SHAWORDS
Abdul Mannan Samadi

Abdul Mannan Samadi

Abdul Mannan Samadi

Abdul Mannan Samadi

poet
7Sher
7Shayari
18Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

kaise ruk saktaa thaa jo kaar-e-ziyaan hone ko thaa

کیسے رک سکتا تھا جو کار زیاں ہونے کو تھا یعنی سب کچھ طے شدہ تھا جو یہاں ہونے کو تھا کچھ بدن کے تھے تقاضے کچھ شرارت دل کی تھی آج لیکن عشق اپنا جاوداں ہونے کو تھا ہاں وہی جو شخص مجھ سے بغض رکھتا ہے بہت رات میری ذات پر وہ مہرباں ہونے کو تھا میں نے ہی الفاظ میں اس کو مقید کر لیا ورنہ وہ لمحہ تو کل ہی رائیگاں ہونے کو تھا میں نے کل اشکال سارے ختم اس کے کر دئے ورنہ میری ذات سے وہ بد گماں ہونے کو تھا

غزل · Ghazal

dosto zindagi amaanat hai

دوستو زندگی امانت ہے سانس لینا بھی اک عبادت ہے وہ کہاں ہیں ہمیں نہیں معلوم جن کو انسان سے محبت ہے صاف کہنے میں شرم کیسی ہے آپ کو ہم سے کیا شکایت ہے صبح تا شام ایک ہنگامہ ملنے جلنے کی کس کو فرصت ہے حال احوال کیا بتائیں ہم کوئی تکلیف ہے نہ راحت ہے

غزل · Ghazal

zindagi tujh se pyaar kyaa karte

زندگی تجھ سے پیار کیا کرتے خواب کا اعتبار کیا کرتے تجھ کو فرصت نہیں تھی ملنے کی ہم ترا انتظار کیا کرتے جو بھی اپنے تھے ساتھ چھوڑ گئے غیر کا اعتبار کیا کرتے کس کو چاہت تھی چارہ سازی کی زخم اپنے شمار کیا کرتے راز کوئی نہیں تھا سینے میں تجھ پہ ہم آشکار کیا کرتے

غزل · Ghazal

kisi ke chhuT jaane kaa use kyon gham nahin hotaa

کسی کے چھوٹ جانے کا اسے کیوں غم نہیں ہوتا ترا دل ہے کہ پتھر ہے کبھی جو نم نہیں ہوتا پرندے گنگناتے ہیں تمہارے شہر میں لیکن ہمارے شہر کا ایسا کبھی موسم نہیں ہوتا بظاہر جگنوؤں کی روشنی سے گھر تو روشن ہے مگر پھر بھی مرے گھر کا اندھیرا کم نہیں ہوتا خدا سے گر تجھے مانگا نہیں ہوتا دعاؤں میں تجھے کھونے کا پھر ہم کو ذرا بھی غم نہیں ہوتا نگاہوں نے ہماری ایک منظر وہ بھی دیکھا ہے جہاں اپنوں کے مرنے کا کوئی ماتم نہیں ہوتا

غزل · Ghazal

haqiqat mein mare hain kuchh kahaani mein mare hain

حقیقت میں مرے ہیں کچھ کہانی میں مرے ہیں مگر سب خواب الفت کے جوانی میں مرے ہیں پرندے سب نہیں زندان میں مارے گئے ہیں قفس میں کچھ تو کچھ نقل مکانی میں مرے ہیں ملی ہے موت کچھ خاموش رہنے کے سبب بھی مگر کچھ لوگ تو شعلہ بیانی میں مرے ہیں جہاں کچھ لوگ میری بد زبانی سے پریشاں وہیں کچھ لوگ میری بے زبانی میں مرے ہیں ہماری تم فقط آتش بیانی سے خفا ہو مگر ہم تو تمہاری بد گمانی میں مرے ہیں

غزل · Ghazal

khabar kuchh nahin mujh ko miraa anjaam kyaa hogaa

خبر کچھ نہیں مجھ کو مرا انجام کیا ہوگا وہی ہوگا جو ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا ہوگا تماشا جو دکھانا تھا وہی سب کو دکھا آئے نہیں اس سے غرض کوئی کسی نے کیا کہا ہوگا اک ایسا وقت بھی آئے گا اس دور تعلق میں ہمارے اور اس کے درمیاں اک فاصلہ ہوگا ابھی سے دھوپ کی شدت سے خائف ہیں جہاں والے سوا نیزے پہ جس دن آ گیا سورج تو کیا ہوگا سنو اب حرف گیری کا نہیں ہے فائدہ کچھ بھی کہ جو تم نے کہا ہوگا وہی ہم نے سنا ہوگا

Similar Poets