعا کیا اسے چارہ گری کہتے ہیں کم کسی کو یہ خبر ہے کہ کسے رنج بے بال و پری کہتے ہیں یاس و حرماں کو بہ الفاظ دگر آہ کی بے اثری کہتے ہیں نام ہے وہ بھی جگر داری کا ہم جسے بے جگری کہتے ہیں آپ خود بھی تو گل انداموں کو حور کہتے ہیں پری کہتے ہیں فصل گل ہی تو ہے وہ ہم جس کو موسم جامہ دری کہتے ہیں عشق میں عین ہنر مندی ہے سب جسے بے ہنری کہتے ہیں مفت کی درد سری کو ہم بھی مفت کی درد سری کہتے ہیں آپ سے ہم سے بنی ہے نہ بنے آپ خشکی کو تری کہتے ہیں کیا کوئی بات کبھی اہل جنوں از رہ ناموری کہتے ہیں ہم پہ یہ بھی ہے اک الزام کہ ہم داستاں درد بھری کہتے ہیں کوئی خوش ہو کہ خفا ہو حیرتؔ ہم تو ہر بات کھری کہتے ہیں

vo jise dida-vari kahte hain

40 views

غزل · Ghazal

مدتوں دیکھ لیا چپ رہ کے آؤ کچھ ان سے بھی دیکھیں کہہ کے اس تغافل پہ بھی اللہ اللہ یاد آتا ہے کوئی رہ رہ کے ہے روانی کی بھی حد اک آخر موج جائے گی کہاں تک بہہ کے سچ تو یہ ہے کہ ندامت ہی ہوئی راز کی بات کسی سے کہہ کے

muddaton dekh liyaa chup rah ke

40 views

Similar Poets