SHAWORDS
Abdul Majeed Khan Majeed

Abdul Majeed Khan Majeed

Abdul Majeed Khan Majeed

Abdul Majeed Khan Majeed

poet
10Shayari
39Ghazal

Popular Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 39
غزل · Ghazal

چپکے چپکے یاد یہ کس کی آئی ہے درد میں ڈوبی آج مری تنہائی ہے جس نے کیا برباد ہمارے گلشن کو غیر نہیں ہے وہ اپنا ہی بھائی ہے کون ہے اپنا کون پرایا کیسی وفا سچ کہنے میں اپنی ہی رسوائی ہے اپنی غرض کے بندے ہیں سب لوگ یہاں سب کا مقصد جگ میں خود آرائی ہے کس کی ہوئی ہے جو تیری میری ہوگی یہ دنیا تو یگ یگ سے ہرجائی ہے لوٹ کے پیچھے جانا بھی ہے نا ممکن آگے دشمن پیچھے گہری کھائی ہے اونچی اونچی باتیں کیوں کرتا ہے مجیدؔ سستی شہرت کا تو بھی شیدائی ہے

chupke chupke yaad ye kis ki aai hai

43 views

غزل · Ghazal

کیا روش اختیار کر بیٹھے بے وفاؤں سے پیار کر بیٹھے جو سمجھتے نہیں ہیں دل کی زباں ان پہ ہم دل نثار کر بیٹھے ہجر کی رات کاٹے کٹتی نہیں ایک پل کو ہزار کر بیٹھے تاب نظارہ کب تھی آنکھوں میں پھر بھی ضد بار بار کر بیٹھے ان کا وعدہ تو صرف وعدہ تھا جس پہ ہم اعتبار کر بیٹھے جانے والے نہ آئیں گے ہرگز لوگ کیوں انتظار کر بیٹھے کر کے اظہار حال ان سے مجیدؔ خود کو ہم شرمسار کر بیٹھے

kyaa ravish ikhtiyaar kar baiThe

42 views

غزل · Ghazal

بھولا ہوا الفت کا سبق یاد کریں ہم اس اجڑے چمن کو چلو آباد کریں ہم یہ خون میں ڈوبے ہوئے بربادی کے قصے تاریخ سے اب ختم یہ روداد کریں ہم ماضی کے فسانے ہیں مذاہب کے یہ جھگڑے ان باتوں میں کیوں وقت کو برباد کریں ہم لوگوں کی ترقی کا نیا راستہ ڈھونڈیں بربادی کا سامان کیوں ایجاد کریں ہم اے میرے خدا تو ہی بچا ارض وطن کو اب جا کے کہاں شکوۂ بیداد کریں ہم

bhulaa huaa ulfat kaa sabaq yaad karein ham

42 views

غزل · Ghazal

شیشۂ دل کو فضا میں نہ اچھالو یارو ٹوٹ کر اس کو بکھرنے سے بچا لو یارو جسم کے زخم تو بھر جائیں گے وقت آنے پر روح زخمی ہے علاج اس کا نکالو یارو کوئے قاتل میں بلاوا ہے بصد شان چلو آج زخموں سے بدن اپنا سجا لو یارو زیست کی تلخ نوائی ہے مرے شعروں میں بے تکی کہہ کے مری بات نہ ٹالو یارو کلفت زیست سے مل جائے گی فرصت تم کو میرے اشعار کو ہونٹوں سے لگا لو یارو

shisha-e-dil ko fazaa mein na uchhaalo yaaro

42 views

غزل · Ghazal

رہ وفا میں بصد شوق جب بھی ہم نکلے قدم قدم پہ سبھی مائل ستم نکلے نہیں یہ گیسوئے جاناں یہ زلف گیتی ہے ہر ایک بیچ میں پنہاں ہزاروں خم نکلے انا پسندیٔ فطرت کو اب قرار کہاں بہشت چھوڑ کے مشکل سفر پہ ہم نکلے ملی نہ منزل جاناں رکھے نہ پائے طلب قدم قدم پہ مقدر کے پیچ و خم نکلے جنون شوق میں جن کو سمجھ رہا تھا خدا پڑا جو وقت تو مٹی کے وہ صنم نکلے تمام عمر چلے ساتھ پھر بھی ساتھ تھے کب مجیدؔ خوب تمہارے یہ ہم قدم نکلے

rah-e-vafaa mein ba-sad-shauq jab bhi ham nikle

42 views

غزل · Ghazal

جن کے لیے زمانے کا ہم زہر پی چلے ہو کر وہ بد گمان بصد بے رخی چلے کچھ دیر ٹھہریے کہ ذرا دل کی بات ہو آئے ابھی ابھی ہیں جناب اور ابھی چلے گھر سے نکل کے ہم تو سر دشت آ گئے دیکھیں کہاں تلک یہ غم عاشقی چلے جیسے کبھی بھی ہم سے کوئی واسطہ نہ ہو وہ چل رہے ہیں جیسے کوئی اجنبی چلے ہم رہروان شوق کو منزل سے کیا غرض ہم کو جدھر تمہاری ڈگر لے چلی چلے اپنے لہو سے خوب ہوئے سرخ رو مجیدؔ ہم پر ہزار سنگ ستم آج بھی چلے

jin ke liye zamaane kaa ham zahr pi chale

42 views

Similar Poets